41709: كيا حج سے قبل استخارہ كرے ؟


كيا حج كا سفر كرنے والے كے ليے استخارہ كرنا مستحب ہے ؟

Published Date: 2005-12-31

الحمد للہ :

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے استخارہ كے متعلق وارد شدہ حديث انسان كے ہر اس اہم كام كو شامل ہے جس كے متعلق اسے علم نہ ہو كہ آيا اس كا كرنا بہتر ہے يا نہ كرنا، تو وہ اس ميں اللہ تعالى سے استخارہ كرتا ہے، ليكن يہ حديث انسان پر فرض كردہ امور كو شامل نہيں، كيونكہ مطلوبہ امور كو بغير كسى تردد كے ساتھ انجام دينے ميں ہى خير و بھلائى ہے.

تو اس بنا پر اگر انسان پر حج فرض ہو جاتا ہے اور اس كے فرض ہونے كى تمام شروط مكمل ہو جائيں تو اسے بغير كسى استخارہ كے حج كرنا چاہيے جيسا كہ مثلا جب ظہر كى اذان ہو جائے تو اس پر بغير استخارہ كے نماز ادا كرنا واجب ہے، اور اسى طرح جب اس پر جھاد فرض ہو جائے تو وہ فرض عين ہو جائے تو اس كو بغير استخارہ كيے ہى جھاد كرنا ہو گا.

ليكن اگر كوئى چيز مشروع ہو اور اس پر واجب نہ ہو تو اس ميں استخارہ كرنا ممكن، دوسرے معنى ميں اس طرح كہ: مشروع كردہ امور ايك دوسرے سے افضل ہوتے ہيں، بعض اوقات انسان نفلى عمرہ كرنا چاہتا ہے يا پھر نفلى حج كا ارادہ كرتا ہے، ليكن وہ يہ نہيں جانتا كہ اس كے ليے حج كرنا افضل ہے يا پھر اپنے ملك ميں رہ كر دعوتى كام سرانجام دينا، اور مسلمانوں كى راہنمائى كرنا، اور اپنے گھريلو معاملات كو نپٹانا افضل ہيں؟

تو اس ميں وہ اللہ سبحانہ وتعالى سے استخارہ كر لے، يہ اس ليے نہيں كہ اسے عمرہ كى فضيلت ميں كوئى شك ہے، ليكن اس ليے كہ اسے يہ شك ہوا ہے كہ اس كا عمرہ پر جانا افضل ہے يا اپنے ملك ميں رہنا افضل ہے ؟ اور ايسا ہو سكتا ہے، اور اس ميں استخارہ كرنا ممكن ہے.

لہذا جو شخص استخارہ والى حديث اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے طريقہ پر غور كرتا ہے تو اسے يہ معلوم ہو گا كہ استخارہ ان امور ميں مشروع ہے جن ميں انسان كو تردد ہو، ليكن جن امور ميں اسے كوئى تردد نہيں ان ميں استخارہ نہيں ہے.

اور جيسا كہ ميں نے اوپر بيان كيا ہے كہ: واجب كردہ امور ميں تردد كا احتمال نہيں، اور نہ ہى انہيں سرانجام دينے ميں كوئى شك ہو سكتا ہے، كيونكہ جس پر اس كام كے كام واجب ہونے كى شروط مكمل ہونے كى پنا پر وہ عمل واجب ہو چكا ہو اس كے ليے وہ كام سرانجام دينا واجب ہے" انتہى .

ديكھيں: فتاوى ابن عثيمين ( 21 / 26 - 27 ).
Create Comments