4016: بيٹوں كے اموال ميں زكاۃ


ميں نے اپنے چھوٹے بيٹوں كے نام سے سرمايہ كارى كمپنيوں ميں كچھ رقم لگا ركھى ہے، كيا زكاۃ كى ادائيگى كے وقت ہم اسے جمع كريں، يا كہ ہر ايك كى زكاۃ عليحدہ ادا كى جائے، يہ علم ميں رہے كہ جب ہم اس سارى رقم كو جمع كريں تو وہ نصاب كو نہيں پہنچتى ؟

Published Date: 2005-11-27

الحمد للہ :

ہم نے يہ سوال فضيلۃ الشيخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ تعالى كے سامنے پيش كيا تو ان كا جواب تھا:

ہر انسان كا مال خاص ہے، اور جب وہ نصاب كو پہنچے تو اس ميں زكاۃ ہے وگرنہ نہيں، ليكن كيا اس كى اور بھى اولاد ہے، اور اسے اس نے اتنى ہى رقم دى ہے جتنى ان بچوں كو دى ہے ؟

اگر تو اس كے علاوہ بھى اس كے بچے ہيں اور انہيں اس نے رقم نہيں دى تو اس شخص كو اللہ سے ڈرنا چاہيے، اور ان كے مابين عدل كرنا چاہيے" مرد كو دو عورتوں كى مثل ہے "

اور اگر اس كے پاس ان كے علاوہ نہيں ہے تو پھر معاملہ واضح ہے، اور اگر اس كے پاس ان بچوں كے علاوہ اور بھى ہيں اور اس نے انہيں بھى اتنا ہى مال ديا ہے تو اس نے عدل سے كام ليا ہے، اور اس كے ذمہ كچھ نہيں..

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments