ar

172200: عقد نكاح كے وقت تعليم مكمل كرنے كى شرط ركھى جائے تو كيا شادى كے بعد بيوى كو تعليم جارى ركھنے سے روكا جا سكتا ہے ؟


الحمد للہ ميں شادى شدہ ہوں اللہ تعالى نے مجھے نيك و صالح اور اچھى بيوى عطا فرمائى ہے، اس نے انجنئركالج سے انٹر كيا ہے، شادى سے قبل ميں نے اسے تعليم جارى ركھنے اور بى اے كرانے كا وعدہ كيا تھا اس طرح اس نے شادى كرنے كى حامى بھر لى.
ليكن شادى كے بعد ميں نے تعليم مكمل كرانے كا وعدہ پورا نہيں كيا، حالانكہ بيوى نے انجينئرنگ ميں ڈپلومہ حاصل كر ليا ہے، ميرا سوال يہ ہے كہ اگر ميں اسے تعليم مكمل نہيں كرنے ديتا تو كيا ميں گنہگار ہونگا، ميں نے اس كى تعليم مكمل نہ كرانے كا فيصلہ حالات كى خرابى اور فتنے بڑھ جانے كى بنا پر كيا ہے ؟

Published Date: 2012-05-17

الحمد للہ:

اول:

عقد نكاح كے و قت خاوند اور بيوى كے مابين طے پانے والى شروط پورى كرنا لازم ہيں، ہر ايك كو يہ شرطيں پورى كرنى ہونگى، كيونكہ بخارى اور مسلم ميں حديث وارد ہے:

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تمہيں جن شروط كو سب سے زيادہ پورا كرنا چاہيے وہ شرطيں ہيں جن كے ساتھ تم شرمگاہوں كو حلال كرتے ہو "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2721 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1418 ).

اس ليے جب بيوى نے شادى كے وقت خاوند پر شرط ركھى كہ وہ اسے تعليم مكمل كرنے ديگا تو خاوند كو يہ شرط پورى كرنا ہوگى، اور وہ بيوى كى تعليم مكمل كرنے سے نہيں روك سكتا.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

كيا انسان اپنى بيوى كو تعليم حاصل كرنے سے منع كر سكتا ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" اگر بيوى نے شادى كے وقت تعليم مكمل كرنے كى شرط ركھى تھى تو پھر خاوند كے ليے اسے تعليم حاصل كرنے سے روكنا جائز نہيں؛ كيونكہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:

{ اے ايمان والو معاہدوں كو پورا كيا كرو }المآئدۃ ( 1 ).

ليكن اگر بيوى نے شادى كے وقت شرط نہيں ركھى تھى تو پھر خاوند كو روكنے كا حق حاصل ہے " انتہى

ديكھيں: مجموع فتاوى و رسائل ابن عثيمين ( 15 / 58 ).

اگر خاوند يہ شرط پورى نہيں كرتا تو اس كے نتيجہ ميں دو چيزيں لازم آئيں گى:

اول:

خاوند گنہگار ہوگا كيونكہ اس نے اللہ تعالى كے درج ذيل فرمان كى مخالفت كى ہے:

{ اے ايمان والو معاہدے پورے كيا كرو }المآئدۃ ( 1 ).

اور معاہدوں ميں سب سے زيادہ حق عقد نكاح كے معاہدے اور شروط كا ہے كہ اسے پورا كيا جائے.

دوم:

بيوى كو حق حاصل ہے كہ وہ نكاح فسخ كرنے كا مطالبہ كر سكتى ہے، اسے اختيار ہوگا كہ اگر وہ چاہے تو نكاح فسخ كر دے يا پھر اپنى شروط سے دستبردار ہوتے ہوئے اس كےنكاح ميں باقى رہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اگر وہ ايسا نہيں كرتا تو پھر بيوى كو نكاح فسخ كرنے كا حق حاصل ہے، عمر بن خطاب اور سعد بن ابى وقاص اور معاويہ اور عمرو بن عاص رضى اللہ تعالى عنہم سے يہى مروى ہے " انتہى

ديكھيں: المغنى ( 9 / 483 ).

اور شيخ ابن باز رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اگر عورت اپنے منگيتر كے سامنے شرط ركھے كہ وہ اسے تعليم حاصل كرنے يا پڑھانے سے منع نہيں كريگا، اور وہ اس شرط كو قبول كر لے اور مذكورہ شرط پر شادى كر لے تو يہ شرط صحيح ہے، شادى كے بعد خاوند كو اسے اس سے روكنے كا حق حاصل نہيں ہوگا...

اور اگر خاوند بيوى كو اس سے منع كرتا ہے تو بيوى كو اختيار حاصل ہوگا كہ وہ چاہے تو خاوند كے ساتھ اسى حالت ميں باقى رہے، اور اگر چاہے شرعى حاكم سے تو فسخ نكاح كا مطالبہ كر دے " انتہى

ديكھيں: فتاوى اسلاميۃ ( 3 / 215 ).

اس ليے اگر آپ كى بيوى نے عقد نكاح كے وقت آپ كے سامنے تعليم مكمل كرنے كى شرط ركھى تھى تو آپ كو يہ شرط پورى كرنا ہوگى، اور اگر آپ اسے ايسا كرنے سے روكتے ہيں تو پھر بيوى كو فسخ نكاح كا اختيار حاصل ہوگا.

اور جو كچھ طے پايا وہ صرف وعدہ تھا شرط نہيں تھى تو پھر بيوى كو نكاح فسخ كرنے كا اختيار نہيں، ليكن آپ كو اپنا وعدہ نبھانا اور پورا كرنا ہوگا، كيونكہ راجح قول كے مطابق وعدوں كو پورا كرنا واجب ہے.

دوم:

اور اگر شرط پورا كرنے ميں كسى حرام كام ميں واقع ہونا پڑے مثلا حرام كردہ خلوت، يا پھر بغير محرم كے سفر كرنا، يا اس كے علاوہ كوئى اور حرام كام تو اس حالت ميں خاوند پر اس شرط كو پورا كرنا لازم نہيں ہوگا؛ كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس نے بھى كوئى ايسى شرط لگائى جو كتاب اللہ ميں نہيں تو اسے يہ شرط لگانے كا حق نہيں، چاہے سو شرط بھى ركھى جائيں " متفق عليہ.

ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" جو كتاب اللہ ميں نہيں " سے مراد يہ ہے كہ جو شرط كتاب اللہ كے مخالف ہو " انتہى

ديكھيں: فتح البارى ( 5 / 188 ).

اس ليے ہر وہ شرط جو كتاب اللہ ميں اللہ كے حكم مخالف ہو يا پھر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے حكم كى مخالف ہو اس شرط كا پورا كرنا لازم نہيں ہے وہ شرط رائيگاں ہوگى.

ايك حديث ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" مسلمان اپنى شرطوں پر قائم رہتے ہيں، ليكن وہ شرط جو كسى حلال كو حرام كرنے كا باعث ہو، يا پھر حرام كو حلال كرے "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 1352 ) سنن ابو داود حديث نمبر ( 3594 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے اسے صحيح قرار ديا ہے.

اس شرط كو ختم كرنے كے ليے صرف حرام كام ميں پڑنے كا وہم كافى نہيں ہوگا، بلكہ اس كے ليے يقينى طور پر حرام كام ميں پڑنا ثابت ہو تو پھر شرط پر عمل نہيں ہوگا، وگرنہ شرط پورى كى جائيگى.

اپنى بيوى كو فتنوں اور برائى سے محفوظ ركھنى كى نيت اچھى ہے اس پر آپ شكريہ كے مستحق ہيں، ليكن يہ دونوں چيزين يعنى شرط پورى كرنا اور بيوى كو فتنوں سے محفوظ ركھنا بھى ممكن ہے، اس سلسلہ ميں آپ ايسے كام كريں جو آپ كى بيوى كى فتنوں سے حفاظت كرے مثلا آپ اس كے ليے كوئى طالبات كى يونيورسٹى تلاش كريں چاہے اس كى فيس زيادہ ہى كيوں نہ ہو.يا پھر حتى الامكان كم حاضرى دے.

اس كے ساتھ ساتھ ہم آپ كو نصيحت كرتے ہيں كہ آپ اس سلسلہ ميں اپنى بيوى سے سمجھوتہ كريں، اور آپ كے دل ميں جو كچھ خطرات ہيں اس سے اسے آگاہ كريں؛ ہو سكتا ہے وہ آپ كے خدشات اور نظريہ كو تسليم كرتے ہوئے مطمئن ہو جائے اور تعليم مكمل كرنے كا نظريہ تبديل ہو جائے.

واللہ اعلم.

الاسلام سوال و جواب
Create Comments