2267: فراغت جيسى مشكل سے نپٹنے كا اسلامى حل


فراغت جيسى مشكل سے نپٹنے كا اسلامى حل كيا ہے ؟

Published Date: 2007-11-10

الحمد للہ:

فارغ وقت كى اسلامى تعريف كسى ايسے وقت كے وجود كو قبول ہى نہيں كرتى جس ميں انسان كسى بھى حكم يا مفيد كام سے آزاد و فارغ ہو، اور ا سكا وقت بيكار چلا جائے، كچھ حقوق تو ايسے ہيں جن كا تعلق اللہ سے ہے، اور كچھ حقوق بندوں سے متعلق ہيں جن كى ادائيگى ضرورى ہے.

ان سب حقوق كو شرعى طور پر ادا كرنے كے ليے مسلمان شخص كے سامنے كئى ايك خير و بہترى كے راستے ہيں، جن كى نہ تو كوئى شروط مقرر كى گئى ہيں، اور نہ ہى انہيں تنگ وقت ميں محصور كيا گيا ہے، اور اس پر چلنے كا اجروثواب بہت زيادہ ہے.

دين اسلام نے فرائض كے بعد فارغ اوقات كو نافع اور مفيد كام كر كے گزارنے پر ابھارا ہے، جو انسان كے بيدار ہونے سے ليكر اس كى نيند تك ميں اللہ تعالى كى راہ كى طرف چلنے ميں معاون ثابت ہوتے ہيں، اور وہ اس طرح كوئى وقت فارغ ہى نہيں پاتا جس كو پر كرنے كے ليے اسے شكايت كا موقع ملے، اور اسے وقت گزارى كے ليے اپنى طاقت ضائع كرے يا اصل منہج سے ہى ہٹ جائے.

اور ا سكا معنى يہ نہيں كہ مخلوق انسانى كو ختم اور ہلاك كيا جائے ....

دين اسلام جس كے اہداف ميں انسان كو اچھى اور پاكيزوں چيزوں سے نفع حاصل كرنے، اور دنيا ميں سے بھى اپنا حصہ لينے كى دعوت ديتا، كبھى بھى اس كے اہداف ميں يہ شامل نہيں.

سارا مشغلہ يہى نہيں كہ طاقت كو فنا يا ضائع كر ديا جائے، كيونكہ كچھ تو اس ميں سے عبادت كے ليے چاہيے، اور كچھ دل ميں اللہ كى ياد كے ليے، اور كچھ دوپہر كے وقت آرام كے ليے، اور كچھ رات كے وقت اہل و عيال اور دوستوں كے ساتھ اچھى اور بہتر بات چيت كے ليے، اور كچھ وقت آپس ميں ايك دوسرے كو ملنے اور زيارت كرنے كے ليے، اور كچھ لطيف قسم كى كھيل كود اور ہنسى مذاق كے ليے، اور دوسرى سيرو تفريح كے ليے.

ليكن اہم چيز يہ ہے كہ انسان كى زندگى ميں كوئى ايسا فارغ وقت نہيں جس ميں كچھ نہ كچھ كرتا نہ ہو، يا پھر ايسى فراغت جس ميں وہ شر و فساد اور خرابى ميں مشغول ہوتا ہے، اور جب دين اسلام نے جاہليت كى عادات اور رسم و رواج اور تہوار و تقريبات،اور جاہليت كى زندگى كے طور و اطوار كو ختم كيا، تو كو فارغ نہيں رہنے ديا كہ مسلمان شخص اسے پر كرنے اور بھرنے ميں حيران و پريشان، يا پھر وہ پھر وہ غير شعورى طور پر ان اوقات كو كسى غير مفيد كام سے پر كريں.

بلكہ اللہ سبحانہ و تعالى نے اسى وقت ان مسلمانوں كے ليے دوسرى عادات و اطور، اور تہوار و موسم، اور زندگى كے طريقہ مقرر كر ديے جن سے اس فراغت كو پر كيا جا سكتا ہے، وہ ـ دور جاہليت ميں ـ شراب و جوئے كى مجالس ميں اكٹھے ہوتے، يا پھر بتوں كى عبادت كرتے، يا گمراہ قسم كے اشعار پڑھتے جو انسانى ہدف كى تعبير نہيں كرتے تھے.

تو اللہ سبحانہ و تعالى نے انہيں اپنى عبادت پر جمع كيا كہ وہ باجماعت نماز ادا كريں، اور اكٹھے ہو كر قرآن مجيد پڑھيں پڑھائيں، اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى احاديث و راہنمائى كا علم حاصل كريں، اور آپس ميں ايك دوسرے كى زيارت كريں، اور وہ ـ اس سے قبل ـ اپنے تہوار عيد ميں فساد و خرابياں كرتے تھے، تو دين اسلام نے اس تہوار كو ختم كر دے اس كے بدلے ميں مسلمانوں كو اس سے بھى بہتر اور عظيم و پاك صاف، اور اچھے اور بلند اہداف والى دو عيديں عطا فرمائيں.

اور جب ابتدائى دور ميں دين اسلام نے مشركين جو اسلام نہيں لائے تھے ان سے قطع تعلقى، اور مشرك رشتہ داروں سے تعلق منقطع كر ديا، تو اس فراغ تكو مومنوں كے مابين دوستى و ولايت سے مكمل كيا، اور اسے رشتہ دارى كى جگہ بنا ديا، تو يہ فراغت حقيقتا پر ہو گئى، اور ان كى حس ميں يہ خونى رشتہ كے برابر ہو گئى، حتى كہ مدينہ ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انصار اور مہاجرين كے مابين جو بھائى چارہ قائم كيا تھا وہ اس حد تك پہنچ گيا كہ انصار مہاجرين كے ساتھ اپنى ہر چيز تقسيم كرنے لگے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور جنہوں نے اس گھر ميں ( يعنى مدينہ ) اور ايمان ميں ان سے پہلے جگہ بنالى، وہ اپنى طرف ہجرت كر كے آنے والوں سے محبت كرتے ہيں، اور مہاجرين كو جو كچھ دے ديا جائے اس سے وہ اپنے دلوں ميں كوئى تنگى نہيں ركھتے، بلكہ خود اپنے اوپر انہيں ترجيح ديتے ہيں، گو انہيں خود كتنى ہى سخت حاجت و ضرورت ہى كيوں نہ ہو، بات يہ ہے كہ جو بھى اپنے نفس كے بخل كے سے بچايا گيا وہى كامياب و كامران ہے ﴾الحشر ( 9 ).

حتى كہ يہ اخوت و بھائى چارہ تو وراثت ميں شراكت كى حد تك جا پہنچا، ت واس طرح مومن اپنے نفس ميں تو فراغت پاتا ہى نہيں...

محمد قطب، منہج التربيۃ الاسلاميۃ ( 1 / 206 ).

اور اس طرح اسلامى زندگى ميں تو يہ مشكل پائى ہى نہيں جاتى!! اور اللہ تعالى كے ذكر سے آباد دل ميں تو فراغت كا پايا جانا ہى ممكن نہيں ہے، اور نہ ہى ايسى روح ميں جو اللہ تعالى كى عبادت ميں مشغول ہو، وہ تو فرائض كے بعد ذكر و دعا، اور نفلى عبادات ميں مشغول رہتى ہے.

وہ حفظ قرآن اور اس كى تلاوت جيسى عبادت كر كے اللہ كا قرب حاصل كرنے ميں مشغول رہتا ہے.

اور اپنے مومن دوست و احباب كى ملاقات و زيارت، اور جان پہچان والے دوست و احباب ميں سے بيماروں كى بيمار پرسى ميں مشغول رہتى ہے.

اور پھر صاف وقت ميں بيوى بچوں اور مومن احباب كے ساتھ كسى بھى جگہ مشغول رہتا ہے.

ماخوذ از كتاب: قضايا اللھو و الترفيۃ تاليف مادون رشيد ( 63 ).

اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments