27057: عورت نے نذر مانى ليكن اسے يہ ياد نہيں كہ اس كا قصد مسلسل تھا يا ايك بار


جب ميں ابھى چھوٹى ليكن بالغ تھى، اور طبعا دينى علم بہت زيادہ نہيں ركھتى تھى، اور نذر كے انجام سے بے خبر اور خير و بھلائى سے محبت كرنے كے اسباب كو نہيں جانتى تھى، ميں نے كئى ايك نذريں مانيں، ليكن مجھے علم نہيں كہ ميں نے نذر يہ مانى تھى كہ موت تك يہ فعل كرتى رہوں گى يا ميرى نيت يہ تھى، اب ميں اس سے نكلنا چاہتى ہوں اور اس طرح كا كام دوبارہ نہيں كرنا چاہتى، اگر كوئى اس سے نكلنے كا طريقہ ہے تو آپ سے گزارش ہے كہ اسے بيان كرديں ؟
اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

Published Date: 2006-03-31

الحمد للہ :

اگر نذر كے تسلسل ميں شك و شبہ ہو تو اصل برى الذمہ ہونا ہے، تو نذر مانى ہو كو ايك بار پورا كرنے سے برى الذمہ ہو جائےگا، يہ علم ميں رہے كہ نذر ماننا مكروہ ہے، بلكہ اس سے تو بخيل سے نكالا جاتا ہے، جيسا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بھى فرمايا ہے، كہ نذر كوئى خير نہيں لاتى، ليكن جب نذر اطاعت و فرمانبردارى ميں مانى گئى ہو تو اس كا پورا كرنا واجب ہے.

الشيخ عبد الكريم الخضير
Create Comments