ar

179756: كيا خاوند اور بيوى اس شرط پر خلع كر سكتے ہيں كہ بچے اپنى ماں كى پرورش ہى ميں رہيں گے چاہے شادى بھى كر لے


ميں طلاق يافتہ ہوں اور ميرى طلاق خلع كے نتيجہ ميں ہوئى ہے، خلع كے وقت ہمارا اتفاق جن شروط پر ہوا ان ميں يہ شرط بھى تھى كہ ميرى مصلحت كى خاطر ميرے خاوند نے بچيوں كى پرورش كا مجھے دے كر خود دستبردار ہو گيا تھا، اس كے مقابلہ ميں مہر سے دستبردارى تھى، اس طرح ميرى طلاق ہوئى، اور طلاق كے معاہدہ ميں يہ بھى شامل تھا كہ اگر ميں نے دوبارہ شادى كر لى تو پھر بھى بيٹياں ميرے پاس ہى رہيں گى، ميں اس كے متعلق معلوم كرنا چاہتى ہوں كيونكہ ميرے ليى ايك دينى التزام كرنے والے شخص كا رشہ آيا ہے، اور ايك اچھے خاندان سے تعلق ركھتا ہے، ليكن ميں اپنى بيٹيوں كے ليے ہى رہنا چاہتى ہوں، اور اپنے ہاتھ سے بچيوں كى صحيح دينى تربيت كرنا چاہتى ہوں، يہ علم ميں رہے كہ ان بچيوں كے باپ نے دوسرى شادى كر لى ہے اور اس كى اولاد بھى ہے ؟

Published Date: 2013-02-03

الحمد للہ:

اول:

سارے يا كچھ مہر سے دستبردار ہو كر يا پھر مہر سے بھى اكثر معاوضہ دے كر خلع لينا صحيح ہے، مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 26247 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

دوم:

جب خاوند اور بيوى كے مابين خلع يا طلاق يا فسخ نكاح كے باعث عليحدگى ہو جائے تو چھوٹے بچوں كى پرورش اور ديكھ بھال باپ كى بجائے شادى تك ماں كا زيادہ حق ركھتى ہے، اور اگر ماں شادى كر لے تو پھر بچوں كى پرورش كا حق ساقط ہو جائيگا.

مزيد تفصيل معلوم كرنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 127610 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

سوم:

پرورش كے متعلق علماء كرام كا اختلاف ہے كہ آيا كيا يہ پرورش كرنے والے كا حق ہے يا كہ جس كى پرورش كى جا رہى ہے، اس ميں دو قول ہيں:

ابن قيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" فقھاء كرام كا اس ميں اختلاف ہے كہ آيا يہ پرورش كرنے والے كا حق ہے يا كہ اس پر حق ہے ؟

امام احمد اور امام مالك كے مذہب ميں دو قول ہيں: اس بنا پر آيا جسے پرورش كا حق ہے وہ اسے ساقط كر سكتا ہے يا نہيں ؟ اس ميں دو قول ہيں:

صحيح يہى ہے كہ پرورش ماں كا حق بھى ہے اور اس پر بھى ہے؛ اس ليے جب بچہ ماں كا محتاج ہو اور ماں كے علاوہ كوئى اور نہ ہو تو اس حالت ميں ماں پر حق پرورش واجب ہے اور اگر ماں اور بچے كا سربراہ حق پرورش كسى اور كى طرف منتقل كرنے پر متفق ہوں تو جائز ہے " انتہى

ديكھيں: زاد المعاد ( 5 / 451 ـ 452 ).

الموسوعۃ الفقھيۃ ميں درج ہے:

"جمہور فقھاء كرام ( جن ميں حنفيہ شافعيہ اور حنابلہ شامل ہيں ) كى رائے ہے اور مالكيہ كا بھى مشہور قول كے خلاف يہى ايك قول ہے كہ پرورش كرنے والا اگر اپنا حق پرورش ساقط كر دے تو يہ ساقط ہو جائيگا، اور اس كے بعد والے كو حق پرورش حاصل ہو جائيگا، اور پرورش كرنے پر اسى صورت ميں مجبور كيا جا سكتا ہے جب كسى كى تعيين ہو اور كوئى دوسرا پرورش كرنے والا موجود نہ رہے، پھر اگر پرورش كرنے والا واپس پلٹ كر اپنا حق طلب كرتا ہے تو يہ حق اسے مل جائيگا " انتہى

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 4 / 250 ).

اور ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" يہاں پرورش كرنے والے كا حق ہے نہ كہ اس پر ہے، اس بنا پر اگر وہ اپنا حق كسى دوسرے كے ليے چھوڑنا چاہتا ہے تو يہ جائز ہے " انتہى

ديكھيں: الشرح الممتع ( 13 / 536 ).

اس بنا پر باپ كے ليے جائز ہے كہ وہ اپنا حق پرورش بچے كى ماں كے ليے چھوڑ دے، چاہے اس كے ليے وہ معاوضہ ہى حاصل كرے.

شيخ محمد عليش مالكى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اگر حق پرورش واجب ہونے كے بعد ماں حق پرورش ساقط كر دے تو يہ اس كے ليے لازم ہوگا، چاہے اس نے معاوضہ يا معاوضہ كے بغير حق ساقط كيا ہو پھر بھى لازم ہوگا " انتہى

ديكھيں: فتح العلى المالك ( 1 / 279 ) اور ( 1 / 326 ).

اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كا ظاہرى اختيار بھى يہى ہے كيونكہ وہ كہتے ہيں:

ميرے نزديك تقسيم وغيرہ سارے حقوق كے بدلے ميں معاوضہ لينا جائز ہے " انتہى

ديكھيں: الفتاوى الكبرى ( 5 / 483 ).

شيخ الاسلام رحمہ اللہ سے دريافت كيا گيا كہ:

ايك شخص كى بيوى كہنےلگى تم مجھے طلاق دے دو ميں نے اپنے سارے حقوق تمہيں معاف كيے اور ميں بيٹى كو لے ليتى ہوں ؟

شيخ الاسلام كا جواب تھا:

جب وہ شخص اس سے اس كے سارے حقوق چھوڑنے پر خلع كرتا ہے اور عورت بچے كى كفالت كى ذمہ دارى ليتى اور نفقہ طلب نہيں كرتى تو جمہور علماء كے ہاں يہ صحيح ہے " انتہى

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 32 / 353 ).

چہارم:

اس كے ساتھ ساتھ پرورش والے بچے اور پرورش كے حقوق كا بھى خيال كرنا ضرورى ہے، مثلا اگر باپ اپنے بچے كا حق پرورش شادى شادہ ماں كے ليے چھوڑ دے اور خود حق پرورش سے دستبردار ہو جائے اور ايسا كرنے ميں بچے كے حقوق كا ضياع اور اس كى ديكھ بھال اور تربيت ميں كوتاہى ہو اور بچے كى مصلحت كا ضياع ہو تو ماں سے حق پرورش چھين كر اس كے بعد دوسرے شخص كو ديا جائيگا جو ماں كى بجائے بچے كى تعليم و تربيت اور ديكھ بھال كا زيادہ خيال ركھے.

الموسوعۃ الفقھيۃ ميں درج ہے:

" بچے كى پرورش كرنے والے اور بچہ دونوں كے ہى پرورش ميں كچھ حقوق ہيں، يہ پرورش كرنے والے كا حق ہے، يعنى اگر وہ پرورش كرنے سے رك جائے تو اسے مجبور نہيں كيا جائےگا كيونكہ يہ اس پر واجب نہيں، اور اگر وہ اپنا يہ حق ساقط كر دے تو ساقط ہو جائيگا، اور اگر وہ اپنا حق واپس لينا چاہے اور اس ميں اہليت بھى ہو تو جمہور علماء كے ہاں اسے حق پرورش واپس مل جائيگا؛ كيونكہ ايسا حق جس كى تجديد سے اس كى بھى تجديد ہو جاتى ہے.

اور يہ محضون يعنى بچہ جس كى پرورش كى جائيگى اس كا بھى حق ہے، يعنى دوسرے معنوں ميں يہ كہ اگر بچہ ماں كے علاوہ كسى دوسرے كو قبول نہيں كرتا، يا پھر ماں كے علاوہ كوئى دوسرا پرورش كرنے والا نہيں، يا پھر باپ اور بچے كے پاس مال نہيں تو اس صورت ميں ماں پر حق پرورش لازم ہوگا اور اسے پرورش كرنے پر مجبور كيا جائيگا " انتہى

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 17 / 301 ).

شيخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" آپ كے علم ميں ہونا چاہيے كہ ہر چيز سے قبل محضون يعنى جس بچے كى پرورش كى جانى ہے اس كا خيال كرنا ضرورى ہے، چنانچہ اگر بچہ دونوں ميں سے كسى ايك كے ساتھ جائے يا پھر ان ميں سے كسى ايك كے ساتھ رہے اور اس ميں اس كے دين يا دنيا پر ضرر ہوتا ہو تو اسے ايسے ہاتھ ميں نہيں رہنے ديا جائيگا جو اسے صحيح راہ پر نہ لگا سكتا ہو اور اس كى اصلاح نہ كر سكے؛ كيونكہ پرورش كا بنيادى مقصد بچے كو ہر نقصان اور ضرر سے محفوظ ركھنا اور اس كى مصلحت كا خيال كرنا ہوتا ہے " انتہى

ديكھيں: الشرح الممتع ( 13 / 545 ).

لہذا اوپر كى سطور ميں جو بيان ہوا ہے اس كى بنا پر خاوند اور بيوى كے ليے جو ذہن ميں آئے پر خلع كرنا جائز ہے، اور خاوند اپنى اولاد كو ان كى ماں كى پرورش ميں ركھ سكتا ہے چاہے وہ آگے كہيں اور بھى شادى كر لے، ليكن شرط يہ ہے كہ اگر ماں كے ساتھ بچوں كے رہنے ميں بچوں كے ليے مصلحت پائى جاتى ہو، اور ماں كى دوسرى شادى بچوں كى پرورش و تربيت ميں مخل نہ ہو، ليكن اگر بچوں كى مصلحت ميں شادى مخل ہوتى ہو تو حق پرورش ماں سے منتقل ہو كر اس شخص كو حاصل ہو جائيگا جو بچوں كى تعليم و تربيت اور پرورش كا زيادہ خيال كرتا ہو.

مزيد فائدہ كے ليے آپ سوال نمبر( 9463 )اور( 20705 ) كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments