32534: اسلامى ممالك سودى بنك قائم كرنے كى اجازت كيوں ديتے ہيں ؟


ميں نے ايسے بہت سے فتوى پڑھے ہيں جن ميں سودى لين دين كرنے والے بنكوں ميں كام كرنے كى حرمت ہے، ميرا ايك اشكال ہے كہ:
جب يہ بنك حرام ہيں اور ان كے ساتھ لين كرنا حرام ہے تو پھر اسلامى ممالك ايسے بنك قائم كرنے كى اجازت كيسے ديتے ہيں ؟

Published Date: 2005-04-29

الحمد للہ :

حرام وہ ہے جسے اللہ تعالى اور اس كے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے حرام كيا ہے، اور حلال وہ ہے جو اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم نے حلال كيا ہو.

اور سود كى حرمت تو كتاب و سنت اور اجماع امت كے دلائل سے ثابت ہے، اور ہر ادارہ يا بنك جو سود پر قائم ہو اس كے خلاف اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كى طرف سے اعلان جنگ ہے، چاہے وہ كسى اسلامى ملك ميں ہو يا كسى كافر ملك ميں.

اللہ سبحانہ تعالى كا فرمان ہے:

{اے ايمان والو! اللہ تعالى سے ڈرو اور جو سود باقى بچا ہے اسے ترك كردو اگر تم مومن ہو، اگر ايسا نہيں كرو گے تو پھر اللہ تعالى اور اس كے رسول ( صلى اللہ عليہ وسلم ) كى جانب سے اعلان جنگ ہے، اور اگر تم توبہ كرلو تو تمہارے ليے تمہارے اصل مال ہيں، نہ تو تم ظلم كرو اور نہ ہى تم پر ظلم كيا جائے} البقرۃ ( 278 - 279 ).

اور اسلامى ممالك كا سودى بنكوں كو قائم كرنا اور انہيں برقرار ركھنا اس كى اباحت اور جائز ہونے كى دليل نہيں، اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے تو ہميں يہ بتا ديا تھا كہ:

لوگوں پر ايك وقت ايسا بھى آئے گا كہ جس ميں لوگ اللہ تعالى كى حرام كردہ اشياء كو حلال كر ليں گے، مثلا: زنا كارى، شراب نوشى، اور گانا بجانا، اس كا معنى يہ نہيں كہ اس سے يہ حرام كردہ اشياء حلال ہو جاتى ہيں.

ان بنكوں سے اہل علم كى تحذيرات كثرت كے ساتھ موجود ہے، اور ان كے فتاوى جات ميں بھى يہى بيان ہے كہ: ان بنكوں كے ساتھ لين دين كرنا حرام ہے يہ نہيں ديكھنا چاہيے كہ حكومت كى جانب سے ان بنكوں كو اجازت ہے، اور بہت سے اسلامى ممالك كى حكومتوں كو علماء كرام نے ان بنكوں كى ممانعت كى نصيحت بھى بہت زيادہ كى ہے.

مستقل فتوى كميٹى كے فتوى ميں ہے كہ:

( كتاب و سنت اور اجماع كے ساتھ سود حرام ہے.... اور سودى لين دين كرنے والے بنكوں كے ساتھ معاملات كرنے بھى حرام ہيں.... اور حكومت كا اسے برقرار ركھنا اور بنك كھولنے اور قائم كرنے كے لائسنس جارى كرنا، يا اس پر خاموشى اختيار كرنا مسلمان شخص كے ليے سودى لين دين كرنا جائز قرار نہيں ديتا، اور نہ ہى اس كے ليے يہ جائز ہو جاتا ہے كہ وہ ان بنكوں ميں كام كرے، كيونكہ حكومت كو تشريع اور قانون بنانے كا حق نہيں، بلكہ شريعت اور قانون بنانا صرف اللہ وحدہ لاشريك كا اس كى كتاب عزيز ميں حق ہے يا پھر اللہ تعالى كى اپنے رسول صلى اللہ عليہ وسلم طرف وحى ہے ). اھـ

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 15 / 51 ).

اور كميٹى كے ايك دوسرے فتوى ميں ہے:

( سودى لين دين كرنے والے بنكوں ميں كام كرنا حرام ہے، چاہے وہ كسى اسلامى ملك ميں ہوں يا كافر ملك ميں، كيونكہ ايسا كرنے ميں اس بنك كے ساتھ گناہ اور ظلم وزيادتى ميں تعاون ہے جس سے اللہ تعالى نے اپنے مندرجہ ذيل فرمان ميں منع فرمايا ہے:

{اور تم نيكى اور بھلائى كے كاموں ميں ايك دوسرے كا تعاون كرو، اور گناہ اور ظلم و زيادتى كے كاموں ميں ايك دوسرے كا تعاون نہ كرو} المائدۃ ( 2 . )اھـ

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 15 / 55 ).

اور شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى نے سود كى حرمت پر كتاب و سنت ميں سے كچھ دلائل ذكر كرنے كے بعد كہا ہے كہ:

( كتاب و سنت ميں سے يہ بعض دلائل ہيں جو سود كى حرمت اور فرد اور امت پر سود كے خطرات بيان كرتے ہيں، اور يہ كہ جس شخص نے بھى سودى لين دين كيا اور اس ميں برابر شريك رہا وہ اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كے خلاف جنگ كرنے لگا، لہذا ميرى ہر مسلمان شخص كو نصيحت ہے كہ:

اسے اسى پر اكتفا كرنا چاہيے جو اللہ تعالى نے اس كے ليے حلال اور مباح كر ركھا ہے، اور اسے اللہ تعالى كے حرام كردہ سے اجتناب كرنا چاہيے، كيونكہ اللہ تعالى كى مباح اور جائز كردہ ميں ہى اللہ كى حرام كردہ اشياء سے كفايت اور بے پرواہى ہے، اور مسلمان شخص كو چاہيے كہ وہ سودى بنكوں كى كثرت اور ان كے زيادہ ہونے اور ہر جگہ ان كے لين دين اور معاملات پھيل جانے سے دھوكہ ميں نہ آجائے، كيونكہ بہت سے لوگ اسلامى احكام كا اہتمام نہيں كرتے، بلكہ وہ ان كا اہتمام اور ہم و غم مال جمع كرنا ہے چاہے وہ كسى بھى طريقہ سے ہو، اور اس كا سبب اور وجہ ايمان كى كمزورى اور اللہ تعالى سے ڈر ميں كمى اور دلوں ميں دنيا كى محبت كا غلبہ پيدا ہونا ہے، ہم اللہ تعالى سے سلامتى كى دعا كرتے ہيں ) اھـ

ديكھيں: مجلۃ البحوث الاسلاميۃ ( 6 / 310 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments