26106: جھاد بالمال مالداروں پر فرض ہے


ميں ايك مسلمان عورت ہوں الحمد للہ ميں بہت مالدار ہوں، كيا مجھ پر واجب ہے كہ ميں يہ مال ان مسلمانوں كو دوں جن كے علاقوں كو كفار اپنے قبضہ ميں كرنے كى كوشش كر رہے ہيں، اور وہ اپنى زمين كفار كے پنجہ سے چھڑانے كى جدوجھد كر رہے ہيں، اور انہيں قتل كيا جا رہا ہے، جيسا كہ شيشان اور اور فلسطين وغيرہ دوسرے مسلمان ملكوں ميں ؟

Published Date: 2013-06-25

الحمد للہ:

مسلمانوں پر پورى دنيا ميں اپنے كمزور مسلمان بھائيوں كى مدد و نصرت كرنا فرض ہے.

ارشاد بارى تعالى ہے:

{مومن سب آپس ميں بھائى بھائى ہيں} الحجرات ( 10 ).

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" مسلمان مسلمان كا بھائى ہے، نہ تو وہ اس پر خود ظلم كرتا ہے اور نہ ہى اسے ظلم كرنے كے ليے كسى دوسرے كے سپرد كرتا ہے"

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2442 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2580 )

اور مسلم رحمہ اللہ نےايك حديث ميں يہ الفاظ زيادہ ذكر كيے ہيں:

" اور نہ ہى اسے ذليل كرتا ہے"

صحيح مسلم حديث نمبر ( 2546 ).

حافظ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

"اور نہ ہى وہ اسے كسى كے سپرد كرتا ہے"

يعنى وہ اسے اس شخص كے پاس نہيں چھوڑتا اور اس كے سپرد نہيں كرتا جو اسے تكليف اور اذيت سے دوچار كرتا رہے، اور نہ ہى وہ اسے ايسے كام اور تكليف ميں چھوڑتا ہے جس سے اسے اذيت محسوس ہوتى ہو، بلكہ وہ اس كى مدد كرتا اور اس كا دفاع كرتا ہے...

اور بعض اوقات يہ واجب ہے، اور بعض اوقات مندوب، يہ حالات كے مطابق ہو گا. اھـ

اور " النھايۃ " ميں ہے كہ:

علماء رحمہ اللہ تعالى كا كہنا ہے: ذليل و رسوا كرنا يہ ہے كہ اس كى معاونت اور مدد كرنا ترك كر دى جائے، اور اس كا معنى يہ ہے كہ: جب وہ مسلمان شخص كسى ظلم وغيرہ كے روكنے ميں مدد طلب كرتا ہے تو اس كى مدد كرنا ممكن ہونے اور كوئى شرعى عذر نہ ہونے كى صورت ميں مدد كرنا ضرورى ہے. اھـ

شيشان اور فلسطين ( كشمير ) فلپائن ) وغيرہ دوسرے ملكوں ميں جو كفار كے قبضہ اور كنٹرول ميں ہيں يا ان علاقوں ميں جہاں كفار كنٹرول كرنے كى كوشش كر رہے ہيں يہاں دفاعى جھاد ہے، اور دفاعى جھاد كا حكم سوال نمبر ( 34830 ) كے جواب ميں بيان ہو چكا ہے اس ليے آپ اس جواب كا ضرور مطالعہ كريں.

اور اگر مسلمان شخص اپنے مسلمان بھائى كى مدد اپنى جان كے ساتھ كر سكتا ہو تو پھر اس پر ان كى مدد كرنا لازم ہے، اور اگر وہ مالدار ہو تو اسے ان كے ساتھ اپنے مال سے بھى جھاد كرنا چاہيے.

اور اسى طرح عورت پر بھى مال كے ساتھ جھاد كرنا واجب ہے.

كتاب اللہ ميں جھاد بالمال كو جھاد بالنفس كے ساتھ ملا كر ذكر كيا گيا ہے.

ارشاد بارى تعالى ہے:

{تم ہلكے ہو پھر بھى نكلو، اور بوجھل ہو تو پھر بھى نكلو، اور اپنے مالوں اور جانوں كے ساتھ اللہ كے راستے ميں جھاد كرو، يہ تمہارے ليے بہت بہتر ہے اگر تم ركھتے ہو} التوبۃ ( 41 ).

اور ايك دوسرے مقام پر فرمايا:

{اپنى جانوں اور مالوں سے اللہ تعالى كے راستے ميں جہاد كرنے والےمومن اور بغير عذر كے بيٹھ رہنے والے مومن برابر نہيں، اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد كرنے والوں كو بيٹھ رہنے والوں پر اللہ تعالى نے درجوں ميں بہت فضيلت دے ركھى ہے، يوں تو اللہ تعالى نے ہر ايك سے خوبى اور اچھائى كا وعدہ كر ركھا ہے، ليكن اللہ تعالى نے مجاہدين كو بيٹھ رہنے والوں پر بڑے اجر كى فضيلت دے ركھى ہے} النساء ( 95 ).

اور ايك مقام پر اللہ سبحانہ وتعالى نے فرمايا:

{جو لوگ ايمان لائے اور ہجرت كى اور اللہ كى راہ ميں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد كيا وہ اللہ تعالى كے ہاں بہت بڑے مرتبہ والے ہيں، اور يہى لوگ مراد پا جانے والے كامياب ہيں} التوبۃ ( 20 ).

اور ايك مقام پر ارشاد ربانى ہے:

{ايمان والے تو صرف وہى ہيں جو اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم پر ايمان لائے، پھر وہ كسى قسم كے شك ميں نہ پڑے، اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ كى راہ ميں جہاد كيا، يہى لوگ سچے ہيں} الحجرات ( 15 ).

ابو داود رحمہ اللہ تعالى نے انس رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" مشركوں سے اپنے مالوں اور اپنى جانوں اور اپنىزبانوں سے جہاد كرو"

صحيح ابو داود حديث نمبر ( 2186 ).

يہ حديث جہاد بالنفس كے وجوب كى دليل ہے، يعنى خود بنفس نفيس كفار كے مقابلہ ميں نكلا جائے، اور يہ حديث جہاد بالمال كى دليل بھى ہے، يعنى مال كو جہاد كے اخراجات اور اسلحہ وغيرہ كى خريدارى اور جہاد پر جانے والوں كى ضروريات پورى كى جائيں.

اور يہ حديث لسانى جہاد كى دليل بھى ہے، كہ ان كفار كے خلاف مضامين لكھے جائيں اور انہيں اللہ تعالى كى دعوت دى جائے، اور ان كے خلاف حجت قائم كى جائے، اور مقابلے اور لقاء كے وقت آوازيں نكال كر اور انہيں ڈانٹ ڈپٹ كر زبانى جہاد كيا جائے، يعنى ہر وہ كام جس ميں دشمن كو تكليف اور اذيت اور شكست ہو. اھـ

امام شوكانى رحمہ اللہ تعالى اپنى كتاب" نيل الاوطار" ميں كہتے ہيں:

اس ميں كفار كے ساتھ مال، ہاتھ، زبان كے ساتھ جہاد كرنے كے وجوب كى دليل ملتى ہے، اور جہاد بالمال اور جہاد بالنفس تو قرآنى حكم كے مطابق كئى اسك مقامات سے ثابت ہے، جو ظاہرا وجوب پر دلالت كرتا ہے. اھـ

ديكھيں: نيل الاوطار ( 8 / 29 ).

اور شيخ الاسلام ابن تيميۃ رحمہ اللہ تعالى " الاختيارات" ميں لكھتے ہيں:

جو شخص بدنى جہاد كرنے سے عاجز ہو، اور جہاد بالمال كى قدرت و استطاعت ركھتا ہو اس پر جہاد بالمال كرنا واجب ہے، لھذا مالداروں پر اللہ تعالى كى راہ ميں خرچ كرنا واجب ہے.

اور اس بنا پر عورتوں پر بھى اگر ان كے پاس مال ہے تو ان كا مال سے جہاد كرنا واجب ہے، اور اسى طرح چھوٹے بچوں كے اموال ميں اگر اس كى محتاج ہوا جائے تو پھر جيس طرح نفقات اور زكاۃ واجب ہوتى ہے.

ليكن اگر دشمن حملہ آور ہو جائے تو پھر كسى قسم كے اختلاف كى كوئى وجہ ہى باقى نہيں رہتى، كيونكہ دين، جان، اور حرمت سے ان كے ضرر كو دور كرنا اور روكنا بالاجماع واجب ہے. اھـ

ديكھيں: الاختيارات ( 530 )

اور اللہ تعالى كى راہ ميں مال خرچ كرنا صدقات ميں سب سے افضل اور زيادہ اجروثواب كا باعث ہے، اور پھر اللہ تعالى نے تو اللہ كى راہ ميں خرچ كرنے والے شخص كے ساتھ اجر جزيل كا وعدہ كرتے ہوئے فرمايا ہے:

{جو لوگ اللہ كى راہ ميں اپنا مال خرچ كرتے ہيں اس كى مثال اس دانے جيسى ہے جس ميں سات بالياں نكليں اور ہر بالى ميں سو دانے ہوں، اور اللہ تعالى جسے چاہے بڑھا چڑھا كر دے، اور اللہ تعالى كشادگى والا اور علم والا ہے} البقرۃ ( 261 ).

سعدى رحمہ اللہ تعالى اس كى تفسير ميں كہتے ہيں:

{جو لوگ اللہ كى راہ ميں اپنا مال خرچ كرتے ہيں}

يعنى: اس كى اطاعت و فرمانبردارى اور اس كى رضامندى كے حصول كے ليے، اور ان سب سے اولى جہاد فى سبيل اللہ ميں مال خرچ كرنا ہے.

{اس كى مثال اس دانے جيسى ہے جس ميں سات بالياں نكليں اور ہر بالى ميں سو دانے ہوں}

اس مثال ميں يہ اضافہ كى يہ صورت اور تصوير لانا ايسے ہى جيسے كہ بندہ اپنى آنكھوں سے اس كا مشاہدہ كر رہا ہے، اور وہ اجروثواب ميں اس زيادتى كا اپنى بصيرت كے ساتھ بھى مشاہدہ كرتا ہے تو ايمان كا گواہ اس كے ساتھ مل كر قوت اختيار كرتا ہے، تو نفس خرچ كرنے كے ليے تيار ہوتا، اور اس كى اجازت ديتے ہوئے اس اجر جزيل اور احسان عظيم كے زيادہ ہونے كى اميد وابستہ كرتا ہے.

{اور اللہ تعالى زيادہ كرتا ہے}

اجروثواب ميں يہ زيادتى اور اضافہ

{جس كے ليے چاہتا ہے}

يعنى: خرچ كرنے والے كى حالت اور اس كے اخلاص اور صدق و سچائى كے مطابق، اور خرچ كى گئى رقم اور چيز كى حالت، اس كى حلت، اور اس كے فائدہ، اور وقوع اوراس كى موقع كے مطابق.

اور يہ بھى احتمال ہے كہ {اور اللہ تعالى اضافہ كرتا ہے}

اس سے بھى زيادہ اضافہ

{جس كے ليے چاہے}

تو انہيں ان كا اجروثواب بغير حساب عطا كردے.

{اللہ تعالى بڑى كشادگى كا مالك ہے}

فضل اور وسيع عطا والا لھذا خرچ كرنے والے شخص كو واہمہ نہ ہو كہ اس اضافہ ميں ايك قسم كا مبالغہ پايا جاتا ہے، كيونكہ اللہ تعالى كے سامنے كوئى چيز بڑى نہيں ہو سكتى، اور نہ ہى اس كى كثرت عطا سے كسى چيز ميں كوئى كمى ہو سكتى، اور باوجود اس كے

{وہ علم والا بھى ہے}

اسے جانتا ہے جو شخص اس اضافہ كا مستحق ہے، اور كون شخص اس كا مستحق نہيں، تو وہ اپنى كمال حكمت اور كمال علم سے اس اضافے كو اس كى صحيح جگہ پر ركھتا ہے. اھـ

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ دشمنوں كے مقابلے ميں مسلمانوں كى مدد و نصرت فرمائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments