146100: جن حالات ميں بيوى پر تنگى كرنا جائز ہے تا كہ وہ مہر كا فديہ دے كر جان چھڑائے


كيا مطلاق بيوى كو تنگ و مجبور كرنا حرام ہے ؟
اور اگر بيوى برے اخلاق كى مالك ہو اور خاوند كے حقوق ادا نہ كرتى ہو تو كيا خاوند كے ليے جائز ہے كہ وہ بيوى كو تنگ كر كے مجبور كرے كہ وہ سارا يا كچھ مہر دے كر خلع حاصل كرے لے ؟
اور درج ذيل آيات ميں ہم كيسے جمع كريں گے:
{ اور تم انہيں اس ليے نہ روك ركھو كہ تم نے انہيں جو كچھ ديا ہے اس ميں سے كچھ لے لو، مگر اس صورت ميں كہ وہ كھلم كھلا بے حيائى و فحاشى كا ارتكاب كريں }.
اور فرمان ربانى ہے:
{ اور اگ تم كسى بيوى كى جگہ اور بيوى بدل كر لانے كا ارادہ كرو اور تم ان ميں سے كسى ايك بيوى كو خزانہ دے چكے ہو تو اس ميں سے كچھ بھى واپس نہ لو، كيا تم اسے بہتان لگا كر اور صريح گناہ كر كے لو گے، اور تم اسے كيسے لو گے ب كہ تم ايك دوسرے سے صحبت كر چكے ہو اور وہ تم سے پختہ عہد لے چكى ہے }.
اور ارشاد بارى تعالى ہے:
{ اور انہيں تكليف دينے كے ليے نہ روكے ركھو تا كہ ان پر زيادتى كرو }. اور درج ذيل قائل كے قول كا رد كيا ہو گا:
خاوند كو حق حاصل نہيں كہ وہ بيوى سے مہر واپس دينے كا مطالبہ كرے، كيونكہ اس پر جو حرام تھا وہ اس مہر كى بنا پر حلال كيا تو وہ اپنا حق لے چكا ہے، اس ليے اس كے بعد خاوند كے ليے مہر كيسے حلال ہو سكتا ہے ؟

Published Date: 2013-01-19

الحمد للہ:

اول:

عضل: بيوى پرتنگى كرنے كو عضل كہا جاتا ہے تا كہ وہ اپنى خلاصى كرانے كے ليے مال بطور فديہ دے، اس عضل كى تفصيل درج ذيل ہے:

اگر بيوى كوئى فحش و بے حيائى والا كام كرے يا پھر كوئى فرض ترك كر دے يا بيوى بددماغ ہو اور خاوند كى اطاعت نہ كرے تو خاوند اس پر تنگى كر سكتا ہے تا كہ وہ خلع حاصل كرنے كے ليے فديہ دے.

اگر ان امور و اسباب ميں سے كوئى بھى بيوى ميں نہ پايا جاتا ہو تو پھر عضل يعنى اسے تنگ كرنا حرام ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اے لوگو جو ايمان لائے ہو! تمہارے ليے حلال نہيں كہ زبردستى عورتوں كے وارث بن جاؤ اور تم انہيں اس ليے مت روك ركھو كہ تم نے انہيں جو كچھ ديا ہے اس ميں سے كچھ لے لو، مگر اس صورت ميں كہ وہ كھلم كھلا بے حيائى كا ارتكاب كريں، اور ان كے ساتھ اچھے طريقے سے رہو، پھر اگر تم انہيں ناپسند كرو تو ہو سكتا ہے كہ تم ايك چيز ناپسند كرو اور اللہ اس ميں بہت بھلائى ركھ دے }النساء ( 19 ).

يہاں فحاشى كے الفاظ عام ہيں جس ميں زنا كارى اور نافرمانى اور زبان درازى اور بددماغى سب شامل ہونگے؛ اس كى تفصيل آگے بيان ہو رہى ہے.

ابن كثير رحمہ اللہ نے زيد بن اسلم سے نقل كيا ہے كہ:

{ اے لوگو جو ايمان لائے ہو! تمہارے ليے حلال نہيں كہ زبردستى عورتوں كے وارث بن جاؤ }.

اہل يثرب كے ہاں دور جاہليت ميں جب كوئى آدمى مر جاتا تو مال كا وارث بننے والا شخص ميت كى بيوى كا بھى وارث ہوتا، اور وہ اسے روكے ركھتا حتى كہ اس كا وارث بن جاتا يا پھر جس سے چاہتا اس كى شادى كر ديتا.

اور اہل تہامہ كے ہاں مرد اپنى بيوى كے ساتھ برى صحبت كرتا حتى كہ اسے طلاق اس شرط پر ديتا كہ وہ شادى اس شخص سے ہى كريگى جس سے وہ چاہےگا، حتى كہ اس نے جو مہر ديا ہوتا اس ميں سے كچھ دے كر جان چھڑاتى.

چنانچہ اللہ سبحانہ و تعالى نے مومنين كو ايسا كرنے سے منع فرما ديا" رواہ ابن ابى حاتم.

پھر ابن كثير رحمہ اللہ كہتے ہيں:

اور اللہ تعالى كا فرمان:

{ اور تم انہيں اس ليے مت روك ركھو كہ تم نے انہيں جو كچھ ديا ہے اس ميں سے كچھ لے لو }.

يعنى تم انہيں رہن سہن ميں تنگ مت كرو تا كہ آپ نے اسے جو مہر ديا ہے وہ تنگ ہو كر سارا يا اس ميں كچھ تمہارے ليے چھوڑ دے، يا اس كے علاوہ اپنے كسى حق سے دستبردار ہو جائے، يا زبردستى و قہر كى بنا پر كچھ تمہيں دے دے.

اور على بن ابو طلحہ ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كرتے ہيں كہ:

{ اور تم انہيں مت روكے ركھو }.

يعنى تم انہيں تنگ مت كرو .

{ تا كہ تم نے انہيں جو كچھ ديا ہے اس ميں سے كچھ لے لو }.

يعنى: ايك شخص كى بيوى ہو اور وہ اس كے ساتھ رہنا ناپسند كرتا ہو، اور بيوى كو مہر بھى دے ركھا ہو تو وہ اسے اس ليے تنگ كرنا شروع كر دے تا كہ وہ عورت مہر كا فديہ دے كر اپنى جان چھڑائے، ضحاك اور قتادہ كے علاوہ كئى ايك كا قول بھى يہى ہے، اور ابن جرير رحمہ اللہ نے بھى يہى اختيار كيا ہے...

اور فرمان بارى تعالى:

{ مگر اس صورت ميں كہ وہ كھلم كھلا بے حيائى كا ارتكاب كريں }.

ابن مسعود اور ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما اور سعيد بن مسيب، امام شعبى، حسن بصرى، محمد بن سيرين، سعيد بن ابى ہلال، سعيد بن جبير، مجاہد، عكرمہ، عطاء خراسانى، ضحاك، ابو قلابہ، ابو صالح، سدى، زيد بن اسلم اس سے مراد زنا ليتے ہيں.

يعنى جب بيوى زنا كارى كا ارتكاب كرے تو آپ كو حق ہے كہ جو مہر آپ نے اسے ديا ہے وہ اس سے واپس لے لو، اور تم اسے تنگ كرو حتى كہ وہ تم سے خلع حاصل كر لے.

جيسا كہ اللہ سبحانہ و تعالى نے سورۃ البقرۃ ميں ارشاد فرمايا ہے:

{ اور تمہارے ليے حلال نہيں كہ اس ميں سے جو تم نے انہيں ديا ہے كچھ بھى لو، مگر يہ كہ وہ دونوں ڈريں كہ وہ دونوں اللہ كى حدود قائم نہيں ركھ سكيں گے، پھر اگر تم ڈرو كہ وہ دونوں اللہ كى حديں قائم نہيں ركھيں گے تو ان دونوں پر اس ميں كوئى گناہ نہيں جو عورت اپنى جان چھڑانے كے بدلے ميں دے دے } البقرۃ ( 229 ).

ابن عباس، عكرمہ، ضحاك كا قول ہے كہ: واضح فحش كام سے مراد بددماغى و نافرمانى ہے.

اور ابن جرير رحمہ اللہ كا اختيار عام ہے وہ كہتے ہيں كہ اس ميں زنا و نافرمانى و بددماغى اور زبان درازى وغيرہ سب شامل ہيں، يعنى يہ سب ايسے اسباب ہيں جن كى بنا پر بيوى كو تنگ كر كے اس سے سارے يا كچھ حق كى دستبردارى كرائى جا سكتى ہے، وہ حق لے كر اسے چھوڑ دے، يہ قول اچھا ہے " واللہ اعلم " انتہى

ديكھيں: تفسير ابن كثير ( 2 / 240 ).

اور زاد المستقنع ميں درج ہے:

" چنانچہ اگر عورت كو ظلم كرتے ہوئے روكے ركھے كہ وہ فديہ دے كر جان چھڑائے، اور يہ روكنا اس كے زنا يا بددماغى يا نافرمانى كى بنا پر نہ ہو، يا اسے فرض ترك كرنے كى وجہ سے چھوڑا تو اس نے فرض پر عمل كر ليا، يا چھوٹى بچى اور مجنونہ و پاگل اور بے وقوف نے خلع كيا، يا مالك كى اجازت كے بغير لونڈى نے خلع كر ليا تو اس كا خلع صحيح نہيں ہو گا "

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ اس كى شرح كرتے ہوئے كہتے ہيں:

" قولہ: اس كے زنا يا بددماغى كى بنا پر نہ ہو "

اگر اس حالت ميں خلع كرے تو يہ خلع صحيح نہيں ہو گا، كيونكہ خاوند نے بيوى كو ايسا كرنے پر مجبور كيا ہے.

اور اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان تو يہ ہے:

{ اور تم انہيں اس ليے مت روك ركھو كہ تم نے انہيں جو كچھ ديا ہے اس ميں سے كچھ لے لو، مگر اس صورت ميں كہ وہ كھلم كھلا بے حيائى كا ارتكاب كريں }النساء ( 19 ).

اس ليے اگر مرد بغير كسى سبب كے ايسا كرے، مثلا كوئى شخص لالچى ہو اور اللہ كا ڈر نہ ركھتا ہو، اور نہ ہى مخلوق پر رحم كرنے والا ہو، وہ اس بيوى سے محبت نہيں كرتا، ( اعوذ باللہ ) بلكہ كہتا ہے ميرا مال ضائع نہيں ہونا چاہيے، اس ليے وہ بيوى كو تنگ كرنا شروع كر دے اور اس كا حق ادا نہ كرے اور بستر ميں بھى اس سے بائيكاٹ كر دے تا كہ بيوى فديہ دے كر اپنى جان چھڑائے، ايسے شخص كے متعلق ہم كہيں گے: آپ پر يہ حرام ہوگا؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى نے ايسا كرنے سے منع فرمايا ہے.

قولہ:

اور نہ ہى بيوى كے زنا كى وجہ سے ہو "

اس ليے اگر زناكارى كى بنا پر تو نہيں؛ ليكن وہ ٹيلى فون پر نوجوانوں سے باتيں كرتى، يا اس طرح كا كوئى اور سبب ہو تو ہم كہيں گے: يہ برے اخلاق ميں شامل ہوتا ہے جس كى بنا پر اس كے ليے روكنا مباح ہے تا كہ وہ فديہ دے كر اپنى جان چھڑائے ؟

جى ہاں مصنف كے قول: " اس كے زنا كى وجہ سے " كو ہم شامل و عام زنا ميں ركھيں گے جس ميں نظر و سماعت اور ہاتھ پاؤں كا زنا شامل ہے؛ جيسا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے صحيح حديث ميں خبر ديتے ہوئے فرمايا:

" يقينا آنكھ زنا كرتى ہے، اور كان بھى زنا كرتا ہے، اور ہاتھ بھى زنا كرتا ہے، اور پاؤں بھى زنا كرتا ہے "

اور يہ شخص كہتا ہے ميں ايسى عورت كو برداشت نہيں كر سكتا اور ايسى حالت پر صبر نہيں كر سكتا، چنانچہ وہ اس پر تنگى كرتا ہے تا كہ وہ فديہ دے كر اپنى جان چھڑائے تو يہ جائز ہے.

اور اگر كوئى قائل يہ كہے كہ:

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان تو يہ ہے:

{ مگر اس صورت ميں كہ وہ كھلم كھلا بے حيائى كا ارتكاب كريں }.

كلام اور نظر تو فحاشى ميں شامل نہيں ہوتى ؟

تو ہم كہيں گے: يہ اشياء فحاشى كا وسيلہ ہيں، پھر بہت سارے لوگ غيرت مند ہوتے ہيں, وہ پسند نہيں كرتے كہ ان كى بيوى كسى غير مرد سے باتيں كرے، يا اس سے كوئى غير مرد بات كرے.

قولہ: يا اسے كسى فرض كى بنا پر چھوڑ ديا "

مثلا كفر تك پہنچے بغير نماز ترك كرے، يا روزے چھوڑ دے يا زكاۃ ترك كر دے، يا كوئى اور فرض ترك كرے، يا پھر پردہ نہ كرتى ہو، بلكہ ننگے چہرہ باہر نكلنے كا كہتى ہو، تو پھر اگر وہ اس كى تربيت نہ كر سكتا ہو تو خاوند ك واسے تنگ كرنے كا حق ہے، ليكن اگر وہ عورت ميں رغبت ركھتا ہو اور اس كى تربيت كرنا ممكن ہو تو پھر اس كے ساتھ رہنے ميں كوئى حرج نہيں " انتہى

ديكھيں: الشرح الممتع ( 12 / 462 ).

اس طرح اوپر كى سطور يہ ظاہر ہوا كہ خاوند كب اپنى بيوى كو خلع لينے پر مجبور كر سكتا ہے، كہ وہ مہر وغيرہ دے كر اپنى جان چھڑائے.

دوم:

اس آيت اور اس كے بعد والى آيت ميں كوئى تعارض نہيں ہے يعنى اوپر والى آيت اور درج ذيل آيت ميں كوئى تعارض نہيں پايا جاتا:

ارشاد بارى تعالى ہے:

{ اور اگر تم كسى بيوى كى جگہ اور بيوى بدل كر لانے كا ارادہ كرو اور تم ان ميں سے كسى ايك كو خزانہ دے چكے ہو تو اس ميں سے كچھ بھى واپس نہ لو، كيا تم اسے بہتان لگا كر اور صريح گناہ كر كے لوگے، اور تم كيسے لو گے جب كہ تم ايك دوسرے سے صحبت كر چكے ہو وہ تم سے پختہ عہد لے چكى ہيں }النساء ( 20 ـ 21 ).

بلكہ يہ آيت تو بيوى كا مال لينے كى حرمت كى تاكيد ہے؛ كہ بيوى كا مال لينا جائز نہيں؛ چنانچہ معنى يہ ہوا كہ: اگر تم ميں سے كوئى اپنى بيوى سے عليحدگى كر كے كوئى اور بيوى لانا چاہتا ہو تو پہلى بيوى كو ديا ہوا مہر واپس مت لے، چاہے اس نے مال كا ايك خزانہ بھى اسے مہر ميں ادا كر ركھا ہو.

اس ليے مہر بيوى كى ملكيت ہے؛ كسى كے ليے بھى وہ مال لينا حلال نہيں، ہاں يہ اور بات ہے كہ بيوى اپنى مرضى و خوشى سے خاوند كو دے دے، يا پھر جس حالت ميں بيوى پر تنگى كرنا جائز ہے بيوى خودى ہى اپنى جان چھڑانے كے ليے مہر بطور فديہ واپس كر دے، يا پھر اس حالت ميں كہ خاوند كى جانب سے بغير كسى كوتاہى كے ہى بيوى كا خاوند كے ساتھ رہنا مشكل ہو تو وہ مہر بطور فديہ ادا كر كے جان چھڑائے؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

چنانچہ اگر تمہيں خدشہ ہو كہ وہ دونوں اللہ كى حدود قائم نہيں ركھ سكيں گے تو پھر ان دونوں پر كوئى گناہ نہيں جو وہ فديہ دے البقرۃ ( 229 ).

اور اس فرمان بارى تعالى كى تائيد درج ذيل فرمان بارى تعالى سے ہوتى ہے:

{ اور تم كيسے لو گے جب كہ تم ايك دوسرے سے صحبت كر چكے ہو وہ تم سے پختہ عہد لے چكى ہيں }النساء ( 19 ـ 20 ).

يہاں افضاء سے مراد جماع و صحبت ہے؛ جيسا كہ ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہم وغيرہ كا قول ہے، مقصود يہ ہے كہ مہر تو اس كا معاوضہ تھا جو اس نے بيوى كى شرمگاہ حلال كى تھى، تو اب جبكہ اس كى مراد حاصل ہو چكى تو وہ كيسے مہر واپس لے رہا ہے.

ابن كثير رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" يعنى تم عورت سے ديا گيا مہر كيسے واپس ليتے ہو حالانكہ تم نے اس كے ساتھ اور اس نے تمہارے ساتھ صحبت كى ہے، ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہ، اور مجاہد، سدى وغيرہ كہتے ہيں: اس سے جماع مراد ليا گيا ہے.

اور صحيح بخارى اور صحيح مسلم كى حديث ميں ثابت ہے كہ لعان كرنے والوں كے لعان كے بعد رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں فرمايا تھا:

" اللہ كو علم ہے كہ تم دونوں ميں سے ايك جھوٹا ہے، تو كيا تم ميں سے كوئى توبہ كرنے والا ہے "

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے يہ بات تين بار دھرائى تو آدمى نے عرض كيا:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميرا مال ( يعنى اس نے جو مہر ديا تھا )

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تيرا كوئى مال نہيں، اگر تم نے اسے مہر ادا كيا تھا تو يہ اس كى شرمگاہ حلال كرنے كى وجہ سے تھا، اور اگر تم نے اس پر جھوٹ بولا ہے تو يہ مال تيرے ليے اور بھى زيادہ دور ہے"

سوم:

رہا درج ذيل ارشاد بارى تعالى:

اور جب تم عورتوں كو طلاق دو، تو وہ اپنى عدت كو پہنچ جائيں تو انہيں اچھے طريقے سے ركھ لو، يا انہيں اچھے طريقے سے چھوڑ دو اور انہيں تكليف دينے كے ليے نہ روكے ركھو، تا كہ ان پر زيادتى كرو البقرۃ ( 231 ).

تو يہاں مطلقہ عورت كو دوران عدت اسے نقصان و ضرر دينے كے ليے روكنا اور رجوع كرنا مراد ہے.

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما، اور مجاہد، مسروق، حسن، قتادۃ، ضحاك، ربيع، مقاتل بن حيان وغيرہ كا كہنا ہے كہ:

" آدمى اپنى بيوى كو طلاق ديتا اور جب اس كى عدت ختم ہونے لگتى تو وہ اسے تنگ كرنے كے ليے رجوع كر ليتا، تا كہ وہ عورت كسى اور كے نكاح ميں نہ چلى جائے، پھر اسے دوبارہ طلاق ديتا تو وہ عدت گزارنا شروع كر ديتى، جب عدت پورى ہونے كو ہوتى عدت لمبى كرنے كے ليے اسے طلاق دے ديتا، چنانچہ اللہ تعالى نے انہيں ايسا كرنے سے روك ديا " انتہى

ماخوذ از تفسير ابن كثير.

چہارم:

عموما قائل كا يہ قول صحيح ہے كہ:

" خاوند كو حق نہيں كہ وہ بيوى كو ديے گئے مہر كى واپسى كا مطالبہ كرے؛ كيونكہ اس نے تو اپنا حق اس وقت لے ليا ہے جب اس نے بيوى كى شرمگاہ حلال كر لى جو اس سے قبل اس پر حرام تھى، ليكن اس سے وہ استثناء كيا جائيگا جو اللہ نے درج ذيل آيت ميں بيان فرمايا ہے:

{ اے لوگو جو ايمان لائے ہو! تمہارے ليے حلال نہيں كہ زبردستى عورتوں كے وارث بن جاؤ اور تم انہيں اس ليے مت روك ركھو كہ تم نے انہيں جو كچھ ديا ہے اس ميں سے كچھ لے لو، مگر اس صورت ميں كہ وہ كھلم كھلا بے حيائى كا ارتكاب كريں }النساء ( 19 ).

جيسا كہ اوپر بيان كيا جا چكا ہے.

اور اس سے يہ بھى مستثنى ہے كہ: اگر بيوى اپنے خاوند كو ناپسند كرتے ہوئے اس سے عليحدگى كا مطالبہ كرے تو يہ مستثنى ہوگا، جيسا كہ ثابت بن قيس بن شماس رضى اللہ تعالى عنہا كى بيوى كے واقعہ ميں بيان ہوا ہے:

ثابت بن قيس كى بيوى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آ كر عرض كرنے لگى: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميں ثابت بن قيس كے دين اور اخلاق ميں كوئى عيب نہيں لگاتى، ليكن ميں اسلام ميں كفر كو ناپسند كرتى ہوں، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" كيا تم اسے اس كا باغ واپس كرتى ہو ؟

ثابت بن قيس نے اپنى بيوى كو باغ مہر ميں ديا تھا، تو وہ عورت كہنے لگى: جى ہاں، چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تم باغ لے لو، اور اسے چھوڑ دو "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5273 ).

تو يہ مہر شرمگاہ حلال كرنے كے مقابلہ ميں ہوگا، اس حالت ميں جو خاوند كو واپس كر دے اسے روكا نہيں جائيگا، كيونكہ يہ اس كے ليے شرعا جائز ہے، اور نظر صحيح ميں بھى جائز ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments