en

14396: ميت كے اہل خانہ كى تعزيت كے ليے جمع ہونے كا حكم


اب بہت سے لوگ يہ كرتے ہيں كہ جب ان كے ہاں كوئى فوت ہو جاتا ہے تو اس كے گھر والے ايك گھر ميں جمع ہو جاتے ہيں اور لوگ ان كے پاس تعزيت كرنے آتے ہيں، اور بعض اوقات يہ اجتماع كسى بڑے ہال ميں ہوتا ہے اور بعض اوقات ٹينٹ لگائے جاتے ہيں، اس فعل كا حكم كيا ہے ؟

Published Date: 2008-03-24

الحمد للہ:

سلف صالح رحمہ اللہ كے دور ميں تعزيت كرنے والوں كا استقبال كرنے كے ليے ميت كے گھروالوں كا ايك گھر ميں ہى رہنا معروف عمل نہيں تھا، اور اسى ليے بعض علماء كرام نے اسے بدعت كہا ہے.

الاقناع اور اس كى شرح ميں ہے كہ:

اور اس كے ليے بيٹھنا مكروہ ہے - يعنى تعزيت كے ليے اہل ميت كسى ايك مكان اور جگہ ميں اكٹھے ہو كر بيٹھيں تا كہ ان سے تعزيت كى جائے، اور جب ميت كے گھر والوں كے ليے كھانا پكانے كے حكم كا ذكر كيا تو كہا:

كھانا پكانے ميں يہ نيت ہو كہ كھانا ميت كے اہل وعيال كے ليے ہے، نہ كہ ان كے پاس جمع ہونے والوں كے ليے، اگر جمع ہونے والوں كے ليے نيت كى تو يہ مكروہ ہے، كيونكہ يہ برائى ميں معاونت ہے، جو كہ لوگوں كا ميت كے گھروالوں كے پاس اكٹھے ہونا ہے.

مروزى رحمہ اللہ نے امام احمد رحمہ اللہ تعالى سے نقل كيا ہے:

يہ جاہليت كے افعال ميں سے ہے، اور انہوں نے اسے شديد ناپسند كيا، پھر جرير بن عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث نقل كي ہے كہ:

وہ بيان كرتے ہيں كہ: ہم ميت كے گھر والوں كے پاس جمع ہونے، اور ميت كے دفن كرنے كے بعد كھانا پكانے كو نوحہ ميں شمار كرتے تھے.

اور امام نووى رحمہ اللہ تعالى المھذب كى شرح ميں كہتے ہيں:

اور تعزيت كے ليے بيٹھنے كے بارہ ميں امام شافعى اور مصنف اور سب ساتھيوں نے مكروہ كہا ہے، اور ابو حامد رحمہ اللہ تعالى نے التعليق اور دوسروں نے امام شافعى سے بيان كيا ہے كہ:

يعنى تعزيت كے ليے بيٹھنا كہ ميت كے گھر والے ايك بيت ميں تعزيت كے آنے والوں كے ليے جمع ہو كر بيٹھيں،يہ مكروہ ہے.

ان كا كہنا ہے كہ: بلكہ انہيں چاہيے كہ وہ اپنے كام كاج پر جائيں اور جو انہيں مل جائے اس سے تعزيت كرليں. اھـ

پھر ميت كے گھر والوں كا تعزيت كے ليے آنے والوں كے ليے دروازہ كھولنے كا مطلب يہ ہوا كہ وہ لوگوں سے زبان حال كے ساتھ يہ كہہ رہے ہيں كہ: لوگوں ہميں تكليف پہنچى ہے ہمارے ساتھ تعزيت كرو اور ہميں تسلى دو...

اور ان كا اخبارات اور مجلات ميں تعزيت كى جگہ كا اعلان كرنا بھى ايك زبانى دعوت ہے.

ديكھيں: 70 سوالا فى احكام الجنائز فضيلۃ الشيخ محمد صالح عثيمين صفحہ نمبر ( 53 ).
Create Comments