34590: كسى كام كا ٹھيكہ لينے والے كے ليے جائز ہے كہ وہ يہ كام كسى اور كو اجرت پر دے دے


كيا پروجيكٹ كى فروخت جائز ہے ؟
مثلا كہ اگر كوئى شخص كسى كمپنى سے اپنے نام تين سو ملين ميں كسى كام كا ٹھيكہ لے اور اسے پورا كرنے كے ليے آگے ٹھيكہ داروں كو اڑھائى سو ملين ميں دے دے ؟

Published Date: 2010-06-19

الحمد للہ :

پراجيكٹ فروخت كرنے ميں كوئى حرج نہيں، اور اسى طرح جو شخص كى عمارت كى تعمير وغيرہ كے ليے اجرت پر حاصل كرے تو اس كے ليے وہ كام كسى اور سے كروانے ميں كوئى حرج نہيں، ليكن اس كى دو شرطيں ہيں:

پہلى شرط:

كہ كمپنى نے يہ شرط نہ ركھى ہو كہ معاہدہ كرنے والا شخص اس كام كو خود پورا كرے گا، اور يہ منصوبہ اور پراجيكٹ كسى اور كو فروخت نہيں كرے گا، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" مسلمان اپنى شرطوں پر ( قائم رہتے ) ہيں "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 3594 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے اس صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

مستقل فتوى كميٹى سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:

ايك شخص نے عمارت ايك لاكھ كرايہ ميں حاصل كى اور اسے آگے ڈيڑھ لاكھ ميں كرايہ پر دينے كا كيا حكم ہو گا، آيا يہ جائز ہے؟

كميٹى كا جواب تھا:

جس نے كوئى چيز كرايہ پر حاصل كى تو اسے يہ حق حاصل ہے كہ وہ كسى اور كو كرايہ پر دے سكتا ہے، چاہے وہ اسى كرايہ ميں دے يا اس سے زائد وصول كرے يا كم، اور مدت اتنى ہى ہو جس پر ان كا اتفاق ہوا ہے، انہيں كرايہ پر دے جو اس كے قائم مقام بن كر اس سے فائدہ حاص كريں، نہ كہ اس سے زيادہ جو اسے نقصان اور ضرر دے، كيونكہ وہ صرف حاصل كردہ چيز كا نفع كا مالك ہے، تو اس طرح اس كے ليے وہ نفع خود اٹھانا يا كسى اور كو دينا جائز ہے.

ليكن اگر مالك نے يہ شرط ركھى ہو كہ وہ كسى اور كو كرايہ پر نہيں دے سكتا، يا پھر وہ پھر ايسے كام كاج كرنے والوں كو كرايہ پر ادا نہ كرے جن كى اس نے تحديد كر دى ہو، تو وہ دونوں اپنى شروط پر قائم رہيں گے" اھـ

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

مسئلۃ:

اگر كسى شخص كو كسى اجرت پر كسى كام كا ذمہ ديا گيا ہو: كہ اسے يہ كہا جائے: ہم اس گھر كى روزانہ صفائى چاہتے ہيں، اور آپ كو ماہانہ سو ريال مليں گے، تو اس شخص نے پچاس ريال پر ايك شخص صفائى كے ليے ركھ ليا تو كيا يہ جائز ہے يا نہيں؟

جواب:

جى ہاں جائز ہے، يہ بالكل اسى طرح ہے جيسے ہم يہ كہيں كہ: باقى مدت وہ كرايہ كى قيمت سے زيادہ ميں كرايہ پر دينا جائز ہے، اور لوگوں كا عمل بھى اسى پر ہے، مثلا ہم يہ ديكھتے ہيں كہ حكومت ايك كمپنى كے ساتھ مساجد كى صفائى كا معاہدہ كرتى ہے كہ ہر مسجد كى صفائى ماہانہ اتنى اتنى رقم ميں ہو گى، پھر يہ كمپنى ملازم لا كر معاہدہ كے مطابق عمل كرتى ہے اور اس رقم كى چوتھائى سے بھى كم رقم ميں يہ كام ملازموں سے كرواتى ہے جو حكومت اور كمپنى كے مابين اتفاق ہوا تھا، اور يہ موجود بھى ہے، ليكن جب غرض مختلف ہو جائے تو پھر جائز نہيں.

اس كى مثال يہ ہے كہ:

ميں نے ايك شخص كو زاد المستقنع ( يہ فقہ كى كتاب ہے ) نقل كرنے كے ليے اجرت پر ركھا، اور ميں جانتا ہوں كہ اس شخص كا خط اچھا ہے، اور اس كى غلطياں كم ہيں، تو اس نے اسے لكھنے كے ليےايك اور شخص كو اس اجرت سے كم اجرت پر ركھا جو ميں نےاسے دى تھى، اور مستاجر نے جس شخص كو اجرت پر ركھا اس كا خط بھى خوبصورت ہے تو علماء كرام كہتے ہيں كہ يہ جائز نہيں ہے. اھـ

ديكھيں: الشرح الممتع ( 4 / 327 ).

كيونكہ لكھنے اور نقل كرنے ميں صرف خط كى خوبصورتى ہى معتبر نہيں، بلكہ خط كى خوبصورتى، اور املاء كے قواعد و ضوابط، اور مناسب علامتوں كا لگانا مثلا نقطہ، اور فاصلہ .. وغيرہ بھى معتبر ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments