42979: سسرال والوں سے شرم كى بنا پر غسل جنابت كے بدلے تيمم كرنا


ميں اپنى ساس اور نند كے ساتھ رہتى ہوں اور روزانہ يا ايك دن كے بعد غسل جنابت كرتے ہوئے شرم آتى ہے، كيا ميرے ليے غسل كے بدلے تيمم كرنا ممكن ہے، اس ليے كہ ہفتہ ميں ايك يا دو بار تيمم كرنے كى ضرورت ہے تا كہ گھر ميں رہنے والے زيادہ غسل كرنا محسوس نہ كريں ؟

Published Date: 2008-06-07

الحمد للہ:

غسل جنابت پانى كے ساتھ كرنا فرض ہے؛ كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اے ايمان والو تم نشہ كى حالت ميں نماز كے قريب مت جاؤ يہاں تك كہ تم جو كچھ كہتے ہو اسے سمجھنے لگو، اور نہ ہى حالت جنابت ميں حتى كہ غسل كر لو، اور اگر تم مريض ہو يا مسافر يا تم ميں سے كوئى ايك شخص قضائے حاجت سے فارغ ہو، يا تم نے بيوى سے جماع كيا ہو اور تمہيں پانى نہ ملے تو پاكيزہ مٹى سے تيمم كرو، اور اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح كرو، يقينا اللہ تعالى معاف كرنے والا اور بخشنے والا ہے ﴾النساء ( 43 ).

اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:

﴿ اور اگر تم حالت جنابت ميں ہو تو غسل كرو، اور اگر تم مريض ہو يا مسافر يا تم ميں سے كوئى قضائے حاجت سے فارغ ہو، يا تم نے بيوى سے جماع كيا ہو اور تمہيں پانى نہ ملے تو پاكيزہ مٹى سے تيمم كرلو، اور اپنے چہروں اور ہاتھ پر اس سے مسح كرو، اللہ تعالى تم پر كوئى تنگى نہيں كرنا چاہتا، ليكن تمہيں پاك كرنا چاہتا ہے، اور تم پر اپنى نعمتيں پورى كرنا چاہتا ہے تا كہ تم اس كا شكر ادا كرو ﴾المآئدۃ ( 6 ).

اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" مٹى مسلمان شخص كى طہارت ہے، چاہے اسے دس برس تك پانى نہ ملے اور جب اسے پانى ملے تو اسے اپنے بدن پر استعمال كرنا چاہيے، كيونكہ يہ بہتر ہے "

اسے بزار نے روايت كيا اور علامہ البانى رحمہ للہ تعالى نے صحيح الجامع حديث نمبر ( 3861 ) ميں صحيح قرار ديا ہے.

مندرجہ بالا آيت كى رو سے غسل كى بجائے تيمم صرف اس وقت ہو سكتا ہے جب پانى نہ ملے، يا پھر پانى استعمال كرنے ميں ضرر ہو.

ليكن صرف شرم كى بنا پر غسل ترك كرنا جائز نہيں، اور نہ اس صورت ميں تيمم كفائت كرےگا، اور نہ ہى اس سے نماز كى ادائيگى صحيح ہوگى بندے كو چاہيے كہ وہ بندوں كى بجائے اللہ سے زيادہ خوف ركھے، جيسا كہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ چنانچہ تم لوگوں سے مت ڈر، بلكہ مجھ سے ڈرو ﴾المآئدۃ ( 44 ).

اور ايك مقام پر اس طرح فرمايا:

﴿ كيا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ حالانكہ اللہ تعالى سے ڈرنے كا زيادہ حق ہے اگر تم مؤمن ہو ﴾التوبۃ ( 13 ).

وہ شرم و حياء جو واجبات كو ترك كرنے كا باعث بنے وہ شرم قابل مذمت ہے بلكہ يہ تو كمزورى ہے نہ كہ ايسى حياء جو قابل مدح ہو.

آپ كے ليے يہ ممكن ہے كہ آپ ايسے وقت ميں غسل كريں جس ميں انہيں شعور بھى نہ ہو اور پتہ ہى نہ چلے ـ تا كہ آپ كى شرم ميں كمى ہو ـ مثلا نماز فجر سے قبل، يا پھر كوئى ايسا طريقہ اختيار كر ليں جس سے پانى كى آواز پيدا نہ ہو، اور آپ كے غسل كرنے كا پتہ ہى نہ چل سكے، يا كوئى اور طريقہ اختيار كرليں جو آپ كے ممد و معاون ہو اور آپ ان سے نہ شرمائيں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments