25758: سامان پر ليے جانے والے ٹيكس كا حكم


ايكسپورٹ كيے جانے والے سامان كے كسٹم كيا حكم كيا ہے؟
اور كيا كسٹم كى كمى كے ليے كسى ملازم كو رقم دينى جائز ہے؟ مثلا سامان پر لگنے والے كسٹم كى تحديد كرنے والے ملازم كو كچھ رقم دى جائے كہ كسٹم كى رقم ميں كمى كردے يا پھر غير حقيقى رپورٹ پيش كرے ؟

Published Date: 2006-06-04

الحمد للہ :

مسلمانوں سے ليے جانےوالے ٹيكس حرام ہيں، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

{اے ايمان والو! تم اپنے مال آپس ميں باطل طريقہ سے نہ كھاؤ} النساء ( 29 ).

اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" كسى مسلمان شخص كا مال اس كى خوشى اور رضامندى كے بغير حلال نہيں"

اسے امام احمد نے روايت كيا ہے، اور علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے ارواء الغليل حديث نمبر ( 1459 ) ميں صحيح قرار ديا ہے.

اور صديق حسن خان بخارى اپنى كتاب" الروضۃ النديۃ" ميں مسلمانوں سے ليے جانے والے كسٹم كے متعلق كہتے ہيں:

( تحقيق كے وقت يہ ثابت ہوتا ہے كہ يہ بلاشك و شبہ ٹيكس ہے )اھـ

ديكھيں: الروضۃ النديۃ ( 2 / 215 ).

اور مكس: ميم پر زبر ہے، يہ ٹيكس اور تاوان كو كہتے ہيں، وہ دراہم اور پيسے ہيں جو جاہليت ميں بازار كے اندر سودا سلف فروخت كرنے والے سے ليے جاتے تھے، يا پھر جب تاجر گزرتے تو ان سے وصول كيے جاتے تھے.

ديكھيں: عون المعبود حديث نمبر ( 2548 ).

اور ٹيكس لينا كبيرہ گناہوں ميں شامل ہوتا ہے كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ نے اس عورت كے متعلق جس نے زنا كيا اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس حد لگوانے آئى تھى اس كے بارہ ميں فرمايا:

" اس ذات كى قسم جس كے ہاتھ ميں ميرى جان ہے، اس نے ايسى توبہ كى ہے اگر اس طرح كى توبہ ٹيكس لينے والا بھى كرے تو اسے معاف كرديا جائے"

صحيح مسلم شريف حديث نمبر ( 3208 ).

امام نووى رحمہ اللہ تعالى مسلم كى شرح ميں كہتے ہيں:

اس ميں يہ بيان ہوا ہے كہ: ٹيكس قبيح قسم كى معصيت و نافرمانيوں اور گناہ و ہلاكت ميں سے ہے. اھـ

ديكھيں: شرح مسلم للنوى ( 11 / 203 ).

جب مسلمان شخص كو اپنے سے اس ظلم كو دور كرنے كے ليے كچھ رقم دينے كے علاوہ كوئى اور طريقہ اور وسيلہ نہ ملے تو دينے والے كے ليے كسٹم كے ملازم كو كچھ رقم دينى جائز ہے، ليكن اس ملازم نے جو مال ليا ہے وہ اس پر حرام ہو گا.

ديكھيں: مجموع الفتاوى شيخ الاسلام ابن تيميۃ ( 30 / 358-359 ).

يہ اس وقت ہے جب اضطرارى رشوت ديتے وقت كوئى اس سے بھى بڑا فساد اور مشكل پيش نہ آتى ہو، ليكن اگر رقم دينے سے زيادہ فساد پيدا ہوتا ہو تو پھر اس وقت ايسا كرنا جائز نہيں.

اور اس طرف بھى متنبہ ہونا ضرورى ہے كہ: جھوٹ اور كذب بيانى ميں نہيں پڑنا چاہيے، اور اگر كوئى شخص اس كسٹم كى ادائيگى پر مجبور ہو جائے تو وہ ادا كر دے اور اپنے اوپر ہونے والے ظلم كا اللہ تعالى سے اجروثواب لينے كى نيت ركھے.

واللہ اعلم .

شيخ محمد صالح المنجد
Create Comments