34614: ہديہ افضل ہے كہ صدقہ ؟


كيا فقراء ومحتاج لوگوں پر مال كا صدقہ كرنا افضل ہے يا كہ كسي عزيز واقارب يا دوستوں كو ہديہ دينا ؟

Published Date: 2005-03-26

الحمد للہ :

ہديہ اور صدقہ ميں فرق :

صدقہ فقراء اور محتاج لوگوں كي ضرورت پوري كرنے كےليے ديا جاتا ہے اور صدقہ كرنے كا مقصد اللہ تعالي كي رضا وخوشنودي ہوني چاہيے اور اس ميں كسي معين شخص مقصود نہيں ہونا چاہيے بلكہ كسي بھي فقير يا مسكين كو ديا جائے.

ليكن ہديہ دينے ميں فقير كي شرط نہيں بلكہ فقير اور مالدار دونوں كوديا جاسكتا ہے اور ہديہ دينے كا مقصد محبت اور اس كي عزت ہوتي ہے .

اور يہ دونوں ( ہديہ اور صدقہ ) ہي اعمال صالحہ ميں شامل ہيں اور ان پر اجروثواب حاصل ہوتا ہے ليكن ان ميں سے افضل كونسا ہے؟

شيخ الاسلام كا مجموع الفتاوي ميں كہنا ہے كہ :

( صدقہ : وہ ہے جو اللہ تعالي كي رضا وخوشنودي كےليے ديا جاتا ہے اور يہ خالص عبادت ہے اس ميں كسي خاص شخص كا تعين نہيں ہونا چاہيے اور نہ اس كي جانب سے كوئي غرض ركھني چاہيے ، ليكن يہ صدقہ كے اہل مقام ميں ہونا چاہيے مثلا ضرورتمندوں كےليے .

اور ہديہ : كا مقصد كسي خاص شخص كي عزت وتكريم ہوتي ہے يا تو محبت كي بنا پر ہديہ ديا جاتا ہے يا پھر دوستي كي بنا پر اور يا كسي ضرورت پوري كرنے كےليے ، اسي ليے نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم ہديہ قبول كيا كرتے تھے اس پر ثواب حاصل ہوتا ہے لھذا يہ ہديہ كسي پر احسان نہيں ہونا چاہيے اور نہ ہي لوگوں كي ميل كچيل كھائے جس سے لوگ اپنےگناہوں سے پاك ہوتے ہيں جوكہ صدقات كي شكل ميں ہے اسي ليے صدقہ نہيں كھاتے تھے اور اس كےعلاوہ اور بھي وجوہات ہيں ، جب يہ پتہ چل گيا تو اس طرح صدقہ افضل ہوا ، ليكن ہديہ ميں ايك ايسا معني ہے جس كي بنا پر ہديہ افضل ہوگا مثلا بني كريم صلي اللہ عليہ وسلم كي زندگي ميں ان سے محبت كرتے ہوئے انہيں ہديہ دينا ، اور اسي طرح كسي قريبي رشتہ دار كو صلہ رحمي كےليے ہديہ دينا يا كسي ديني بھائي كو ہديہ دينا تو يہ صدقہ سے افضل ہوگا ) اھ

لھذا اس بنا پر آپ كا اپنےكسي رشتہ دار كو ہديہ دينا صدقہ كرنے سے زيادہ افضل ہوگا كيونكہ اس ميں صلي رحمي ہے اور اسي طرح جب آپ اپنے كسي دوست كوہديہ ديں جس سے آپ دونوں كےمابين محبت زيادہ اور مضبوط ہو اور پھر نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم كا بھي فرمان ہے :

آپس ميں ايك دوسرے كوہديہ ديا كرو تمارے اندر محبت پيدا ہوگي . اسے امام بخاري رحمہ اللہ نے ادب المفرد ميں روايت كيا ہے اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس كي سند كو حسن كہا ہے اور علامہ الباني رحمہ اللہ نے بھي صحيح ادب المفرد ( 463 ) ميں اسے حسن قرار ديا ہے .

اورحديث كا معني يہ ہے كہ : ہديہ محبت پيدا اور زيادہ كرنے كا سبب ہے .

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments