22394: حدیث ( لاتکتبوا عنی ۔۔ ) کا معنی اور تصحیح


کیا مندرجہ ذيل حديث صحیح ہے اور اس کا معنی کیا ہے ؟
( مجھ سے لکھا نہ کرو ، اورجس نے قرآن کے علاوہ جوکچھ لکھا ہے وہ اسے مٹا دے ) ، اللہ تعالی آّپ کوجزاۓ خیر عطا فرماۓ ۔

Published Date: 2004-01-09
الحمد للہ
ابوسعید خدری رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

(مجھ سے لکھا نہ کرو ، اورجس نے قرآن کے علاوہ جوکچھ لکھا ہے وہ اسے مٹا دے اورمیری طرف سے حديث بیان کرنے میں کوئ حرج نہیں ۔۔ ) صحیح مسلم کتاب الزھدوالرقائق حدیث نمبر ( 5326 ) ۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالی شرح مسلم میں لکھتے ہیں کہ :

قاضي کا قول ہے کہ کتابت علم کے بارہ میں صحابہ اورتابعین میں بہت سا اختلاف تھا ان میں اکثر نے تو اسے مکروہ جانا ، لیکن اکثر نے اسے جائز قرار دیا ہے ، پھرمسلمان اس کے جواز پرجمع ہوگۓ اور یہ اختلاف ختم ہوگیا ۔

اس حدیث میں وارد نہی سے کیا مراد ہے اس میں اختلاف پایا جاتا ہے :

ایک قول تویہ کہ : یہ اس کے حق میں ہے جس کا حفظ واثق ہے اور اسے حفظ میں پوراوثوق حاصل ہے اوروہ اس سے ڈرتا ہے کہ اگر وہ لکھنا شروع کردے تووہ کتابت پر ہی بھروسہ کرلے گا اورحفظ خراب ہوگا ۔

اوروہ احادیث جس میں لکھنے کی اباحت ہے انہیں اس پرمحمول کیا جاۓ گا کہ وہ ان کے لیے ہیں جن کا حفظ کمزور ہے اوروہ حفظ میں وثوق نہیں رکھتے ، مثلا حدیث ابوشاہ ، اور صحیفہ علی رض اللہ تعالی عنہ والی حدیث ، اور اسی طرح عمرو بن حزم رضی اللہ تعالی عنہ کی حديث جس میں فرائض ، سنن اوردیات کا تذکرہ ملتا ہے ۔

اور اسی طرح وہ حدیث جس میں زکاۃ کا نصاب اورکتاب الصدقہ کا ذکر ہے اور ابوبکررضی اللہ تعالی عنہ نے انس رضي اللہ تعالی عنہ کودے کربحرین کی جانب روانہ کیا تھا ، اور ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ والی حديث جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ لکھا کرتے اورمیں نہیں لکھتا تھا ، اس کے علاوہ اوربھی بہت ساری احادیث ملتی ہیں ۔

اوریہ بھی کہا گيا ہے کہ :

نہی والی حدیث ان احادیث کےساتھ منسوخ ہے ، نہی اس وقت تھی جب اس بات کا ڈر تھا کہ احادیث کا قرآن مجید میں اختلاط نہ ہوجاۓ تو جب یہ خوف ختم ہوا تولکھنے کی اجازت دے دی گئ ۔

اوریہ بھی کہا گيا ہے کہ :

ایک ہی صحیفہ میں قرآن اورحدیث کولکھنے کی ممانعت تھی تاکہ مل نہ جاۓ اور قاری پر ایک ہی صحیفہ میں مشابہت نہ ہو ۔

واللہ تعالی اعلم ، ا ھـ ۔ دیکھیں شرح مسلم ( 18 / 129 - 130 ) ۔

امام بخاری رحمہ اللہ الباری حدیث ابی شاہ کواس طرح بیان کرتے ہیں :

ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ سے نوازا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوۓ اور اللہ تعالی کی حمدوثنا بیان کرنے کےبعد فرمایا :

بلاشبہ اللہ تعالی نے مکہ سے ہاتھیوں کوروک دیا اور اپنے رسول اور مومنوں کواس پرمسلط کردیا ، دراصل بات یہ ہے کہ مکہ نہ تومجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال تھااورمیرے لیے بھی دن میں تھوڑی دیرکےلیےحلال کیاگيا ہے اور نہ ہی میرے بعد کسی کے لیے حلال ہوگا ۔

تواس کا شکاربھگا کرباہرنہیں نکالا جاۓ گا ، اور نہ ہی اس کے درخت کاٹے جائيں گے اور نہ ہی اس میں گری ہوئ چیز ہی حلال ہے الا یہ کہ کوئ اسے اعلان کرنے کے لیے اٹھاۓ ، اور اگر کسی کا کوئ قتل کردیا جاۓ تواس کے لیے دواختیار ہیں یاتووہ دیت لے اور یا پھر قصاص ۔

عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرمانے لگے اذخر گھاس کے علاوہ اس لیے کہ ہم اسے قبروں اور گھروں کے لیے استعمال کرتے ہیں ، تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اذخر گھاس کے علاوہ ( یعنی باقی درخت حرام ہیں ) تواہل یمن میں سے ابوشاہ کھڑا ہوکر کہنے لگا اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے یہ لکھ دیں ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوشاہ کولکھ دو ۔

صحیح بخاری اللقطۃ حديث نمبر ( 2254 ) صحیح مسلم الحج حدیث نمبر ( 1355 ) ۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ ابوشاہ کے قصہ سے یہ استفادہ کیا جاسکتا ہے کہ ( اکتبوا لابی شاہ ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے حدیث لکھنے کی اجازت عطا فرما دی ہے ۔

اس حدیث کا صحیح مسلم کی ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ والی حدیث سے تعارض ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :

( قرآن کے علاوہ مجھ سے کچھ بھی نہ لکھا کرو ) صحیح مسلم ۔

توان دونوں کے درمیان جمع اس طرح ممکن ہے کہ لکھنے کی نھی نزول قرآن کے وقت خاص ہے تا کہ وہ حدیث سے خلط ملط نہ ہو جاۓ ، اور نزول قرآن کے وقت کے علاوہ لکھنا جائز ہے ۔

یا پھر یہ کہ نھی ایک ہی صحیفہ میں قرآن اور غیر قرآن لکھنے کے ساتھ خاص ہے ، اوران دونوں کوعلیحدہ علیحدہ لکھنے کی اجازت ہے ۔

یا پھر نھی مقدم اوربعدمیں جب خلط ملط ہونے کا خطرہ جاتا رہا تو اجازت دے کر منسوخ کردیا گیا ، اوریہ توجیہ اقرب ہے اور پھریہ اس کے منافی بھی نہیں ۔

اوریہ بھی کہا گيا ہے کہ : نھی اس کے ساتھ خاص ہے جس کاحفظ کوچھوڑ کرصرف کتابت پر بھروسہ کرنے کا خدشہ ہو ، اورجس سے یہ خدشہ نہ ہو اسے اجازت ہے ۔

علماءکرام رحمہم اللہ کا کہنا ہے کہ :

صحابہ کرام اورتابعین میں سے ایک جماعت لکھنا پسند نہیں کرتی تھی بلکہ وہ یہ پسند کرتے تھے کہ جس طرح انہوں نے حفظ کیا ہے وہ بھی احادیث کوحفظ کریں ، لیکن جب اس کام کے لیے ہمتیں ناکافی اورامت کو یہ خدشہ پیدا ہوا کہ علم ضائع ہوجاۓ توانہوں نے اس کی تدوین کرلی ۔ ا ھـ فتح الباری ( 1 / 208 ) ۔

واللہ تعالی اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments