221178: یومیہ، ہفتہ وار اور ماہانہ کون کون سے نیک عمل ہیں؟


سوال: یومیہ، ہفتہ وار اور ماہانہ کون کون سے نیک عمل ہیں؟

Published Date: 2017-06-14

الحمد للہ:

اول:

عبادات کی تفصیلات بہت زیادہ  ہیں، یہاں انہیں ذکر کرنے کی گنجائش نہیں ہے، تاہم سائل ان کی تفصیلات جاننے کیلیے درج ذیل کتب  سے رجوع کر سکتا ہے:

-        امام منذری کی کتاب: "الترغیب و الترہیب" اس کے ساتھ "صحیح الترغیب و الترہیب" اور "ضعیف الترغیب و الترہیب" یہ دونوں شیخ البانی کی کتابیں ہیں تا کہ آپ کو صحیح اور ضعیف احادیث کا حکم معلوم ہو سکے۔

-        اسی طرح امام نووی کی کتاب: "ریاض الصالحین" اور خصوصاً اس میں سے "کتاب الفضائل" لازمی پڑھیں۔

دوم:

یومیہ عبادات میں: پانچوں نمازیں، نمازوں کیلیے وضو، وضو اور نماز کے وقت مسواک استعمال کرنا، با جماعت نماز ادا کرنا، نمازوں سے پہلے یا بعد میں سنت مؤکدہ ادا کرنا، نماز اشراق کا اہتمام ، قیام اللیل اور وتر ادا کرنا، صبح اور شام کے اذکار کرنا، اسی طرح گھر داخل ہوتے وقت، گھر سے نکلتے وقت، مسجد میں جاتے ہوئے اور نکلتے ہوئے، بیت الخلاء میں جاتے ہوئے اور باہر نکلتے ہوئے، کھانا کھاتے وقت اور فرض نمازوں کے بعد یا اس کے علاوہ امور کے متعلق مخصوص اذکار اور دعاؤں کا اہتمام کرنا، مؤذن  کی اذان سننے کے بعد اس کا جواب دینا۔

ہفتہ وار عبادات میں یہ امور شامل ہیں:
نماز جمعہ کا اہتمام، جمعہ کے دن یا رات میں  سورہ کہف کی تلاوت کرنا، جمعہ کے دن اور رات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا، سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھنا۔

ماہانہ عبادات میں یہ امور شامل ہیں:

ہر ماہ میں تین روزے رکھنا اس کیلیے افضل یہ ہے کہ ایام بیض یعنی چاند کی 13، 14 اور 15 کو روزہ رکھیں۔

سالانہ اور تہواری عبادات میں یہ امور شامل ہیں:
ماہِ رمضان کے روزے ، مسجد میں با جماعت تراویح ، عیدین کی نماز ، صاحب استطاعت کیلیے حج، جس پر زکاۃ واجب ہوتی ہے وہ زکاۃ ادا کرے، رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف بیٹھنا، شوال کے چھ روزے رکھنا، محرم میں عاشورا سے ایک دن پہلے یا بعد والا دن ملا کر دو روزے رکھنا، یوم عرفہ کا روزہ، ذو الحجہ کے پہلے عشرے میں کثرت سے نیک اعمال کا اہتمام۔

اسی طرح کچھ عبادات ایسی بھی ہیں جن کیلیے کوئی وقت مقرر نہیں ہے لہذا انہیں کسی بھی وقت سر انجام دیا جا سکتا ہے، ان اعمال میں قلبی عبادات بھی  ہیں اور عملی بھی ہیں؛ مثلاً: جن اوقات میں نماز ادا کرنے سے منع کیا گیا ہے ان سے ہٹ کر نوافل کا اہتمام کرنا، نفل روزے رکھنا، عمرہ کرنا، ذکرِ الہی، تلاوتِ قرآن، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود ، دعا، استغفار، والدین سے حسن سلوک، صلہ رحمی، صدقہ، تمام مسلمانوں کو سلام کہنا،  حسن اخلاق، زبان کی حفاظت، اللہ تعالی سے محبت، اللہ تعالی کا خوف دل میں رکھنا، اسی سے امید لگانا، اللہ تعالی پر توکل کرنا، اس کے فیصلوں پر راضی رہنا، اس کے وعدوں پر یقین رکھنا اور صرف اللہ تعالی سے ہی مدد مانگنا۔

اسی طرح کچھ اعمال ایسے بھی ہیں جو کسی سبب کی بنا پر سر انجام دیے جاتے ہیں، چنانچہ جب ان کے اسباب پائے جائیں وہ اعمال بجا لائے جاتے ہیں، مثلاً: بیمار کی عیادت کرنا، جنازے کے ساتھ چلنا، نماز جنازہ ادا کرنا، تعزیت کرنا، چھینک مارنے والے کی الحمد للہ کہنے پر "يَرْحَمُكَ اللهُ" کہنا، سلام کا جواب دینا، نماز استخارہ ، نمازِ توبہ، نماز کسوف ، نماز استسقا، جھگڑے ہوئے افراد میں صلح کروانا، نظریں جھکا کر رکھنا، کسی کو تکلیف نہ دینا، کسی کے تکلیف دینے پر صبر کرنا۔۔۔ الخ

سلف صالحین ایک دن میں چار قسم کی عبادات یک جا کرنے کو اچھا سمجھتے تھے وہ چار عبادات یہ  ہیں: روزہ، صدقہ، جنازے کے ساتھ چلنا اور مریض کی عیادت کرنا؛ اس کی وجہ یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: (جس شخص میں یہ چار چیزیں جمع ہوں تو وہ جنت میں داخل ہو گیا) مسلم: (1028)

واللہ اعلم.

اسلام سوال و جواب
Create Comments