188232: زنا سے ٹھہرنے والا حمل ساقط کروا دیا اور جب رمضان آیا تو اسے کہا گیا: تمہارا روزہ اور نمازیں صحیح نہیں ہیں، تو کیا یہ درست ہے؟


سوال: میں نے اپنا حمل دو ہفتے قبل ساقط کروایا ہے، حمل تین ماہ کا تھا، لیکن مجھے اس کا علم ہی نہیں تھا، مجھے اپنے کئے پر بہت ندامت ہے، شاید اگر مجھ میں ہمت ہوتی تو ایسا نہ ہوتا میں ماں بننا چاہتی تھی، لیکن شادی شدہ نہ ہونے کی وجہ سے مجھے بہت خوف آنے لگا، اب رمضان شروع ہو چکا ہے، میں پابندی سے روزے بھی رکھ رہی ہوں، لیکن مجھے کسی نے بتایا ہے کہ میرے روزے اور نماز چالیس دن تک قبول نہیں ہونگے، تو کیا یہ صحیح ہے؟

Published Date: 2015-06-26

الحمد للہ:

اول:

سب سے پہلے  اسقاط حمل پر  آپکو نادم ہونا چاہیے اور آپ کو اس عمل پر مرتب ہونے والے احکامات  جاننے چاہییں: چنانچہ سب سے پہلے زنا سے توبہ کریں جس کی وجہ سے یہ حمل ٹھہرا ہے،  اس کے بعد زنا سے توبہ کے بارے میں پوچھنا چاہیے؛ کیونکہ زنا کبیرہ گناہ ہے، اور انتہائی سنگین جرم ہے، بلکہ اللہ کی ناراضگی، عذاب کا موجب ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا میں حد  لگنے کا بھی موجب ہے۔

چنانچہ آپ  سچے دل سے اپنے گناہ پر پشیمان ہوں ، اور زنا سے سچی توبہ کریں، اور انتہائی ٹھوس عزم کریں کہ آئندہ یہ گھناؤنا جرم نہیں کروں گی، کثرت سے نیک اعمال کریں، اور شرعی نکاح کے ذریعے  اپنے آپ کو عفت اور پاکدامنی  مہیا کریں، اور انسانی یا جناتی شیاطین کیلئے  دوبارہ موقع فراہم مت کریں، بے حیائی اور برائی کے تمام وسائل  ختم کر دیں  جن کی وجہ سے آپ کو برائی کا موقع ملتا ہے۔

دوم:

اگر اسقاط حمل چار ماہ یعنی روح پھونکے جانے سے قبل  ہو تو اس میں کوئی کفارہ یا دیت نہیں ہے، اور اگر  چار ماہ کے بعد  ہو تو آپکو گناہ بھی ملے گا، دیت  بھی دینا ہوگی، اور کفارہ  بھی ادا کرنا ہوگا، دیت کیلئے پانچ اونٹوں کی قیمت، اور کفارے کیلئے دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنے ہونگے۔

مزید کیلئے سوال نمبر: (106448) اور (175536) کا مطالعہ کریں۔

سوم:

یہ کہنا کہ آپ کی چالیس دن تک نماز  اور روزہ قبول نہیں ہونگے یہ باطل بے بنیاد  بات ہے، درست نہیں ہے، تاہم ممکن ہے کہ جس نے آپکو یہ بات کہی ہے اس نے آپکو نفاس کی مدت میں سمجھا ہو، کیونکہ دوران نفاس نماز اور روزہ  درست نہیں ہوتا، چنانچہ اگر آپ کو نفاس کا خون آ رہا ہے تو اس وقت تک نماز ، روزے کا اہتمام نہیں کر سکتیں جب تک نفاس کا خون جاری ہے، جو کہ حمل ساقط کروانے کی وجہ سے شروع ہوا ہے، چنانچہ جب  یہ خون بند ہو جائے اور آپ کی عادت کے مطابق  طہر  حاصل ہو جائے تو پاک صاف ہونے کے بعد نماز روزے کا اہتمام کریں،  اور اگر ماہِ رمضان اس دوران گزر جائے تو جن دنوں کے روزے آپ نے نہیں رکھے  ان کی قضا دیں۔

اگر آپ کو یہ بات کہنے والے کا مقصد یہ تھا کہ آپ کی نماز اور روزہ  نفاس کا خون نہ بھی ہو تب بھی صحیح نہ ہوگا تو یہ بات غلط ہے، بلکہ باطل ہے۔

چنانچہ آپ نماز اور روزے  جاری رکھیں، جس گناہ کا آپ نے ارتکاب کیا ہے اس پر دائمی ندامت، پشیمانی کیساتھ توبہ  جاری رکھیں۔

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ آپ کی دعا قبول فرمائے اور لغزش بخش دے۔

واللہ اعلم.

اسلام سوال و جواب
Create Comments