36513: قبر كے پاس قرآن مجيد پڑھنے كا حكم


كيا قبر كے پاس قرآن مجيد پڑھنا جائز ہے ؟

Published Date: 2011-06-27

الحمد للہ:

نبى صلى اللہ عليہ وسلم سے قبر كے پاس قرآن مجيد كى تلاوت كرنے كى كوئى دليل نہيں ہے، لہذا يہ كام مشروع نہيں ہے.

مستقل فتوى كميٹى سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:

كيا سورۃ الفاتحہ يا قرآن مجيد كا كچھ حصہ قبر كى زيارت كے وقت پڑھنا جائز ہے، اور كيا يہ اس كے ليے فائدہ مند ہو گا ؟

كميٹى كا جواب تھا:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہے كہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم قبروں كى زيارت كيا كرتے، اور فوت شدگان كے ليے مختلف دعائيں كرتے جو انہوں نے اپنے صحابہ كرام كو بھى سكھائيں، ان ميں سے كچھ يہ ہيں:

" ( السلام عليكم أهل الديار من المؤمنين والمسلمين ، وإنا إن شاء الله بكم لاحقون ، نسأل الله لنا ولكم العافية "

اے مومنوں اور مسلمان گھروں والوتم پر سلامتى ہو، اور يقينا ہم بھى ان شاء اللہ تم سے آكر ملنے والے ہيں، ہم اللہ تعالى سے اپنے اور تمہارے ليے عافيت كے طلبگار ہيں.

ليكن نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے يہ ثابت نہيں كہ انہوں نے قبروں كے پاس فوت شدگان كے ليے قرآن مجيد كى تلاوت كى ہو، يا كوئى سورۃ ہى پڑھى ہو، حالانكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كثرت سے قبروں كى زيارت كيا كرتے تھے، اور اگر يہ مشروع ہوتى تو آپ صلى اللہ عليہ وسلم ضرور كرتے، اور اپنے صحابہ كرام كو بھى اس كے ثواب كى رغبت ديتے ہوئے اور اپنى امت پر رحمت كرتے ہوئے، اور تبليغ كا فرض پورا كرتے ہوئے ضرور بتاتے، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى نے آپ صلى اللہ عليہ وسلم كے متعلق فرمايا ہے:

{تمہارے پاس ايك ايسے پيغمبر تشريف لائے ہيں جو تمہارى جنس سے ہيں، جن كو تمہارا نقصان نہائت گراں گزرتا ہے، جو تمہارى منفعت كے بڑے خواہشمند رہتے ہيں، ايمانداروں كے ساتھ بڑے ہى شفيق اور مہربان ہيں} التوبۃ ( 128 ).

لھذا جب اسباب ہونے كے باوجود رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے يہ كام نہيں كيا تو يہ اس كے مشروع نہ ہونے كى دليل ہے، اور صحابہ كرام رضى اللہ عنہم نے بھى اسے پہچانا تو وہ بھى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے قدموں پر چلے اور انہوں نے بھى قبروں كى زيارت كے وقت فوت شدگان كے ليے دعا پر ہى اكتفا كيا، اور ان سے بھى ثابت نہيں كہ كسى ايك نے بھى قبروں كى زيارت كرتے وقت فوت شدگان كے ليے قرآن مجيد پڑھا ہو، تو اس طرح فوت شدگان كے ليے قرآن مجيد پڑھنا ايك نئى ايجاد كردہ بدعت ہوئى، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے صحيح حديث ميں يہ فرمان ثابت ہے:

" جس نے بھى ہمارے اس معاملے ميں كوئى ايسا نيا كام ايجاد كيا جو اس ميں سے نہيں تو وہ كام مردود ہے" متفق عليہ

انتہى: ماخوذ از: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 9 / 38 )

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments