39189: كيا سائڈ پر بال ركھنے والى حديث " مائل ہونے اور مائل كرنے والياں " ميں شامل ہوتى ہے ؟


كيا حديث ميں مائل ہونے اور مائل كرنے والى عورتوں سے مقصود بال جمع كر كے ايك سائڈ پر ركھنا ہے ؟

Published Date: 2008-02-29

الحمد للہ:

امام مسلم رحمہ اللہ نے صحيح مسلم ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" دو قسميں جہنميوں كى ايسى ہيں جو ميں نے نہيں ديكھيں وہ آدمى جن كے ہاتھوں ميں گائے كى دموں جيسے كوڑے ہونگے وہ اس سے لوگوں كو مارينگے، اور وہ عورتيں جنہوں نے لباس تو پہن ركھا ہو گا، ليكن ننگى ہونگى، وہ مائل ہونے اور دوسروں كى طرف مائل ہونےوالياں، ان كے سر بختى اونٹوں كى جھكى ہوئى كوہان كى طرح ہونگے، نہ تو وہ جنت ميں داخل ہونگى، اور نہ ہى اس كى خوشبو ہى پائينگى "

علماء كرام نے درج ذيل فرمان نبوى:

" خود مائل ہونے والياں، اور دوسروں كو اپنى طرف مائل كرنے والياں "

ميں چار توجيہات بيان كى ہيں:

پہلى:

مائلات: وہ عفت و عصمت اور استقامت سے ہٹى اور مائل ہونگى، يعنى ان كے ہاں ايسى معاصى و برائياں ہونگى جس طرح ايك فاحشہ عورت كى ہوتى ہيں، يا پھر وہ فرائض نماز وغيرہ كى ادائيگى ميں كوتاہى كرتى ہونگى.

اور مميلات: يعنى دوسروں كى شر و برائى اور فساد كى طرف مائل كرنے والياں ہونگى، لہذا ان كےافعال اور اقوال كى بنا پر دوسرے لوگ فساد و فتنہ اور معاصى و برائى كى طرف مائل ہونگے، اور اپنے عدم ايمان يا ايمان كى كمزورى و قلت كى بنا پر فحش كام كرينگے.

دوسرى:

مائلات: يعنى اپنى چال ميں مائل ہونگى اور لہك لہك كر چليں گى، اور مميلات اپنے كندھوں كو مائل كرينگى.

تيسرى:

وہ مردوں كى جانب مائل ہونگى، اور انكے بناؤ سنگھار اور زينت وغيرہ ظاہر كرنے كى بنا پر مرد ان كى جانب مائل ہونگے.

چوتھى:

مائلات: يعنى وہ ٹيڑھى كنگھى كرينگى، جو كہ فاحشہ عورتوں كى كنگھى ہوتى ہے.

مميلات: ان كے علاوہ دوسرے اس طرح كى كنگھى كر كے بال بنائينگے.

كنگھى سے مراد يہ ہے كہ سر كے درميان كى بجائے سر كى ايك طرف مانگ نكال كر ايك طرف زيادہ اور دوسرى طرف كم بال كيے جائيں، جو كہ دور جاہليت ميں فاحشہ عورتوں كا شعار اور علامت تھى.

بعض اہل علم كہتے ہيں كہ: نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے فرمان:

" مائلات مميلات " سے مراد يہى ہے، ليكن شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" صحيح يہ ہے كہ مائلات سے مراد وہ عورتيں ہيں جو اپنے اوپر واجب شرم و حياء اور دين سے مائل ہوں اور ہٹى ہوئى ہوں، اور مميلات يعنى دوسروں كو اس سے مائل كرنے والياں "

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" المائلۃ عمومى ميلان كے معنى ميں ہے، لباس يا شكل و صورت، يا كلام وغيرہ ميں صراط مستقيم سے ہٹى ہوئى ہوں.

اور مميلات: وہ عورتيں جو دوسروں كو مائل كريں، اور يہ اس طرح ہے كہ عورتوں كا ايسى اشياء استعمال كرنا جس ميں فتنہ و فساد ہو حتى كہ اللہ كے بندوں ميں كچھ لوگ ان كى جانب مائل ہو جائيں "

سب بال اكٹھے كر كے ايك سائڈ پر ركھنے كے متعلق شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" بالوں كى مانگ نكالنے ميں سنت يہ ہے كہ پيشانى كے وسط سے سر كے اگلے حصہ سے شروع كر كے مانگ نكالى جائے، كيونكہ بالوں كى جہت آگے، پيچھے، اور دائيں بائيں ہوتى ہے، اس ليے مشروع مانگ كا طريقہ يہى ہے كہ سر كے درميان سے نكالى جائے، ليكن سر كے ايك طرف سائڈ ميں مانگ نكالنا مشروع نہيں، بلكہ اس ميں غير مسلموں سے مشابہت ہو گى، بلكہ يہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے درج ذيل فرمان ميں بھى داخل ہو گا:

" دو قسميں جہنميوں كى ايسى ہيں جو ميں نے نہيں ديكھيں وہ آدمى جن كے ہاتھوں ميں گائے كى دموں جيسے كوڑے ہونگے وہ اس سے لوگوں كو مارينگے، اور وہ عورتيں جنہوں نے لباس تو پہن ركھا ہو گا، ليكن ننگى ہونگى، وہ مائل ہونے اور دوسروں كى طرف مائل ہونےوالياں، ان كے سر بختى اونٹوں كى جھكى ہوئى كوہان كى طرح ہونگے، نہ تو وہ جنت ميں داخل ہونگى، اور نہ ہى اس كى خوشبو ہى پائينگى "

كچھ علماء كرام نے اس كى شرح كرتے ہوئے كہا ہے كہ: مائلات مميلات سے مراد وہ عورتيں ہيں جو اپنے بالوں ايك طرف كنگھى كرتى ہيں، اور ان كے علاوہ دوسرى عورتيں بھى كنگھى كر كے ان جيسے بال ہى بناتى ہيں.

ليكن صحيح يہ ہے كہ مائلات سے مراد وہ عورتيں ہيں جو اپنے اوپر واجب و فرائض سے ہٹى ہوئى ہوں مثلا شرم و حياء اور دين سے ہٹى ہوں، اور مميلات يعنى دوسرى عورتوں كو اس سے ہٹائيں اور مائل كريں "

اور بعض اہل علم نے سر كے ايك طرف مانگ نكالنے سے منع كيا ہے، اور اس كى علت يہ بيان كى ہے كہ اس ميں كفار عورتوں سے مشابہت ہوتى ہے.

مستقل فتوى كميٹى كے فتاوى جات ميں درج ہے:

" سر كے ايك طرف مانگ نكالنے ميں كفار كى عورتوں سے مشابہت ہوتى ہے، اور كفار كے ساتھ مشابہت كرنے كى حرمت نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہے " اھـ

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 17 / 126 ).

اور اگر فرض كر ليا جائے كہ مثلا كسى دور ميں سر كے ايك جانب مانگ نكالنا كافرہ اور فاجرہ عورتوں كى علامت تھى، پھر يہ خصوصيت زائل ہو گئى، اور مسلمان عورتوں ميں بھى پھيل گئى، وہ اس طرح كہ ايسا كرنے والى كے متعلق كافرہ يا فاجرہ ہونے كا گمان ختم ہو گيا، تو اس وقت شبہ بھى زائل ہو چكا ہے، چنانچہ يہ حرام نہيں.

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ المياسر الارجوان ( يہ تكيہ كى طرح ہوتا ہے جو گھڑ سوار سوارى كے وقت اپنے نيچے ركھتا ہے، اور يہ اعاجم استعمال كيا كرتے تھے ): كے متعلق كلام كرتے ہوئےكہتے ہيں:

" اگر ہم يہ كہيں كہ اعاجم كے ساتھ مشابہت كى بنا پر يہ ممنوع ہے، تو يہ دينى مصلحت كے ليے ہے، ليكن يہ ان كى علامت اس وقت تھى جب وہ كفار تھے، پھر جبكہ اب يہ علامت ان كے ساتھ مخصوص نہيں رہى تو يہ معنى زائل اور ختم ہو گيا، تو اس كى كراہت بھى ختم ہو گئى " واللہ تعالى اعلم. اھـ

ديكھيں: فتح البارى ( 1 / 307 ).

اور طيلسان ( سبز رنگ كا لباس جو عجمى استعمال كرتے ہيں ) زيب تن كرنے كو مشابہت قرار دينے والے كا رد كرتے ہوئے كہتے ہيں، كيونكہ يہ يہوديوں كا لباس تھا، جيسا كہ دجال والى حديث ميں بيان ہوا ہے، ابن حجر رحمہ اللہ ا سكا رد كرتے ہوئے كہتے ہيں:

" اس سے استدلال كرنا اس وقت صحيح ہو گا جب طيالسہ يعنى برانڈى يہوديوں كا شعار ہو، اور اس دور ميں يہ ختم ہو چكا ہے تو يہ چيز عمومى مباح ميں داخل ہو گئى ہے " اھـ

ديكھيں: فتح البارى ( 10 / 274 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments