41732: حج اور عمرہ ميں نيابت كا حكم


حج يا عمرہ ميں نيابت كا حكم كيا ہے ؟

Published Date: 2006-01-07

الحمد للہ :

كسى كى جانب سے حج كرنے ميں وكيل بننے كى دو صورتيں ہيں:

پہلى حالت: فرضى حج ميں نيابت كرنا.

دوسرى حالت: نفلى حج ميں نيابت كرنا.

اگر يہ نيابت فرضى حج ميں ہو تو جائز نہيں كہ فرضى حج كى ادائيگى كے ليے اپنى جانب سے كسى دوسرے كو نائب بنا كر حج يا عمرہ كروايا جائے ليكن اگر وہ كسى دائمى جس سے شفايابى كى اميد نہ ہو كى بنا پر بيت اللہ تك پہنچنے كى استطاعت نہ ركھتا ہو يا پھر بڑھاپے كى بنا پر تو اس حالت ميں فرضى حج ميں اپنا نائب بنانا جائز ہے.

اور اگر اس بيمارى سے شفايابى كى اميد ہو تو اسے شفايابى كا انتظار كرنا چاہيے تا كہ اللہ تعالى شفا دے تو پھر وہ خود حج كرے، اور اگر اس كے خود حج كرنے ميں كوئى مانع نہ ہو بلكہ وہ حج كرنے پر قادر ہو تو اسے خود حج كرنا ہو گا، كيونكہ اس كے ليے اپنى جانب سے كسى دوسرے كو يہ عبادت كروانا حلال نہيں، كيونكہ يہ عبادت اس سے شخصى طور پر مطلوب ہے.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿اور لوگوں پر اللہ تعالى نے حج فرض كر ديا ہے، جو اس تك جانے كى استطاعت ركھتا ہو﴾آل عمران ( 97 ).

لہذا عبادات ميں مقصود تو يہى ہے كہ انسان بنفسہ خود يہ عبادات بجا لائے تا كہ وہ اللہ تعالى كى بندگى اور اس كے سامنے عاجزى و انكسارى كر سكے، اور يہ تو معلوم ہى ہے كہ جس نے بھى كسى دوسرے كو وكيل بنايا تو اسے يہ مفہوم اورمعنى حاصل نہيں ہو گا جس كے ليے عبادات مشروع كى گئى ہيں.

ليكن اگر وكيل بنانے والے شخص نے فرضى حج كر ليا ہو اور وہ حج يا عمرہ ميں كسى شخص كو اپنا وكيل بنانا چاہے تو اہل علم كے ہاں اس ميں اختلاف ہے:

بعض علماء كرام نے جائز قرار ديا ہے، اوربعض نے منع كيا ہے، ميرے نزديك اقرب الى الصواب يہى ہے كہ كسى كے ليے جائز نہيں كہ وہ اپنى جانب سے نفلى حج يا عمرہ كى ادائيگى ميں كسى كو نائب بنائے، كيونكہ عبادات ميں اصل تو يہى ہے كہ انسان خود اس كى ادائيگى كرے، جيسا كہ روزہ ركھنے ميں كسى كو وكيل نہيں بنايا جا سكتا، حالانكہ اگر كوئى شخص فوت ہو جائے اور اس كے ذمہ فرضى روزے ہوں تو اس كا ولى اس كى جانب سے روزے ركھے گا تو اسى طرح حج بھى ہے، اور پھر حج ايسى عبادت ہے جو انسان بنفسہ خود بجا لاتا ہے، يہ كوئى مالى عبادت نہيں كہ اس كا مقصد دوسروں كو نفع دينا ہو.

اور جب انسان بدنى عبادت خود اپنے بدن سے بجالاتا ہے تو كسى دوسرے سے يہ ادا نہيں ہو گى، ليكن جو سنت ميں وارد ہے، اور سنت سے ثابت نہيں كہ كسى شخص نے كسى دوسرے كى جانب سے نفلى حج كيا ہو، امام احمد رحمہ اللہ تعالى كى يہ ايك روايت ہے، يعنى ميرى مراد يہ ہے كہ انسان كے ليے صحيح نہيںكہ وہ كسى دوسرے كو اپنى جانب سے نفلى حج كا عمرہ كرنے ميں وكيل بنائے چاہے وہ اس كى قدرت ركھتا ہو يا نہ ركھے.

اور جب ہمارا يہ قول ہے تو اس ميں مالدار جو حج كرنے پر قادر ہيں انہيں خود حج كرنے كى ترغيب ہے، كيونكہ بعض لوگ يہ اعتماد كرتے ہوئے مكہ گئے ہى نہيں كہ وہ ہر برس اپنى جانب سے كسى دوسرے كو وكيل بنا ديتے ہيں، تو اسطرح وہ معنى فوت ہو جاتا ہے جس كى بنا پر شريعت نے حج مشروع كيا ہے، اس بنا پر كہ وہ اپنى جانب سے كسى دوسرے كو حج كا وكيل بنا دے. انتہى

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( 21 / 136 ).

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام نے حج اور عمرہ كى ادائيگى سے عاجز زندہ شخص كى جانب سے حج اور عمرہ كرنے كے جواز كو اختيار كيا ہے چاہے وہ نفلى ہى كيوں نہ ہو.

مستقل فتوى كميٹى كے فتاوى جات ميں ہے:

جب آپ اپنا عمرہ كر چكے ہوں تو آپ اپنى والدہ اور والد كى جانب سے عمرہ كر سكتے ہيں، ايسا كرنا جائز ہے جبكہ وہ بڑھاپے يا دائمى بيمارى جس سے شفايابى كى اميد نہ ہو عمرہ كرنے سے عاجز ہوں. انتہى

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 11 / 81 ).

اور شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى نے بھى يہى اختيار كيا ہے، ان سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:

ميں اپنى والدہ كى جانب سے حج كرنا چاہتا ہوں، تو كيا اس كے ليے ان سے اجازت لينا ضرورى ہے، يہ علم ميں رہے كہ وہ فرضى حج كر چكى ہيں؟

شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

" بڑھاپے يا لاعلاج مرض كى بنا پر اگر آپ كى والدہ حج كرنے سے عاجز ہيں تو آپ ان كے ليے حج كر سكتے ہيں اس ميں كوئى حرج نہيں چاہے ان كى اجازت كے بغير ہى ہو، اس كى دليل مندرجہ ذيل حديث ہے:

ايك شخص نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے اجازت طلب كرتے ہوئے كہا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميرا والد بوڑھا ہے اور حج و عمرہ نہيں كرسكتا، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اپنے والد كى جانب سے حج اور عمرہ كر لو "

اور ايك عورت نے يہ كہہ كر اجازت طلب كى:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميرا والد بوڑھا ہے حج نہيں كر سكتا، اور نہ ہى سفر كر سكتا ہے، تو كيا ميں اس كى جانب سے حج كرلوں؟ تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اپنے والد كى طرف سے حج كرو"

اور اسى طرح ميت كى جانب سے بھى حج كيا جا سكتا ہے، كيونكہ يہ صحيح احاديث سے ثابت ہے، اور مندرجہ بالا دونوں حديث كى بنا پر بھى جائز ہے. انتہى

ديكھيں: فتاوى ابن باز ( 16 / 414 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments