22798: صراط مستقیم پر چلنے والی عورت آزمائش کا شکار ہے اور پوچھتی ہے کہ ایسا کیوں ہے


میں نوجوان لڑکی ہوں اور زندگی اچھی گزر رہی تھی لیکن مکمل اسلامی نہیں (میں نمازیں پڑھتی اور روزے رکھتی اور تھوڑا بہت پردہ بھی کرتی ہوں ) اور جب سے میں نے شادی کی ہے الحمد للہ اس وقت سے دین پر زیادہ عمل شروع کر دیا ہے ۔
تو یہاں سے مشکلات کا آغاز ہوا ہے مشکلات کی کثرت نے مجھے تھکا دیا ہے آپ سے گزارش ہے کہ آپ میرے سوال کا جواب دیں اور مجھے نصیحت بھی کریں اور ایسے ہی آپ مجھے ایسی کتاب بتائیں جو کہ میرے لۓ جوابات کی تلاش میں معاون ثابت ہو اگرچہ عربی میں ہی ہو-
میں ہر وقت یہ سوچتی اور کہتی رہتی ہوں کہ شادی سے قبل تو میں ایسی بری نہیں تھی جب میں دوسروں کے ساتھ جو کہ دین پر نہیں چلتے موازنہ کرتی ہوں حالانکہ میں نے بہت زیادہ گناہ بھی نہیں کۓ تو میرے ساتھ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے اوراس کا حل کیا ہے ؟

Published Date: 2004-04-17

الحمدللہ

سب تعریفیں اس اللہ ہی کے لۓ ہیں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام ہو جن کا یہ قول ہے ( بے شک اللہ تعالی نے تمہارے درمیان تمہارے اخلاق کو اسی طرح تقسیم کیا ہے جس طرح کہ تمہارے درمیان رزق کی تقسیم کی ہے اور بے شک اللہ تعالی جس سے محبت کرتا ہے اسے بھی اور جس سے محبت نہیں کرتا اسے بھی دنیا عنایت کرتا ہے اور دین صرف اسے دیتا ہے جس سے محبت کرتا ہے تو اللہ تعالی نے جسے دین عطا کیا اس سے وہ محبت کرتا ہے ------ ) اسے امام احمد نے (3490) روایت کیا اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے سلسلہ الصحیحہ ( 714) میں صحیح کہا ہے ۔

تو اس حدیث کی بناء پر آپ اللہ تعالی کی نعمت پر بہت زیادہ شکر ادا کریں کہ اس نے آپ کو اپنے دین پر استقامت دی ہے اور آپ کو اس کا علم ہونا چاہۓ کہ اس دنیا کا حال آزمائش ہی ہے کیونکہ یہ دار امتحان اور آزمائش ہے ۔

ارشاد باری تعالی ہے :

< اور ہم بطریق امتحان تم میں سے ہر ایک کو برائی بھلائی میں مبتلا کرتے ہیں اور تم سب ہماری طرف لوٹاۓ جاؤ گے > الانبیاء 35

اور ہر آزمائش میں مسلمان کی حالت اس طرح ہونی چاہۓ کہ اسے یقین ہو کہ اللہ تعالی نے اس کے مقدر میں جو بھی کیا ہے اس میں دنیا اور دین کی خیر ہی خیر ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں ۔

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ:

مومن کے علاوہ کسی کے لۓ نہیں اگر اسے کوئی نعمت اور آسانی نصیب ہوتی تو شکر کرتا ہے تو اس میں اس کے لۓ خیر ہے اور اگر اسے تنگی پہنچتی ہے تو اس پر صبر کرتا ہے تو اس میں بھی اس کے لۓ خیر ہے ) اے مسلم (2999) نے روایت کیا ہے ۔

اے سوال کرنے والی بہن ! جو بھی آپ نے ذکر کیا ہے وہ بھی اس ابتلاء اور امتحان میں شامل ہے جسےانسان نہیں چاہتا تو آپ پر واجب یہ ہے کہ آپ اس پر صبر کریں اور آپ کے علم میں ہونا چاہۓ کہ اللہ تعالی کے ہاں ان سب میں خیر ہے جسے وہ آپ کے لۓ چاہتا ہے ۔

اور آپ کی آزمائش کا سبب دین پر استقامت نہیں کیونکہ شرع میں یہ بات مقرر اور واضح ہے کہ دین پر استقامت سعادت کا باعث ہے جس کی ضد بد نصیبی ہے ۔

فرمان باری تعالی ہے :

< جو شخص نیک عمل کرے وہ مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو ہم اسے یقینا نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے > النحل 97 –

اور اللہ عزوجل کا ارشاد ہے :

< تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا نہ تو وہ بہکے گا اور نہ ہی تکلیف میں پڑے گا اور جو میری یاد سے روگردانی کرے گا اس کی زندگی تنگی میں رہے گی > طہ 123- 124

تو ایمان دنیا وآخرت کی سچی اور یقینی سعادت کا سبب ہے اور اللہ تعالی کے ذکر سے اعراض تنگی اور بد نصیبی کا باعث اور دل میں حقیقی سعادت ہے – تو مومن کی آزمائش اس کے منافی نہیں بلکہ یہ دنیاوی آزمائشیں تو انبیاء کو بھی آئیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے ۔

(لوگوں میں سے سب سے زیادہ سخت آزمائش انبیاء پر آتی ہیں پھر ان کے بعد ان سے ملے ہوؤں پر اور پھر ان کے بعد والوں پر ) اسے امام احمد نے (26539) روایت کیا ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے سلسلہ صحیحہ میں (1165) صحیح کہا ہے ۔

اور ایک روایت میں ہے کہ :

( آدمی اپنے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے تو آزمائش اس کے ساتھ رہتی ہے حتی کہ جب اسے چھوڑتی ہے تو وہ زمین پر ایسے چلتا ہے کہ اس کے ساتھ اس کا کوئی گناہ نہیں رہتا ۔

اسے ابن ماجہ نے (4013) روایت کیا ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ابن ماجہ میں (3249) صحیح کہا ہے ۔

اور جیسا کہ پہلی حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ دنیا کی تنگی اور کشادگی انسان کے دین پر موقوف نہیں ۔

اور اے بہن ہماری آپ کو نصیحت یہ ہے کہ :

اپنے آپ کو صبر کرنے کی عادت ڈالیں اور اللہ تعالی کے ساتھ غلط گمان اور فاسد سوچ نہ رکھیں اور ان گمان کی بنا پر استقامت میں کمزوری نہ دکھائیں اور ان کے تعاون میں سب سے اہم چیز دعا ہے بلکہ بعض اوقات آزمائش کے سبب سے انسان اپنے رب سے کثرت سے دعا کرتا ہے جس کی بنا پر اسے بہت زیادہ خیر ہوتی ہے ۔

تو آپ قرآن وسنت سے آزمائش کو ختم کرنے والی مناسب دعائیں اختیار کریں جیسا کہ ایوب علیہ السلام کی دعا ہے ( جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے یہ بیماری لگ گئ ہے اور تو رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ) الانبیاء / 83-

اور اللہ تعالی سے دعا قبول ہونے کا یقین رکھیں اور جلد بازی سے کام نہ لیں کیونکہ اللہ تعالی ماں کے اپنے بیٹے پر رحم کرنے سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے اور اپنے آپ کا شرعی اذکار کے ساتھ بچاؤ کریں ۔

اور صبر پر ممد اور معاون اشیاء میں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ اور ان کی آزمائش اور سختی کے متعلق واقعات کا مطالعہ ہے اور اسی طرح دنیا وآخرت میں صبر کرنے والوں کے اجر کے متعلق غوروفکر اور اس موضوع کی کتابوں میں سے ابن قیم رحمہ اللہ کی کتاب عدۃ الصابرین بہت مفید کتاب ہے ۔

ہم آپ کے لۓ دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی آپ کو صبر اور اجر عظیم سے نوازے اور آپ کو اور آپ کے بیٹے کو شفا کاملہ نصیب فرمائے اور آپ کے حالات اپنے خاوند اور گھر والوں کے ساتھ اچھے اور بہتر رہیں اور ہمیں اور آپ کو حق پر ثابت قدم رکھے – آمین

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments