1697: بل فائٹنگ مقابلے كرانے كا حكم


بعض ممالك ميں مختلف تقريبات كے موقع پر بل فائٹنگ كے مقابلے كرائے جاتے ہيں، اور كامياب ہونے والے بيل كا مالك رقم حاصل كرتا ہے، تو كيا اس عمل ميں كوئى شرعى ممانعت پائى جاتى ہے، اور كيا بيل كے مالك كا يہ رقم حاصل كرنا حلال ہے ؟

Published Date: 2008-10-08

الحمد للہ:

اگر بل فائٹنگ ميں بيل كو ضرر اور نقصان ہوتا ہو تو يہ حرام ہے، كيونكہ كسى بھى جانور كو اذيت دينا اور اس پر مشقت ڈالنا جائز نہيں، اور اگر اس سے اسے تكليف اور اذيت نہ ہوتى ہو تو بھى بيكار اور تماشہ ہے جس ميں كوئى خير نہيں، بلكہ يہ وقت كا ضياع ہے، اور ان مقابلوں كى وجہ سے بيل خريدنے مال ضائع كرنے كا باعث ہے، ليكن اگر مقابلہ ميں معاوضہ بھى ہو تو يہ ہر حال ميں حرام ہے.

تو اس طرح بل فائٹنگ مقابلے كا حكم درج ذيل پر مشتمل ہو گا:

اگر تو اس ميں بيل كو نقصان اور ضرر ہو تو يہ حرام ہے، يا اگر عوض پر مشتمل ہو تو بھى حرام ہوگا.

ليكن اگر ايسا نہيں تو پھر يہ وقت اور مال كا ضياع ہے، كسى بھى عقل مند كے شايان شان نہيں كہ وہ اس كا مرتكب ہو، اور اسى طرح ہم اپنے ان بھائيوں كو نصيحت كرتے ہيں جو ان مقابلوں كو ٹى وى پر ديكھتے ہيں يا اس كا شوق ركھتے ہيں ہم انہيں كہينگے كہ: وقت بہت زيادہ قيمتى ہے، كہ اس طرح كے بيكار كاموں ميں ضائع كيا جائے جس ميں كوئى خير و بھلائى نہيں.

اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے.

لقاء الباب المفتوح ابن عثيمين ( 52 / 46 ).
Create Comments