bn

170594: خریداری کی شرط کے بغیر اورمفت شراکت کے ساتھ انٹرنیٹ مارکیٹنگ۔


میری ویب سائٹ ڈیزائننگ کمپنی ہے، اور میں ماہانہ مارکیٹنگ خرچہ کم کرنے کیلئے ایک سسٹم متعارف کروانا چاہتا ہوں، جس میں گھر بیٹھے بے روز گار افراد و خواتین انٹرنیٹ کے ذریعہ مستفید ہو سکیں گے، اللہ سے دعا ہے کہ میرے اس سسٹم میں کوئی شبہ نہ ہو۔۔یہ سسٹم دیگر ان تمام مارکیٹنگ کمپنیوں سے مختلف ہے جن کا ذکر پہلے آپکی اسلام سوال جواب سائٹ پر گزر چکا ہے، اللہ سے یہ بھی دعا ہے کہ اللہ تعالی مجھے حلال انٹرنیٹ مارکیٹنگ متعارف کرانے کا ذریعہ بنائے، جس میں کوئی اختلاف بھی نہ ہو، اس میں دسٹری بیوٹر ز کو مفت رجسٹریشن فراہم کی جائے گی، اور انہیں ایک خاص مارکیٹنگ کوڈ دیا جائے گا، پھر ہر دسٹری بیوٹر میری کمپنی کی تشہیر انٹرنیٹ کے ذریعے کریگا اور ساتھ میں اپنا کوڈ بھی بتلائے گا، تا کہ گاہک کو میری کمپنی سے خریداری کے وقت 500 پاؤنڈ کی رعائت مل سکے۔۔ گاہک کو رعائتی کوڈ بتلانا لازمی ہوگا تا کہ تشہیری مہم چلانے والے مارکیٹر یا ڈسٹری بیوٹر کے حق اور محنت کی ضمانت دی جاسکے۔۔ یہاں تک کوئی مسئلہ نہیں، ڈسٹری بیوٹر کو 400 پاؤنڈ ملیں گے، وہ اگر اپنے دوستوں کو بھی ساتھ ملا لے تو وہ بھی اسی کے ما تحت بغیر کسی شرط یا قید کےاضافہ کر دئیے جائیں گے، اور وہ بھی میری کمپنی کی تشہیری مہم اور مارکیٹنگ میں حصہ لے سکتے ہیں، اگر کسی بھی ذیلی ڈسٹری بیوٹر کے ذریعے بیع ہوتی ہے تو گاہک کو رعائت ملے گی اور مارکیٹر 400 پاؤنڈ حاصل کریگا، اور میں بحیثیت کمپنی اس ڈسٹری بیوٹر سے اوپرایک خاص نسبت سے پیسے تقسیم کرونگا، -100 پاؤنڈ جو برابر یا خاص تناسب سے تقسیم کئے جائیں گے- مثلا، احمد مرکزی ڈسٹری بیوٹرہے اسکے نیچے سہا ہے اسکے بعد مریم، اب مریم کے مارکیٹنگ کوڈ سے کسی نے خریداری کی، تو مریم کو 400 پاؤنڈ جبکہ سہا اور احمد کو 50، 50 پاؤنڈ ملیں گے۔ اور ان تمام حالات میں گاہک پر کسی قسم کی ادائیگی یا خریداری کیلئے دباؤ نہیں ڈالا جائے گا، بلکہ وہ ہم سے براہِ راست رابطہ کریگا پھر وہ چاہے خریداری کرے یا نہ کرے ، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ قیمت کم کروانے کی کوشش بھی کرے، اسکے بعد اللہ کی مرضی معاملہ طے ہویا نہ ہو، قصہ مختصر میں اپنی کمپنی میں 1000 پاؤنڈ مارکیٹنگ کیلئے مختص کرتا ہوں ، جو کہ اس انداز سے تقسیم کیا جائے گا 500 پاؤنڈ خریدار کیلئے تا کہ وہ ہمیں مارکیٹنگ کو ڈ بتلائے، نہ بتلانے کی صورت میں ہماری ویب سائٹ پر اعلان شدہ مکمل قیمت ادا کرنی ہوگی ۔ 500 پاؤنڈ ڈسٹری بیوٹرز کے درمیان تقسیم کئے جائیں گے جس میں سے 400 ڈسٹری بیوٹر کو ملیں گے جسکی وجہ سے گاہک کو ہماری کمپنی کے بارے میں تعارف ہوا، اور باقی 100 پاؤنڈ اس کے اوپر موجود افراد کو ملیں گے۔
اس انداز سے گھر میں بیٹھے افراد زیادہ سے زیادہ مستفید ہونگے اور اس کام کیلئے مارکیٹنگ تجربہ کی بھی ضرورت نہیں، بلکہ مختلف سائٹس پر اعلان کرے، جس سے اُنکا اور ہمارا سب کا فائدہ ہوگا، اور ڈسٹری بیوٹرپر کسی خاص تعداد وغیرہ کی بھی شرط نہیں ہے، جبکہ خریدار ڈیزائن شدہ ویب سائٹ ہم سے شرائط و ضوابط سمجھنے کے بعد ہی خریدے گا، مثلا خواتین کی تصاویر یا موسیقی نشر نہیں کی جائے گی وغیرہ ۔

Published Date: 2013-09-23

الحمد للہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں

جس انداز کے بارے میں سوال کیا گیا ایسے مارکیٹنگ کرنے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ یہ دلالی کی جائز صورت ہے ، جوکہ مروجہ انٹرنیٹ یا اہرامی مارکیٹنگ سے کئی اعتبار سے مختلف ہے جن میں اہم یہ ہیں:

1- دسٹری بیوٹر (دلال)کی رجسٹریشن کیلئے خریداری یا مقررہ فیس کی شرط نہیں لگائی گئی۔

2- ویب ڈیزائننگ انہی کو فروخت کی جاتی ہیں جو خود اسے استعمال کرنا چاہتے ہوں ، نہ کہ مارکیٹنگ کرنے والوں کیلئے، تو کبھی فروخت ہو جاتی ہے اور کبھی نہیں بھی ہوتی۔

3- جو بھی تشہیری مہم میں شامل ہوگا اسے کچھ نہ کچھ دیا جائے گا، اور ایسی کوئی شرط نہیں ہے جس کی بنا پر اسے محروم کیا جائے۔

4- ڈسٹری بیوٹر کو کرنسی بتلا دی گئی ہے، اور یہ دلالی کے درست ہونے کیلئے شرط ہے، مثلا کہا جائے کہ: جس نے اشیاء فروخت کیں اُسے 400 پاؤنڈ ملیں گے، دلال یا بروکر ایک ہونے کی صورت میں یہ بالکل واضح ہے۔

اگر دلال نےکسی کے ساتھ دلالی میں شراکت کر لی، مثلا: زید نے محمد کو ، اور محمد نے سعد کو مقرر کیا اور سعد نے چیز فروخت کی تو اب تینوں برابر ی یا ایک خاص نسبت پر رقم آپس میں تقسیم کر سکتے ہیں،مثلا کل رقم 500 ہو تو سعد کیلئے 400 اور باقی کیلئے 100 برابر تقسیم کرلیں۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے "شراکتِ دلالی" کے بارے میں کہا: "امام احمد نے اسکو صراحۃً جائز کہا ہے، ابوداود کہتے ہیں ان سے ایک شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو کپڑا لیکر آگے کسی کو دے دیتا ہے کہ وہ اسکو فروخت کرے اور اجرت آدھی آدھی بانٹ لیں، انہوں نے کہا: اصل میں اجرت بیچنے والے کی ہے، الّا کہ دونوں نفع نقصان میں شریک ہوں "

اسکے صحیح ہونے کی وجہ یہ ہے کہ دلال کا خرید و فروخت کرنا درزی کے سوٹ سینے اور تاجر کے تجارت کرنے اور دیگر شراکت دار اجیروں کی طرح ہے، اور ان میں سے ہر ایک اپنا نائب مقرر کر سکتا ہے اگرچہ انہیں وکیل نے مقرر نہ کیا ہو، اور جو علماء اسکو منع قرار دیتے ہیں وہ شراکتِ دلالی اور دیگر تمام اجارہ کی صورتوں کو وکالت شمار کرتے ہیں، جبکہ معاملہ ایسا نہیں ہے۔ اور شراکتِ دلالی کی صرف اس صورت میں اختلاف ہے جب اس میں عقد پایا جائے، جبکہ صرف گاہکوں کو بلانا، ان کے سامنے مال پیش کرنا، اورقرضے واپس لینا ، ان کے جائز ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ ایسے ہی شراکت دار دو دلالوں کو پیسے دینا انہیں اجازت دینا ہی سمجھا جائے گا، اگردونوں میں سے ہر ایک دلّال نے لی ہوئی چیز خود فروخت کی کسی اور کے ذمہ نہ لگائی ، پھر نفع دونوں نے آپس میں تقسیم کر لیا تو ظاہر قول کے مطابق جائز ہے۔ مطلق عقد کا مطلب برابر کام پیش کرنا ہے، جبکہ زیادہ کام کے بدلے میں زیادہ اجرت دینے پر اگر سب پہلے متفق ہو جائیں تو جائز ہے۔ "الاختیارات الفقہیہ" فتاوی کبری (5/405)

ڈاکٹر عبد الرحمن بن صالح الاطرم حفظہ اللہ کہتے ہیں: "شیخ ابن سعدی اس مسئلہ میں جواز کے قائل ہیں،بشرطیکہ لوگ ان کی شراکت کے بارےمیں جانتے ہوں، چنانچہ اگر لوگوں کو پتا نہ ہوتو راجح بات یہ ہے پھر جائز نہیں؛ کیونکہ لوگ تمام کو وکیل نہیں بناتے، بلکہ جس سے بات ہو اسی کو بناتے ہیں۔ "

غالب امید ہے کہ پہلا قول درست ہے، کہ اس قسم کی شراکت مطلقا جائز ہے، جیسے کہ شیخ الاسلام کی بیان کردہ توجیہ میں پہلے گزر چکا ہے، کہ یہ شراکتِ ابدان ہے، اور یہ جائز ہےجسکا تذکرہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں موجود ہے، آپ کہتے ہیں :جنگِ بدر کے دن میں نے سعد اور عمار کے ساتھ مل کر مالِ غنیمت کے بارے میں شراکت قائم کی، میں اور عمار کچھ بھی نہ لا سکے جبکہ سعد دو قیدی لائے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے برقرار رکھا۔ امام احمد کے الفاظ ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان کے درمیان شراکت قائم کی تھی۔۔۔

رہ گیا معاملہ اس میں دھوکے کے امکان کا تو مندرجہ بالا حدیث ملنے کی وجہ سے قابلِ تلافی ہے ، جیسے کہ چند دیگر معاملات میں اسکو ایسے ہی رکھا گیا ہے مثلا: بیع السلم، اور مضاربہ وغیرہ میں۔ "الوساطۃ التجاریۃ فی المعاملات المالیۃ" ص: 313

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments