22021: عورتوں کا جھوٹے عذر پیش کرکے نماز ترک کرنا


بعض سکولوں میں طالبات پرنماز باجماعت کا اہتمام کرنا ضروری ہے اوروہ حیض والی لڑکیوں کوایک خاص جگہ بیٹھنے کی اجازت دیتے ہیں ، تواس طرح کچھ لڑکیاں اللہ تعالی انہیں ھدایت دے اپنی نگران کے سامنے جھوٹ بولتی ہیں کہ انہیں ماہواری آئ ہوئ ہے اوروہ اتنے دن نمازنہيں پڑھتیں ، اورجب ماہواری آتی ہے تو ذلت سے بچنے کےلیۓ سب کے ساتھ نماز میں کھڑی ہوجاتی ہیں ، توایسی لڑکیوں کے اس جھوٹ کا کیا حکم ہے ؟

Published Date: 2003-05-28
الحمد للہ
ان کا ایسا کرنا جائز نہیں اس لیے کہ اس میں کئ ایک جرم ہيں :

اول : اس دعوی میں صریح اورواضح جھوٹ بول کرعذر پیش کرنا ۔

دوم : نماز کا مکمل ترک کرنا یا پھر اس کے وقت میں تاخیر کرنا ، اوریا پھر عورتوں کی جماعت کوترک کرنا ۔

سوم : بعد میں حقیقی ماہواری کی حالت کے اندر نماز کی ادائيگی ۔

توآپ انہيں وعظ ونصیحت کریں اوران کے سامنے جھوٹ کاگناہ اورنماز میں وقت سے تاخیرکی سزا بیان کریں اس لیے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ جولوگ اپنی نماز میں کوتاہی کرتے ہیں }الماعون ( 5 ) ۔

اورجولڑکی بھی نماز میں تاخیر کرے یا پھر ماہواری کی حالت میں نماز پڑھے تواسے ‎سزا ضروردی جاۓ تا کہ اسلام کے ناپسندیدہ کام رک جائيں ۔

واللہ تعالی اعلم ۔ .

یہ جواب شیخ عبداللہ بن جبرین نے نے فتاوی شرعیہ کے سلسلہ میں لکھوایا دیکھیں : الفتاوی الشرعیۃ ( 1 / 99 ) ۔
Create Comments