216: اسلام مخالف ویب سائٹ


میں نے انٹرنیٹ پر ایک اسلام مخالف ویپ سائٹ دیکھی جس کا ایڈریس ۔۔۔۔۔ اس کے بارہ میں ہم کیا کر سکتے ہیں ؟

Published Date: 2003-08-11
الحمد للہ
سوال کرنے والی بہن :

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔

سلام کے بعد میں نے مذکورہ ویب سائٹ کے کچھ صفحات دیکھیں ہیں اورحقیقتا میں نے اسلام کے خلاف بغض و کینہ اورحقد دیکھا اوراس پر اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توھین اورمذاق اوربہتان وغیرہ بھی دیکھیں ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ حقائق کومسخ کرکے پیش کیا گیا لیکن معاملہ بالکل اسی طرح ہے جس کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنے اس فرمان میں ذکر کیا ہے :

{ وہ اپنے مونہوں سے اللہ تعالی کے نور کوبجھانا اورختم کرناچاہتے ہیں اوراللہ تعالی اپنے نور کومکمل کرکے رہے گا ، اگرچہ کافراسے ناپسند ہی کرتے ہوں }

میرے خیال میں یہ کوئ حکمت نہیں کہ اس ویب سائٹ کانام کسی بھی اسلامی صحیفہ یا رسالہ جسے مسلمان پڑھتے ہوں میں ذکر کیا جاۓ تا کہ اس کی خبر لوگوں میں نشر نہ ہو اور یہ نہ ہو کہ ہم بالواسطہ اس کی دعوت دینے لگيں ، میرے خیال میں کسی مترجم سے اوپروالی مذکور آیت اوراس کے علاوہ اوربھی آیا ت کا ترجمہ کرواکربھجنا چاہیۓ مثلا :

اللہ سبحانہ وتعالی کافرمان ہے :

{ یقینا وہ لوگ جو کافر ہیں اپنے مال اس لیے خرچ کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالی کے راستہ سے روکیں ، تووہ اسے خرچ کریں گے اورپھر وہ مال ان پرحسرت بن جائيں گے پھروہ مغلوب ہوں گے اوروہ لوگ جو کافر ہیں انہیں جہنم کی طرف اکٹھا کیا جاۓ گا تاکہ اچھے اوربرے میں تميز کی جاسکے } الانفال ۔

ان کے رد میں اس طرح کی آیات کا بھیجنا ہی کافی ہے کہ انہيں غصہ دلایا جاۓ ، اوریہ کام اللہ تعالی کی عبادت اوراس کا تقرب ہے جیسا کہ اللہ تعالی نےبھی اپنے اس فرمان میں بتایا ہے کہ :

{ اورنہ ہی وہ کسی ایسی جگہ پرچلتے ہيں جو کفار کے لیے غصہ اورغيظ کا موجب ہوا ہو اوردشمنوں کی جوکچھ خبر لی اورانہيں مارا ہو ان سب پر ان کے لیے اعمال صالحہ لکھے جاتے ہيں یقینا اللہ تعالی مخلصین کا اجر ضائع نہیں کرتا } التوبۃ ( 120 ) ۔

اوریہ ضروری ہے کہ ہمیں علم ہونا چاہیے کہ اسلام کے حاقدین و حاسدین بہت زیادہ ہیں ان سب پررد کرنا ایسا معاملہ ہے جوکبھی ختم نہیں ہوسکتا اور خاص کربے ہودہ اوربے ڈھنگے قسم کے شبہات رکھنے والوں کا رد اورمعاملہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح کہ عربی کا شاعر کہتا ہے :

اوراگرہربھونکنےوالے کتے کوپتھر مار کر خاموش کرایا جاۓ توپھر دوچھٹانک کا پتھر ایک دینار کا ملنے لگے ۔

اورآخر میں ہم اللہ تعالی سے دعا گوہیں کہ وہ آپ کودینی غیرت پراجر ‏عظیم عطا فرماۓ اورآپ کو اپنی حفظ وامان میں رکھے اورآپ کے ساتھ اسلام کی تائيید و مدد فرماۓ ۔ آمین یارب العالمین

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments