175449: دعوتی لٹریچر کی تیاری اور دینی مدارس پر زکاۃ خرچ کرنےکا حکم


ہم پیدائشی مسلمان ہیں، لیکن معاشرے میں کم علمی کے باعث ہندوستان میں شرک وبدعت ، اور قبر پرستی کی بھرمار ہے، اس لئے مندرجہ ذیل سوالات کی وضاحت میں ہماری مدد کریں: کیا زکاۃ کا مال کلی یا جزوی طور پر دعوتی لٹریچر اور کتب کی طباعت اور انہیں مسلم معاشرے (امیر غریب سب پر) مفت تقسیم کرنے کیلئے خرچ کیا جاسکتا ہےتا کہ انہیں دینی امور سے آگاہ کیا جاسکے؟ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کتب جہالت ختم کرنے کیلئے کافی مدد فراہم کرتی ہیں، ان کے باعث لوگ شرکیہ اور حرام کاموں سے دور رہتے ہیں، واضح رہے کہ ہم "اسلام ہاؤس"ویب سائٹ سے کتب لیکر ان پر کچھ مفید حواشی کا اضافہ بھی کرتے ہیں۔ اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ -"مدرسہ دار العلوم " کے بعض علماء اور زکاۃ جمع کرنے والے افراد تیس سے پچاس فیصد تک زکاۃ کا حصہ اسے جمع کرنے والوں کیلئے رکھ لیتے ہیں اور پھر اسے مدرسہ کیلئے استعمال کرتے ہیں، اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ زکاۃ ادا کرنے والوں کو انکی زکاۃ کے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں علم ہوجائے تو کیا وہ بریء الذمہ ہونگے؟- جبکہ زکاۃ فقراء اور محتاج افراد کیلئے ہے، مدرسہ کی جانب سے زکاۃ اکٹھی کر کے غریب طلباء میں تقسیم کر دی جاتی ہے، اور پھر انہی طلباء کو تعمیراتی کام اور مرمت وغیرہ کے کاموں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔۔ اسکے بارے میں کیا حکم ہے؟

Published Date: 2013-08-07

الحمد للہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں

پہلی بات:

کتب اور لٹریچر کی طباعت کیلئے زکاۃ کا مال خرچ کرنا درست نہیں، اس لئے کہ اللہ تعالی نے زکاۃ کے مصارف قرآن میں بیان کردئے ہیں: ( إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ) ترجمہ: "صدقات تو دراصل فقیروںمسکینوں اور ان کارندوں کے لئے ہیں جو ان کی وصولی پر مقرر ہیں۔ نیز تالیفِ قلب ، غلام آزاد کرانے , قرضداروں کے قرض اتارنے، اللہ کی راہ میں اور مسافروں پر خرچ کرنے کے لئے ہیں۔ " التوبة/60

شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں: "تمام علماء کے ہاں یہ معروف ہے اور یہی جمہور اور اکثر علماء کی رائے ہے، بلکہ علمائے سلف صالح کے ہاں اجماع کی طرح ہے کہ زکاۃ مسجد کی تعمیر اور کتب کی خریداری وغیرہ پر خرچ نہیں کی جاسکتی، چنانچہ انہیں ان آٹھ قسموں پر تقسیم کیا جائے گا جنہیں اللہ تعالی نے سورہ توبہ میں ذکر کیا ہے، اور وہ ہیں: فقراء، مساکین، زکاۃ جمع کرنے والے لوگ، جنکی اسلام کیلئے تالیف قلبی کی جائے، غلاموں کی آزاد ی، قرضوں کی ادائیگی، فی سبیل اللہ، اور مسافر۔ "فی سبیل اللہ"سے مراد جہاد ہے، اہل علم کے ہاں یہی معروف ہے، مساجد کی تعمیر میں اسے استعمال نہیں کیا جاسکتا، اور نہ ہی مدارس اور سڑکوں وغیرہ کی تعمیر میں۔ اللہ تعالی توفیق دینے والا ہے" انتہی "مجموع فتاوی و مقالات"از شیخ ابن باز (14/294)

سعودی دائمی کمیٹی برائے فتوی سے پوچھا گیا: "کیا زکاۃ کے مال سے شرعی کتب خرید کر کسی ایسی لڑکی کو تحفہ دیا جا سکتا ہے جسے اللہ نے ہدایت دی ہو اور اس نے با پردہ زندگی شروع کردی ہو، یا کسی نوجوان کو جسے اللہ نے ہدایت دی اور ایمان کے راستے پر چل پڑا ہو"

کمیٹی نے جواب دیا: "زکاۃ کےمال سے کتب لیکر ہدیہ کرنا جائز نہیں ، بلکہ قرآن مجید میں مذکور مستحقینِ زکاۃ کو بعینہ دے دی جائے (صدقات تو دراصل فقیروںمسکینوں اور ان کارندوں کے لئے ہیں جو ان کی وصولی پر مقرر ہیں۔ نیز تالیفِ قلب۔۔۔الخ)"انتہی "فتاوی اللجنۃ الدائمۃ "(10/45)

مزید تفصیل کیلئے سوال نمبر (21797) کا جواب ملاحظہ کریں۔

اس لئے کہ اللہ کی راہ میں صرف زکاۃ ہی نہیں دی جاتی جسکے مصارف محدود ہیں ، بلکہ عام صدقات و خیرات کی شکل میں دیگر صورتیں بھی موجود ہیں جن پر مسلمانوں کو ابھارنا چاہئے، ایسے ہی اوقاف والوں کو چاہئے اس قسم کے مفید مصارف (دینی مدارس، دعوتی کتب کی تقسیم وغیرہ )کا خیال کرتے ہوئے انکا مالی تعاون کریں۔

دوسری بات :

اگر مدارس کے طلباء غریب ہوں تو ان کیلئے زکاۃ خرچ کرنا جائز ہے، اس لئے کہ وہ مذکورہ بالا آیت کے تحت آتے ہیں، پھر مدرسہ کی انتظامیہ کیلئے جائز نہیں کہ وہ طلباء کو زکاۃ دینے کے بعد ان سے واپس لے، چاہے مدرسہ کی مرمت یا کسی اور مدمیں، چاہے مصلحت راجحہ ہو یا نہ ہو، کیونکہ یہ زکاۃ انکی ملکیت میں آچکی ہے؛ ہاں اگر مدرسہ میں پڑھنے والے طلباء پر مقررہ فیس عائد ہے ، یاوہ اس میں رہائش پذیر ہیں، اور یہ سہولیات مفت پیش نہیں کی جاتیں تو طلاب مدرسہ کی فیس اس سے ادا کرسکتے ہیں، یا اپنے قرض وغیرہ بھی چکا سکتے ہیں۔

تیسری بات:

سورہ توبہ کی آیت 60 میں مذکور(عاملین علیھا) سے مراد وہ لوگ ہیں جو ولی الامر کی جانب سے زکاۃ جمع کرتے ہیں، زکاۃ کا حساب کتاب رکھتے ہیں اور پھر مستحقین میں اسے تقسیم کرنے کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں، چنانچہ ان میں اکاؤنٹنٹ اور منشی وغیرہ شامل ہونگے، اگر یہ خود ہی اپنے آپ کو ان میں شامل کرلیں تو ان کیلئے زکاۃ سے لینا جائز نہیں، اور اگر انتہائی مجبوری ہو تو نفلی صدقہ کی مد سے لے سکتے ہیں، مزید تفصیل کیلئے سوال نمبر (128635) ملاحظہ فرمائیں۔

زکاۃ جمع کرنے کے عوض میں تیس سے پچاس فیصد تک رقم بہت زیادہ ہے، یہ زکاۃ کا ایک تہائی یا نصف مال ہے، یقینا یہ زکاۃ کے مال سے زیادتی ہے، کسی صورت میں بھی زکاۃ جمع کرنے والا اتنی بڑی مقدار کا مستحق نہیں ہوسکتا۔

اگر ہم محصلینِ زکاۃ کیلئے کام کا عوض لینے کی اجازت دے بھی دیں تو ان کیلئے کام کی نوعیت کے اعتبار سے عرفِ عام کے مطابق لینا جائز ہوگا۔

اگر زکاۃ دینے والے کو ان تصرفات کا علم ہو جائے تو اس پر واجب ہے کہ اسکے خلاف خاموشی اختیار نہ کرے، اور کبھی بھی ایسے شخص کو زکاۃ مت ادا کرے جو شریعت کے مطابق معاملات نہیں کرتا، وگرنہ اسکی زکاۃ ادا نہ ہوگی اور اسے دوبارہ زکاۃ ادا کرنی ہوگی، اس لئے کہ مستحقین تک زکاۃ نہیں پہنچی۔

اللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments