21573: اگر مٹى اور پانى نہ ملے تو طہارت كے ليے كيا كيا جائے ؟


اگر كوئى شخص طہارت كے ليے پانى اور مٹى نہ پائے تو كيا كرے ؟
اور كيا جب دونوں ميں سے كوئى ايك چيز مل جائے تو كيا نمازيں دوبارہ اد كى جائينگى ؟

Published Date: 2007-05-07

الحمد للہ:

ابن حزم رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

اگر كوئى شخص حضر يا سفر ميں محبوس ہو وہ اس طرح كہ نہ تو اسے مٹى ملے اور نہ ہى پانى، يا پھر سولى كے تختے پر ہو اور نماز كا وقت ہو جائے تو جس حالت ميں ہے مكمل نماز ادا كرلے، چاہے اسے نماز كے وقت ميں پانى مل جائے يا وقت گزر جانے كے بعد پانى ملے دونوں صورتوں ميں نماز نہيں لوٹائےگا.

اس كى دليل اللہ تعالى كا يہ فرمان ہے:

﴿ اپنى استطاعت كے مطابق اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرو ﴾.

اور ارشاد بارى تعالى ہے:

﴿ اللہ تعالى كسى بھى جان كو اس كى استطاعت سے زيادہ مكلف نہيں كرتا ﴾.

اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جب ميں تمہيں كوئى حكم دوں تو اس پر اپنى استطاعت كے مطابق عمل كرو "

اور رب ذوالجلال كا فرمان ہے:

﴿ تم پر جو حرام ہے اس كى تفصيل بيان كر دى گئى ہے، مگر جس كى طرف تم مجبور ہو جاؤ ﴾.

ان نصوص اور دلائل سے ہميں يہ معلوم ہوا كہ شريعت ميں ہم پر وہى لازم ہے جس كى ہم ميں استطاعت ہے، اور جس كى ہمارے اندر استطاعت ہى وہ ہم سے ساقط ہے.

اور يہ بھى صحيح ہے كہ اللہ تعالى نے ہم پر نماز كے ليے وضوء يا تيمم ترك كرنا حرام قرار ديا ہے، الا يہ كہ ہم اسے ترك كرنے پر مجبور ہو جائيں، اور پانى يا مٹى سے روكا ہوا شخص مٹى يا پانى سے طہارت نہ كرنے ميں مضطر ہے، حالانكہ وضوء يا تيمم نہ كرنا حرام ہے، چنانچہ اس حالت ميں ہمارا اس پر اسے حرام كرنا ساقط ہے، وہ ايمان اور نماز كے احكام مكمل كرتے ہوئے نماز ادا كرنے پر قادر ہے، تو اس طرح اس پروہى چيز باقى رہے گى جس كى اس ميں قدرت ہے.

چنانچہ اگر وہ اس طرح نماز ادا كر لے جس طرح ہم نے بيان كيا ہے تو اس نے اسى طرح نماز ادا كى ہے جس طرح اللہ تعالى نے اسے حكم ديا تھا، اور جو شخص اللہ تعالى كے حكم كے مطابق نماز ادا كرتا ہے اس پر كوئى گناہ نہيں، جيسا كہ ہم پہلے بيان كر چكے ہيں كہ نماز اول وقت ميں جلد ادا كرنا افضل ہے.

اور ابو حنيفہ، سفيان ثورى، اوزاعى رحمہم اللہ ـ اور ان جيسے دوسرے ـ كہتے ہيں كہ: جب تك اسے پانى نہ ملے اس وقت تك نماز ادا نہ كرے.

ديكھيں: محلى ابن حزم ( 1 / 363، 364 ).
Create Comments