21636: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قیامت کا وقت کیوں نہیں بتایا


نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قیامت آنے کا وقت کیوں نہیں بتایا ؟

Published Date: 2010-02-02
الحمد للہ
اول :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قیامت قائم ہونے کا وقت اس لیے نہیں بتایا کہ اس کا انہیں خود علم نہیں تھا ، اس کے دلائل سوال نمبر ( 32627 ) کے جواب میں گزر چکے ہیں آپ اس کا مطالعہ کرلیں ۔

دوم :

اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالی نے ہمیں قیامت قائم ہونے کے وقت کا کیوں نہیں بتایا ؟

اس کا مختصر طور پر جواب یہ ہے کہ حکمت کا تقاضایہی تھا کہ اسے مخلوق سے چھپاکررکھا جائے اورانہیں نہ بتایا جائے ۔

اس کی تفصیل اوربیان کچھ اس طرح ہے :

نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لیے مبعوث کیا گیا کہ جواللہ تعالی اوران کی اطاعت کرے اسے جنت کی خوشخبری دیں اورجونافرمانی کرے اسے آگ سے ڈرائيں ، اورقیامت کی ھولناکی اورجہنم کی سختی سے لوگوں کوآگاہ کریں اوراس سے ڈرائيں ، اس چيز کا فائدہ تواسی وقت پورا ہوسکتا ہے جب اس کے وقت میں ابھام ہو اورلوگوں کواس کا علم نہ ہو ۔

تا کہ ہرزمانے اوردور کے لوگ قیامت کے آنے سے ڈرتے رہیں ، لیکن قیامت کے وقت کا لوگوں کو بتادینا اوراس کی تاریخ کی تحدید کرنا اس فائدے کے منافی ہے ، بلکہ اس میں اور بھی کئی قسم کے مفاسد ہيں ۔

اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کویہ فرمادیتے کہ مثلا : قیامت آج سے ایک ہزار برس بعد قائم ہوجائے گی توآپ کذاب قسم کے لوگوں کو دیکھتے کہ وہ اس خبر کا استھزا کرتے اورمذاق اڑاتے ، اوراس کی تکذیب میں الحاء واصرار کرتے ، اورشک کرنے والوں کا شک اورزيادہ ہوجاتا ۔

اس لیے حکمت بالغہ اسی میں تھی کہ قیامت کے وقت کولوگوں سے مبھم ہی رکھا جائے ، جس طرح کہ اللہ تعالی نے ہرانسان کی خاص قیامت جو کہ اس کی موت ہے کا وقت بھی پوشیدہ رکھا ہے ۔

علامہ آلوسی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

اللہ تعالی نے قیامت کے معاملے کو تشریعی حکمت کے تقاضہ پر مخفی رکھا ہے کیونکہ حکمت تشریعی اس کی متقاضی تھی ، اورایسا کرنا اطاعت کے لیے زيادہ مناسب اور معصیت سے روکنے کے لیے زيادہ کارگر ہے ، جس طرح کہ اللہ تعالی نے انسان کی موت کا وقت بھی اس سے مخفی رکھا ہے ۔۔۔

قرآن مجید کی آیات اس پر دلالت کرتی ہيں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی قیامت کے وقت کا علم نہیں تھا ، جی ہاں اتنا تو ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ علم ہے تھا کہ قیامت اجمالی طور پر قریب ہے ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارہ میں بتایا بھی ہے ۔ ا ھـ

لھذا مومنوں پر واجب ہے کہ وہ اس دن سے ڈریں ، اورانہيں چاہیے کہ اس خوف کی بنا پر وہ اپنے اعمال میں اللہ تعالی کے مراقبہ کا خیال رکھیں اورڈریں کہ واللہ تعالی ان کے اعمال کا مراقبہ فرما رہا ہے ، انہيں چاہیے کہ وہ اعمال میں حق کا التزام کریں اورخیر وبھلائي والے کام کریں ، اوراس کے ساتھ ساتھ شر اوربرائي کے کاموں سے اجتناب کریں ، اورقیامت کے معاملے کو نزاع اورجدال کا باعث نہ بنائيں اور اس میں قیل وقال سے کام لیں ۔ ا ھـ دیکھیں تفسیر المنار ۔

اللہ تعالی کی اپنے بندوں پر رحمت و فضل ہے کہ اس نے کچھ ایسی نشانیاں اورعلامات مقرر کردی ہیں جو قرب قیامت پردلالت کرتی ہيں تا کہ وہ اس وجہ سے اعمال صالحہ میں جلدی کریں اوراللہ تعالی کا تقوی اختیار کرتے ہوئے اس کے حرام کردہ کاموں سے اجتناب کریں ، نیز جب بھی وہ قیامت کی نشانیوں میں سے کوئي نشانی دیکھیں تو ان کا خوف اورڈر اورزيادہ ہوجائے اوراس کی ھولناکی سے بچنے کے لیے وہ اعمال صاحلہ کریں جس کی بنا پر ان کا یقین زيادہ ہو اورایمان پختہ اورمضبوط ہو تووہ زیادہ سے زيادہ سے اعمال صالحہ کرنے لگیں ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ توکیا یہ قیامت کا انتظار کررہے ہیں کہ وہ ان کے پاس اچانک آجائے یقینا اس کی علامتیں تو آچکی ہیں } محمد ( 18 ) ۔

اس پر صحیح مسلم کی مندرجہ ذیل روایت بھی دلالت کرتی ہے :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( چھ چيزوں سے قبل اعمال صالحہ میں جلدی کرلو : مغرب کی جانب سے سورج کے طلوع ہونے سے قبل ، یا دھوئيں سے قبل ، یا دجال آنے سے قبل ، یا دابۃ الارض نکلنے سے قبل ، تم میں سے ایک سے ساتھ خصوصی چيز کی آمد سے قبل ، یا پھر عمومی امر کےنازل ہونے سے قبل ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 2947 ) ۔

یعنی قیامت کی آنے کی چھ نشانیوں کے آنے سے قبل اعمال صالحہ میں جلدی کرلو کہ اس کے وقوع کے بعد اعمال کا کوئي اعتبار نہیں اور نہ ہی وہ قبول ہوں گے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ( او خاصۃ احدکم ) اورایک روایت میں تصغیر کے ساتھ یعنی ( خویصۃ احدکم ) کے ساتھ ہے ۔

اس کا معنی یہ ہے کہ جوانسان کے اپنے ساتھ خاص ہے کسی اورکے ساتھ نہيں ، اس سے مراد انسان کی اپنی موت ہے جو اس سے ساتھ ہی خاص ہے اوراگر وہ اس کے آنے سے قبل اعمال نہ کرے تواسے اعمال کرنے سے روک دیتی ہے ، اور( امر العامۃ ) سے مراد قیامت ہے ۔

قاضی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا ہے کہ ان چھ نشانیوں کے آنے سے قبل اعمال میں جلدی کرلیں کیونکہ جب یہ نشانیاں ظاہر ہوں گی تو لوگوں میں دھشت پھیل جائے گی اوروہ اعمال نہيں کرسکیں گے یا پھر توبہ کا دروازہ ہی بند کردیا جائے گا ، اوراعمال ہی قبول نہیں ہونگے ۔

علائی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

ان احادیث کا مقصد یہ ہے کہ اعمال صالحہ کرنے پر ابھاراجائے تا کہ موت اورآفات آنے سے قبل والے وقت کو موقع غنیمت جانتے ہوئے اعمال صاحلہ کرلیے جائيں ۔

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم وقت کوغنیمت جانتے ہوئے اسے اطاعت وفرمانبرداری میں صرف کریں ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments