ar

151883: دوران عدت نكاح كيا اور دو بار طلاق بھى دى كيا تجديد نكاح سے طلاق ساقط ہو جائيگى ؟


ميں نے ايك نئى مسلمان ہونے والى عورت سے شادى اور شادى كے پانچ ماہ بعد مجھے علم ہوا كہ اس نے تو مجھ سے قبل بھى ايك شخص سے شادى كر ركھى تھى اور اس نے طلاق دے دى، اور ميرى شادى اس كى عدت كے دوران ہوئى ہے، كيونكہ پہلے شخص سے طلاق كو ابھى ايك ماہ ہى ہوا تھا اس ليے كہ نئى نئى مسلمان ہوئى تھى اسے علم نہيں تھا كہ عدت كے دوران شادى كرنا حرام ہے، اور مجھے بھى اس نے نہيں بتايا تھا، ميرا سوال يہ ہے كہ:
اب ہم پر كيا واجب ہوتا ہے ؟ يہ علم ميں رہے كہ پانچ ماہ كے دوران ميرے ليے بہت سارى مشكلات پيدا ہوئيں اور ميں نے اسے دو بار طلاق بھى دى اور ہر بار رجوع كر ليا، اب وہ ميرے ساتھ ہے كچھ علماء نے مجھے فتوى ديا ہے كہ تم نكاح كى تجديد كرو، تو كيا تجديد نكاح كى صورت ميں پہلى دو طلاقيں شمار ہونگى يا نہيں ؟

Published Date: 2013-12-14

الحمد للہ:

اول:

اگر وہ عورت كسى كافر سے شادى شدہ تھى اور مسلمان ہو گئى تو وہ عورت مسلمان ہونے كى بنا پر كافر پر حرام ہو جائيگى ان دونوں كے مابين عليحدگى كرا دى جائيگى، اور اس سے طلاق كى ضرورت نہيں ہوگى، اس كى عدت اسلام قبول كرنے كے وقت سے شروع ہوگى، اگر وہ شخص عدت ختم ہونے تك مسلمان نہ ہو تو وہ عورت اس سے بينونت صغرى حاصل كرےگى، اور اس عورت كے ليے كسى دوسرے شخص سے شادى كرنا جائز ہوگا.

مزيد آپ سوال نمبر ( 109194 ) اور ( 114722 ) كے جوابات كا مطالعہ كريں.

اس بنا پر اگر معاملہ ايسا ہى ہو اور عورت نے اپنى عدت پورى ہونے پر جو كہ اسلام قبول كرنے سے شروع ہوئى تھى شادى كى تو آپ سے شادى كرنے ميں كوئى اشكال نہيں.

ليكن اگر آپ سے شادى اس عدت ميں ہوئى يا پھر اس عورت كى كسى مسلمان شخص سے شادى ہوئى تھى اور اس نے اسے طلاق دے دى تو آپ نے عدت ميں اس سے شادى كر لى تو يہ نكاح باطل ہے صحيح نہيں ہوگا، آپ كے ليے اب اس سے عليحدگى كرنا لازم ہے.

اور اس عورت كو درج ذيل امور كرنا ہونگے:

ـ پہلى عدت پورى كريگى، اور آپ كے ساتھ جتنا عرصہ رہى ہے وہ شمار نہيں كيا جائيگا، اگر اس كو ايك حيض پہلے آچكا تھا تو باقى دو حيض عدت پورى كريگى.

ـ وہ آپ سےوطئ كى دوسرى عدت تين حيض بھى پورى كريگى، بعض اہل علم نے راجح يہى كہا ہے كہ اگر دوسرا شخص ہى اس سے شادى كريگا تو وہ دوسرى عدت پورى نہيں كريگى.

مزيد آپ الشرح الممتع ( 13 / 387 ) كا مطالعہ كريں.

اور اگر كوئى شخص كسى عورت سے اس كى عدت ميں عمدا اور جان بوجھ كر شادى كرے تو بعض اہل علم كہتے ہيں كہ وہ ہميشہ كے ليے اس پر حرام ہو جائيگى، اور قاضى كو بطور تعزير اس قول پر عمل كرنے كا حق حاصل ہے.

دوم:

اس باطل نكاح ميں دى گئى طلاق شمار نہيں ہوگى، اس ليے اگر آپ اس كى پہلى عدت ختم ہونے كے بعد اس سے شادى كرنے كى رغبت ركھتے ہيں اور وہ اپنے مسلمان ولى اور دو مسلمان گواہوں كى موجودگى ميں آپ سے شادى قبول كرتى ہے تو يہ نيا نكاح ہوگا، اور باطل نكاح ميں دى گئى دونوں طلاقيں شمار نہيں ہونگى.

اور اگر عورت كا كوئى ولى مسلمان نہ ہو تو مسلمانوں ميں سے شرف و مرتبہ ركھنے والا شخص مثلا اسلامك سينٹر كا امام ولى بن كر اس كى شادى كريگا.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" نكاح كى تين قسميں ہيں: ايك قسم كے صحيح ہونے پر تو سب متفق ہيں، اور ايك قسم كے باطل ہونے پر سب متفق ہيں، اور ايك قسم ميں اختلاف پايا جاتا ہے.

جس قسم كے صحيح ہونے پر اتفاق ہے اس ميں طلاق واقع ہونے ميں مسلمانوں ميں كوئى اشكال نہيں پايا جاتا.

جس قسم كے باطل ہونے پر اتفاق ہے اس ميں طلاق واقع نہيں ہوتى كيونكہ نكاح خود باطل ہے، اور طلاق نكاح كى فرع ہے، اس ليے جب نكاح ہى باطل ہو تو كوئى طلاق نہيں، مثلا اگر لاعلمى ميں كوئى شخص اپنى رضاعى بہن سے نكاح كر لے تو يہ نكاح بالاجماع باطل ہے، اس ميں طلاق واقع نہيں ہوگى.

اور اسى طرح اگر كوئى عورت عدت كى حالت ميں شادى كر لے تو اس نكاح ميں بھى طلاق واقع نہيں ہوگى؛ كيونكہ علماء كا اتفاق ہے كہ عدت والى عورت كا عدت ميں نكاح جائز نہيں.

اس ليے كہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور تم عدت پورى ہونے سے قبل نكاح كا عزم مت كرو }البقرۃ ( 235 ). انتہى

ديكھيں: الشرح الممتع ( 13 / 24 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments