283083: زخم پر خون خشک ہو گیا ایسی صورت میں وضو یا غسل صحیح ہو گا؟


معمولی زخموں پر جمے ہوئے کھرنڈ سے پانی جلد تک نہیں پہنچتا تو کیا وضو کیلیے اسے اتارنا ضروری ہو گا؟

Published Date: 2018-03-23

الحمد للہ:

آپ کے سوال سے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ آپ زخم پر جم جانے والے خون  کے بارے میں پوچھ رہے ہیں، تو اس کا حکم جلد والا ہی ہے؛ کیونکہ کھرنڈ جلد کے ساتھ چپکا ہوا ہوتا ہے، نیز اگر کھرنڈ کو چھیل دیا جائے تو اس سے نقصان ہو گا، اس لیے اگر اس کے اوپر سے ہی عضو دھو لیا جائے تو کافی ہے، اسے اتارنے کی ضرورت نہیں ہے۔

امام نووی رحمہ اللہ المجموع: (2/232) میں کہتے ہیں:
"ابو لیث حنفی نے اپنی کتاب: نوازل، "میں لکھا ہے کہ اگر کسی انسان کے جسم پر پھوڑا ہو اور اس کے کھرنڈ کی ایک طرف سے پیپ خارج ہونے لگے باقی جگہوں سے کھرنڈ جلد کے ساتھ چپکا ہوا ہو تو  ایسی صورت میں وضو کرتے وقت کھرنڈ کے نیچے پانی پہنچانا ممکن نہیں ہے  تو اوپر سے اسے دھونا کافی ہو گا" ختم شد

ایسے ہی " حاشية البجيرمي على الخطيب " (1/128) میں ہے کہ: "قفال کا یہ کہنا کہ: اگر جسم کے کسی حصے پر میل کچیل جم جائے  تو اگر وہ جسم کا حصہ بن چکا ہے تو یہ وضو صحیح ہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں ؛ کیونکہ اب اس کو جسم سے الگ کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہاں جسم کا حصہ بن جانے کا مطلب یہ ہے کہ میل کچیل  جلد کے ساتھ ایسے   مل جائے کہ آنکھ سے فرق کرنا ممکن نہ ہو" ختم شد

چنانچہ  اگر جسم کے ساتھ چپکے ہوئے میل کچیل کو جسم کا حصہ بن جانے کی صورت میں الگ کرنا  ضروری نہیں ہے تو پھر زخم پر بنے ہوئے کھرنڈ کو  وضو کے لیے جسم سے الگ کرنا بالاولی غیر ضروری ہو گا۔

مزید کیلیے آپ سوال نمبر: (227587)، (223833)

واللہ اعلم.

اسلام سوال و جواب
Create Comments