ar

159519: کیا انبیاء و رسل کا بھی قیامت کے دن حساب لیا جائے گا؟ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کثرت سے استغفار کرنے کا کیا حکم ہے؟


قرآن مجید کے مطابق ہر انسان قیامت کے دن زندہ کیا جائے گا اور اس سے ہونے والے تمام اعمال کا حساب لیا جائے گا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دن تمام مخلوق کیلئے شافع ہونگے، میں جاننا چاہوں گا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی قیامت کے روز حساب ہوگا؟ یا آپ کو حساب سے مستثنی کر دیا جائے گا جیسے کہ بعض لوگوں کو میں نے کہتے سنا ہے، اگر معاملہ ایسے ہی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میں ستر سے زائد بار استغفار کیوں کیا کرتے تھے؟ میں نے آپکی ویب سائٹ پر اسی موضوع سے متعلقہ دیگر فتاوی بھی پڑھے ہیں لیکن مجھے کوئی شافی جواب نہیں ملا، چنانچہ میں آپ سے اپنے اس سوال کا خصوصی جواب چاہتا ہوں، اللہ آپکو جزائے خیر عطا فرمائے۔

Published Date: 2013-08-13

الحمد للہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں

پہلی بات:

بعض اہل علم اس بات کے قائل ہیں کہ قیامت کے دن حساب تمام مخلوقات کا ہوگا جن میں انبیاء اور رسل بھی شامل ہیں، اسکے لئے قرآن مجید میں وارد عموم سے انہوں نے استدلال کیا ہے، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے: ( فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِين) ترجمہ: "یقینا ہم ان سے بھی پوچھیں گے جن کی جانب رسولوں کو بھیجا گیا اور رسولوں سے بھی استفسار ہوگا"الأعراف/ 6 ایسے ہی ایک مقام پر فرمایا: ( فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ . عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ) ترجمہ: "تیرے رب کی قسم! ہم تمام لوگوں سے پوچھیں گے۔ اسکے متعلق جو وہ کرتے رہے۔ الحِجر/ 92 ، 93 اس بات کے قائلین میں فخر الدین الرازی شامل ہیں جنہوں نے اپنی تفسیر میں -پہلی آیت کے بارے میں-کہا: "( الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ)اس سے مراد امت اور (الْمُرْسَلِين)سے مراد رسل ہیں، چنانچہ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی فریقین سے حساب لے گا، بالکل اسی طرح فرمانِ باری تعالی ہے: ( فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ . عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ) الحِجر/ 92 "پھر فرمایا: یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالی اپنے تمام بندوں سے حساب لے گا اس لئے کہ وہ یاتو رسول ہیں یا امت اور ہر دو سے سوال ہوگا ، اور اس سے ان لوگوں کے نظریہ کی تردید ہوتی ہے جو انبیاء کرام اور کفار کے حساب کے قائل نہیں" انتہی، "تفسیر الرازی" (14/20،21)۔

جبکہ جمہور علماء کا موقف ہے کہ انبیاء کرام اور رسولوں کا حساب قیامت کے دن نہیں ہوگا، اس لئے کہ اگر ان سے قبر میں سوال نہیں کیا جاتا تو اسکا مطلب ہے کہ انکا حساب نہیں ہوگا، اور انکا جنت میں بغیر حساب کے داخل ہونیوالوں سے بھی زیادہ حق بنتا ہے۔

رہا معاملہ عمومی نصوص کا تو وہ یا تو کفار کیلئے ہیں ، یا ان سے یہ پوچھا جائے گاکہ : کیا انہوں نے اپنی اقوام کو اللہ کا پیغام پہنچایا تھا یا نہیں، اس لئے یہ سوال ڈانٹ ڈپٹ کیلئے نہیں ہوگا، بلکہ انکے مخالفین پر حجت پوری کرنے کیلئے ہوگا۔

1- قرطبی رحمہ اللہ کہتےہیں: " فرمانِ باری تعالی( فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ )ترجمہ:"ہم ان لوگوں سے ضرور پوچھیں گے جن کی جانب انہیں بھیجا گیا" اس بات کی دلیل ہے کہ کفار کا حساب ہوگا، قرآن مجید میں ایک اور مقام پر فرمایا: ( ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ )ترجمہ: "پھر ہم پر انکا حساب لینا ہے" الغاشية/ 26 اور سورہ قصص میں فرمایا: ( وَلا يُسْأَلُ عَنْ ذُنُوبِهِمُ الْمُجْرِمُونَ ) ترجمہ: "انکے گناہوں کے بارے میں مجرموں سے نہیں پوچھا جائے گا" القصص/ 78 اسکا مطلب ہے کہ کفار سے عذاب کے دوران انکے گناہوں کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔ آخرت میں مختلف لمحات آئینگے ، کچھ جگہوں پر پوچھا جائے گا، اور کچھ مقامات پر کوئی سوال نہ ہوگا، جہاں سوال کیا جائے گا وہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ، ذلیل و رسوا کرنے کیلئے کیا جائے گا، جبکہ رسولوں سے سوال گواہی اور وضاحت کے طور پر کیا جائے گا، تاکہ انکی قوم کو جواب مل سکے، فرمانِ باری تعالی ( لِيَسْأَلَ الصَّادِقِينَ عَنْ صِدْقِهِمْ ) ترجمہ: "تا کہ ہم سچے لوگوں سے انکی سچائی کے بارے میں استفسار کریں" الأحزاب/ 8 کا یہی مطلب ہے " انتہی، "تفسیر القرطبی"(7/164)

2- ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ :"فرمانِ الہی ( فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ ) ترجمہ: "ہم ان سے سوال کریں گے جن کی جانب انہیں بھیجا گیا" بالکل ایسے ہی ہےجیسے فرمانِ الہی ( وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ مَاذَا أَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِينَ ) ترجمہ: "اور وہ انہیں آواز دے کر پوچھیں گے کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا" القصص/ 65 اور ایسے ہی ( يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُوا لا عِلْمَ لَنَا إِنَّكَ أَنْتَ عَلامُ الْغُيُوبِ ) ترجمہ: "اس دن اللہ تعالی رسولوں کو اکٹھا فرما کر پوچھے گا: تمہیں کیا جواب دیا گیا؟ وہ کہے گے: ہمیں کچھ پتہ نہیں توں ہی غیب کی باتوں کو جاننے والا ہے" المائدة/ 109 کی طرح ہے، چنانچہ اللہ تبارک و تعالی تمام امتوں سے یہ پوچھیں گے کہ انہوں نے انبیاء کی دعوت کا کیا جواب دیا، اور رسولوں سے تبلیغ کے بارے میں پوچھا جائے گا ، اسی لئے علی بن طلحہ ، ابن عباس سے اپنی تفسیر میں اس آیت کے تحت بیان کرتے ہیں کہ ( فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ )اللہ تعالی لوگوں سے یہ پوچھے گا کہ انہوں نے رسولوں کو کیا جواب دیا، اور رسولوں سے یہ پوچھا جائے گا کہ انہوں نے کیا تبلیغ کی " انتہی، "تفسیر ابن کثیر"(3/388)

دوسری بات :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح روایات میں ثابت ہے کہ آپ کثرت سے استغفار کیا کرتے تھے، انہی روایات میں سے : ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا: (اللہ کی قسم! میں ایک دن میں اللہ تعالی سے ستر سے زائد مرتبہ توبہ استغفار کرتا ہوں) بخاری (6307)

اغر مزنی -جو کہ صحابی ہیں- کہتے ہیں کہ بے شک رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میرا دل زنگ آلود ہوجاتا ہے، اورمیں ایک دن میں سو بار اللہ سے استغفار کرتا ہوں) مسلم (2702)

یہ بات سب کے نزدیک مسلّمہ ہے کہ اللہ تعالی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سابقہ لاحقہ تمام گناہ معاف فرمادئیے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے : ( لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ) ترجمہ: "تا کہ اللہ تعالی آپکے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کردے" الفتح/ 2 لیکن اللہ کی جانب سے تمام سابقہ لاحقہ گناہوں کی معافی کا وعدہ عبادات سے قطعی مانع نہیں اور ہو سکتا ہے کہ یہی عبادت آپ کی مغفرت کا باعث ہو جسکا اللہ تعالی نے آپ سے وعدہ کیا ہے، اس لئے کہ اللہ تعالی جس کو تقدیر میں لکھ دے اس کے اسباب بھی پیدا کردیتا ہے، اور استغفار مغفرت کے بڑے اسباب میں سے ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: "فصل ہے اس فرمانِ رسالت کے بیان میں جسکے آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کے بارے میں فرمایا: {قد غفر لعبدي فليعمل مَا شَاءَ} ترجمہ:"اللہ نے اپنے بندے کو معاف کردیا ہے اب جو چاہے عمل کرے" اس حدیث کو پیارے پیغمبر نے ہر گناہ کے بارے میں عام قرارنہیں دیا، کہ جوکوئی گناہ گار ہو توبہ کرتا رہے اور گناہ بھی کرے، بلکہ یہ ایسے بندے کی حالت بیان کی ہے جس سے یہ کام سر زد ہوتا ہے، چنانچہ اس سے معلوم ہواکہ انسان سے کبھی ایسی نیکی ہو جاتی ہے جس سے سابقہ لاحقہ گناہوں کی مغفرت واجب ہوجاتی ہے، چاہے کسی اور سبب کی بنا پر بھی اسکی بخشش ہوجائے۔

یہ بالکل حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مطابق ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا: (تمہیں کیا معلوم کہ اللہ تعالی نے اہل بدر کو دیکھا اور انکے بارے میں فرمایا: جو چاہو سو کرو میں نے تمہیں معاف کردیا ہے)ایسے ہی حاطب کے غلام نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکایت کی تھی اور کہا تھا: "اللہ کی قسم !حاطب جہنم میں جائے گا!! "آپ نے اسے فرمایا: (تم نے جھوٹ بولا، وہ بدری ہے اور اس نے حدیبیہ میں بھی شرکت کی تھی)؛ چنانچہ ان احادیث میں اس بات کا بیان ہے کہ مؤمن سے کبھی ایس نیکی بھی ہوسکتی ہےجس سے سابقہ لاحقہ تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں، چاہے اسکے علاوہ کسی اور سبب کے باعث بھی اسکی مغفرت ہوجائے،یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ وہ ایمان کی حالت میں ہی فوت ہوگا، اور اہل جنت میں سے ہوگا، اور اگر کوئی گناہ سر زد ہوبھی گیا تو اس سے توبہ کرلے گا، جیسے کہ بعض بدری صحابہ کرام نے توبہ کی تھی مثلا: قدامہ بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے غلط فہمی اور تاویل کرتے ہوئے شراب پینے کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے توبہ کروائی اور پھر انہیں شراب کی حد لگا کر پاک بھی کیا گیا، اگرچہ انکا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کے بارے میں کہا گیا: ( اعْمَلُوا مَا شِئْتُم ) "جو چاہو سو کرو"

اللہ کی جانب سےمطلق مغفرت اور مغفرت مع الاسباب میں کوئی تعارض نہیں ہے، اور نہ ہی توبہ کیلئے مانع ہے، اس لئے کہ مغفرتِ الہی کا تقاضا ہے کہ اسے موت کے بعد عذاب نہ دیا جائے، اور اللہ تعالی کو اشیاء کے مستقبل کا بھی علم ہے،چنانچہ جب اللہ تعالی کو بندے کے بارے میں علم ہے کہ وہ توبہ کرلے گا اور ایسے نیک کام بھی کریگا جس سے اس کے گناہ بھی معاف ہو جائیں گے تو بندے پر دخولِ جنت یا مغفرت کا حکم لگانے میں کوئی فرق نہیں ، یہ بات معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو جنت کی بشارت اس لئے دی کہ آپ جانتے تھے کہ یہ شخص ایمان کی حالت میں فوت ہوگا، اور نہ ہی آپکا بشارت دینا دخولِ جنت کیلئے سبب بننے والے اعمال کرنے کے لئے مانع ہے۔

اور اللہ تعالی کا اشیاء اور انکے آثار کے بارے میں علم انکے اسباب اختیار کرنے کے منافی نہیں ہے،جیسے کہ ہمیں بتلایا: (تم میں سے ہر ایک کی جنت یا جہنم میں جگہ لکھ دی گئی ہے)لیکن اسکے باوجو دفرمایا: (عمل کرو تمہیں اسی کی توفیق ہوگی جس کیلئے تمہیں پیدا کیا گیا)۔

ایسے ہی دشمن پر فتح کی پیشین گوئی پانا ، فتح کے اسباب اختیار کرنے سے نہیں روکتا، ایسے ہی جسے یہ بتلایا گیا کہ اسکے ہاں اولاد ہوگی تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ وہ اب شادی نہ کرے!!،بعینہ جسے مغفرت یا جنت کی خبر دی گئی ہے اب اسکا مطلب یہ نہیں کہ وہ جنت میں داخلے کے اسباب اختیار نہ کرے، اور سورہ بقرہ کے آخر میں مذکور دعا اسی قبیل سےہے کہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا میں نے یہ کام کردیا ، لیکن اسکے باوجود ہمارے لئے اس سے مانگنا مشروع ہے۔

ایسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : (میرے لئے اللہ سے وسیلہ مانگو)؛چنانچہ کسی چیز کا وعدہ ملنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کے اسکے لئے جائز اسباب نہ اپنائے جائیں، اور چھ ہجری میں نازل ہونے والا فرمانِ باری تعالی { ليغفر لَك الله مَا تقدم من ذَنْبك وَمَا تَأَخّر}ترجمہ: "تا کہ اللہ تعالی آپکے سابقہ لاحقہ تمام گناہ معاف کردے"بھی اسی سے تعلق رکھتا ہے، لیکن اسکے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی باقیماندہ زندگی میں استغفار کرتے رہے، حتی کہ آخر عمر میں بھی اللہ تعالی نے آپ پر سورہ نصر نازل کی تو فرمایا: { فسبح بِحَمْد رَبك وَاسْتَغْفرهُ إِنَّه كَانَ تَوَّابًا } ترجمہ:"اپنے رب کی حمد کیساتھ تسبیح کریں اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگیں یقینا وہ بہت توبہ قبول کرنے والاہے"آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر عمل کرتے ہوئے رکوع و سجود میں تسبیح کیا کرتے تھے۔ انتہی "مختصر الفتاوی المصریہ"(322-324) ایسے ہی دیکھیں : ابن قیم کی کتاب"الفوائد"(14-17)

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments