ar

150788: كيا معاشرتى اسباب كى بنا پر دور والا ولى نكاح كى ذمہ دارى پورى كر سكتا ہے ؟


كيا اصلى ولى كى موجودگى ميں معاشرتى اسباب كى بنا پر دور والا ولى لڑكى كا نكاح كر سكتا ہے ؟

Published Date: 2012-12-19

الحمد للہ:

اول:

نكاح ميں ولى ہونا ايك عظيم امر ہے، اللہ سبحانہ و تعالى نے عورت كى حفاظت اور اس كے حقوق كى رعايت اور عورت كى مصلحت كو ديكھتے ہوئے ولى كا ہونااپنےبندوں كے ليے مشروع كيا ہے، چنانچہ عورت كو يہ حق نہيں ديا كہ وہ اپنا نكاح خود كر لے يا كسى دوسرى عورت كا نكاح كر سكے، اور عورت كو يہ بھى اجازت نہيں كہ وہ نكاح ميں اپنا ولى يا وكيل خود اختيار كرے، بلكہ ولى كى ترتيب شريعت نے مرتب كر ركھى ہے، اور يہ بندوں كى جانب سے وضع كردہ نہيں.

بھوتى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" آزاد عورت كا نكاح كرنے كے ليے اس كے والد كو مقدم كيا جائيگا؛ كيونكہ اس كا والد زيادہ نظر ركھنے والا اور شديد شفقت كا مالك ہے، اور پھر اس كے بعد اس كا وصى جسے وہ وصيت كرے.

يعنى نكاح ميں اس كے قائم مقام والد كا وصى ہوگا، اور پھر دادا اور پردادا وغيرہ، قريب سے قريب والا ؛ كيونكہ اسے عصبى طور پر حق ہے، لہذا وہ باپ كے مشابہ ہوا، پھر عورت كا بيٹا اور پوتا اور پرپوتا وغيرہ قريب سے قريب تر.

اس كى دليل ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہا كى حديث ہے وہ بيان كرتى ہيں كہ جب ان كى عدت ختم ہوئى تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے شادى كا پيغام بھيجا.

تو ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہا نے عرض كيا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميرا يہاں كوئى ولى موجود نہيں.

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: تيرا كوئى يہاں موجود يا غائب ولى اسے ناپسند نہيں كريگا "

تو ام سلمہ كہنے لگيں: اے عمر اٹھو اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے نكاح كر دو، تو عمر نے ان كا رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے نكاح كر ديا " اسے امام نسائى نے سنن نسائى ميں روايت كيا ہے.

پھر اس كے بعد عورت كا سگا بھائى اور پھر وراثت كى طرح باپ كى طرف سے بھائى اور پھر ان كے بيٹے، پھر سگا چچا اور پھر باپ كى جانب سے چچا جيسا كہ اوپر بيان ہوا ہے، پھر ان كے بيٹے، جيسا كہ وراثت ميں بيان ہوا ہے.

پھر وراثت كى طرح قريب ترين سببى عصبہ لہذا بھائيوں كے بعد وراثت ميں زيادہ حقدر عصبہ ہوگا وہى ولى ميں بھى زيادہ حقدار ہے؛ كيونكہ ولايت تو شفقت و ديكھ بھال اور نظر پر مبنى ہے، يہى ظنى طور پر معتبر ہے يعنى رشتہ دارى پھر آزاد كرنے والا كيونكہ وہ اس عورت كا وارث ہوگا اور ديت بھى دےگا.

پھر قريب ترين نسبى عصبہ جيسا كہ ميراث ميں ترتيب ہے، پھر اگر يہ اولياء نہ ہوں تو پھر ولاء كا عصبہ جيسا كہ اوپر بيان ہوا ہے، پھر حاكم يا اس كا نائب.

امام احمد رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اس مسئلہ ميں ميرےنزديك امير كى بجائے قاضى زيادہ بہتر ہے، اور اگر يہ سب اولياءمعدوم ہو جائيں تو اس كى جگہ سلطہ اور طاقت ركھنے والا شخص اس كى شادى كرائےگا " انتہى

ديكھيں: الروض المربع ( 335 - 336 ).

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" عقد نكاح ميں پانچ قسم كى جہات كے افراد ولى بنيں گے: باپ دادا كى جہت، پھر بيٹے كى جہت، پھر بھائى كى جہت، پھر چچا كى جہت، اور پھر ولاء.

اگر ولى ايك ہى جہت كے ہوں تو قريب تر رتبہ والے كو مقدم كيا جائيگا، اور اقرب يعنى قريب ترين وہ ہے جو محجوب سے قبل دوسرے كے ساتھ جمع ہوتا ہو، دادے تك تين واسطے والا چار واسطے والے سے اقرب كہلائيگا، اور اگر وہ ايك ہى مرتبہ ميں ہوں تو پھر قوى مرتبہ اور رشتہ والا ولى بنےگا، جيسا كہ سگا بھائى اور باپ كى جانب سے بھائى ہو تو يہاں سگا بھائى ولى بنےگا " انتہى

ديكھيں: الشرح الممتع ( 12 / 84 ).

دوم:

اولياء كے مابين اسى ترتيب كا خيال ركھنا ضرورى ہے جيسا كہ بيان كى گئى ہے، اس ليے عقد نكاح ميں كسى دور والے ولى كو قريب ترين ولى پرمقدم نہيں كيا جائيگا.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" امام شافعى رحمہ اللہ كے قول كے مطابق اگر قريب ترين ولى كے ہوتے ہوئے كوئى دور والا ولى عورت كى شادى كر دے اور وہ عورت اپنے ولى كى اجازت كے بغير اس كى بات مانتے ہوئے شادى كر لے تو يہ صحيح نہيں ہوگى.

اور امام مالك رحمہ اللہ كہتے ہيں: يہ شادى صحيح ہو گى كيونكہ قريب ترين ولى كى طرح يہ بھى ولى ہے، اور وہ عورت كى اجازت سے اس كى شادى كريگا.

ہمارا قول يہ ہے كہ: يہ عصبہ كى بنا پر مستحق ہوگا، اس ليے وراثت كى طرح قريب ترين ولى كى موجودگى ميں دور والے ولى كے ليے ولايت ثابت نہيں ہوتى، تو اس طرح قريب ترين ولى نے دور والے ولى ميں فرق كر ديا " انتہى

ديكھيں: المغنى ( 7 / 364 ) اور الموسوعۃ الفقھيۃ ( 33 / 90 ) بھى ديكھيں.

بھوتى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اگر بغير كسى عذر كے عورت كى شادى كسى دور والے يا پھر كسى اجنبى نے كر دى چاہے وہ حاكم ہى ہو تو عقد كرنے والے كى عدم صلاحيت اور مستحق ولى كے موجود ہونے كى بنا پر يہ نكاح صحيح نہيں ہوگا " انتہى

ديكھيں: الروض المربع ( 336 ).

اگر قريب ترين ولى ولايت كا اہل نہيں تو پھر اسے چھوڑ كر دور والے ولى كو نكاح ميں ولى بنايا جا سكتا ہے:

الحجاوى رحمہ اللہ زادالمستقنع ميں رقمطراز ہيں:

" اور اگر قريب ترين ولى عورت كو شادى سے روك دے اور وہ ولايت كا اہل نہ ہو يا پھر وہ وہاں سے غائب ہو اور وہاں تك پہنچنے ميں مشقت و تكليف كا سامنا كرنا پڑے تو پھر دور والا ولى اس عورت كى شادى كريگا "

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ اس كى شرح كرتے ہوئے كہتے ہيں:

" قولہ: اھلا: يعنى وہ ولايت كا اہل نہ ہو مثلا چھوٹى عمر كا ہو يا پھر فاسق و فاجر ہو يا پھر دوسرا دين ركھتا ہو يا اس طرح كا كوئى اور عذر تو پھر نااہل كى موجودگى نہ ہونے كے برابر ہے، اس كى موجودگى كا كوئى فائدہ نہيں " انتہى

ديكھيں: الشرح الممتع ( 12 / 89 ).

حاصل يہ ہوا كہ: قريب ترين ولى كے ہوتے ہوئے دور والا ولى بغير كسى شرعى عذر كے عورت كى شادى نہيں كر سكتا.

اس ليے اگر سوال ميں بيان كردہ معاشرتى اسباب ولى كو عقد نكاح سے روكتے ہيں مثلا يہ كہ وہ بےوقوف ہے اور معاملات نپٹانے كا سليقہ نہيں يا پھر فاسق ہے يا كوئى اور شرعى عذر ہو تو پھر دور كے ولى كے ليے نكاح كرنا جائز ہے.

ليكن اگر يہ معاشرتى ايسے ہيں جن كا كسى شرعى مانع سے تعلق ہى نہيں تو پھر ان اسباب كا كوئى اعتبار نہيں كيا جائيگا، اور قريب والے والى كو پھلانگ كر دور والے ولى كى ولايت ميں نكاح كرانا صحيح نہيں ہوگا، كيونكہ اقرب ولى كو شريعت نے ولايت كا حق ديا ہے جو اس سے بغير كسى شرعى سبب كے نہيں چھينا جا سكتا.

اس ليے اگر لوگوں كو كسى سبب كے باعث دور والے ولى كى ولايت ميں نكاح كرنے كى ضرورت ہو اور قريب والا ولى اس پر راضى ہو تو قريب ترين ولى كو حق حاصل ہے كہ وہ دور والے ولى يا پھر كسى دوسرے كو جو عقد نكاح كرنے كے ليے صالح ہو كو اپنا وكيل اور نائب بنائے چاہے اس شخص كو اصل ميں ولايت حاصل ہى نہيں وہ بھى وكيل بن سكتا ہے.

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام سے درج ذيل سوال كيا گيا:

بعض اوقات بھائى يا دادے كے موجود ہوتے ہوئے عورت كا بھائى نائب ولى يا ولى كى موافقت كا كہہ كر نكاح كر ديتا ہے تو كيا ان طريقہ سے نكاح صحيح ہوگا ؟ يعنى اعلى مرتبہ كا ولى ہونے كى صورت ميں ادنى مرتبہ والا ولى عورت كا نكاح كر سكتا ہے ؟

كميٹى كے علماء كرام كا جواب تھا:

" اگر قريب ترين ولى كے موجود ہوتے ہوئے بغير كسى شرعى عذر اور سبب كے دور والا ولى عورت كا عقد نكاح كرے جس ميں قريب والے ولى كى اجازت و وصيت بھى شامل نہ ہو تو وہ عقد نكاح باطل ہے، اور اس كا كيا ہوا نكاح صحيح نہيں كيونكہ اسے اس سے قريب والے مستحق ولى كے ہوتے ہوئے دور والے ولى كو ولايت ہى حاصل نہيں.

ليكن اگر قريب والا يا ولايت كى اہليت والا ولى ولايت سے دستبردار ہو جائے يا دوسرے كو وصيت كرے كہ اس كى ولايت ميں موجود عورت كا نكاح كر دے تو يہ نكاح جائز ہو گا، اور يہ نكاح صحيح ہے؛ كيونكہ يہ اس كا حق تھا اور وہ اپنے حق سے دستبردار ہو كر يہ حق دوسرے كو دے گيا ہے تو وہ اس كے قائم مقام ہوگا.

اس بنا پر اگر عورت كے ولى نے اپنا حق عورت كے بھائى كو تفويض كر ديا ہے تو بھائى اس كا عقد نكاح كر سكتا ہے.

اللہ تعالى ہى توفيق دينے والا ہے، اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے.

مستقل فتوى اينڈ علمى ريسرچ كميٹى.

ممبر كميٹى: الشيخ بكر ابو زيد.

ممبر كميٹى: الشيخ صالح الفوزان.

ممبر كميٹى: الشيخ عبد اللہ بن غديان.

نائب چيئرمين كميٹى: الشيخ عبد العزيز آل شيخ.

چيئر مين كميٹى: عبد العزيز بن عبد اللہ بن باز. انتہى

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 18 / 174 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments