4050: حرم سے کچھ رقم ملی


ہم حج کے لیے گۓ تودوران حج حرم سے مجھے ایک بٹوہ ملا جس میں اچھی بھلی رقم بھی تھی ، مجھے اس کا کیا کرنا چاہیۓ ، خاص کرجب کہ میں مکہ میں صرف محدود عرصہ کے لیے رہا ؟

Published Date: 2003-07-31
الحمد للہ
حرم کے لقطہ یا گمشدہ اشیاء کے بارہ میں علماء کرام کا اختلاف ہے کہ آیا ایک سال اعلان کرنے کے بعد یہ بھی حرم کی حدود سے باہر ملنے والی چيز کی طرح ملکیت میں آجاۓ گی کہ نہیں ؟

کچھ علماء توکہتے ہیں کہ عموم احادیث کی بنا پر یہ بھی ملکیت میں آجا ۓ گا ، لیکن دوسرا گروہ کہتا ہے کہ اس کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی ، بلکہ ہر وقت اس کا اعلان کرتا رہے اورکبھی بھی اس کی ملکیت میں نہيں آسکتا ۔

اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ مکرمہ میں فرمان ہے :

( اس کا لقطہ اورگمشدہ چيز کسی کے لیے حلال نہيں لیکن جواس کا اعلان کرے اس کے حلال ہے ) ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی نے بھی یہی قول اختیار کرتے ہوۓ کہا ہے :

( کسی بھی حال میں وہ اس کا مالک نہیں بن سکتا ، اس لیے کہ اس کی نہی وارد ہے اورہروقت اس کا اعلان کرنا ضروری اورواجب ہے ) ۔

اس سے نہی والی حدیث میں یہ ظاہر ہے ۔ دیکھیں کتاب : الملخص الفقھی تالیف صالح الفوزان ص ( 150 ) ، اس کی مزید تفصیل دیکھنے کے لیے آپ سوال نمبر ( 5049 ) کا مراجعہ کریں ۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی سے مندرجہ ذیل سوال کیا گیا :

کیا میرے لیےمکہ مکرمہ سے گمشدہ چیز اٹھانا اوراسے اپنے علاقہ میں لےجا کراعلان کرنا جائز ہے ؟ یا کہ یہ واجب اور ضروری ہے کہ میں مکہ مکرمہ کی مساجد کے دروازوں پر اوربازاروں میں اس کا اعلان کروں ؟

توان کا جواب تھا :

مکہ مکرمہ کی گمشدہ اشیاء میں خصوصیت ہے کہ وہ صرف وہی اٹھا سکتا ہے جوہروقت اس کا اعلان کرتا رہے یا پھر اسے حکومتی اداروں کے سپرد کردے جوکہ اس کام کے لیے مختص ہیں ، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( اس کی گمشدہ اشیاء صرف اعلان کرنے والے کے لیے اٹھانی حلال ہے ) اس حکم میں حکمت یہ ہے کہ جب گمشدہ اشیاء اپنی جگہ پر ہی رہیں توہوسکتا ہے کہ ان کے مالک واپس آکر انہیں حاصل کرلیں ۔

تواس بنا پر ہم اپنے اس بھائی کویہ کہیں گے آپ پر واجب اورضروری ہے کہ آپ مکہ مکرمہ میں جہاں آپ کوملی وہاں اوراس کے ارد گرد ہی اس کا اعلان کریں ، مثلا مساجد کے دروازوں اورلوگوں کے جمع ہونے والی جگہوں پر ، اگرآپ یہ نہیں کرسکتے توپھر آپ یہ رقم گمشدہ اشیاء کے ادارہ کے سپرد کردیں ۔ دیکھیں کتاب : فتاوی اسلامیہ ( 2 / 311 ) ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments