43085: كيا بيٹے پر والدہ كا قرض ادا كرنا واجب ہے ؟


ميرى والدہ بے نماز ہے، اور ميرے علم كے مطابق وہ كافر شمار ہوتى ہے، اس كى عادت تھى كہ وہ قرضہ ليكر واپس نہيں كرتى تھى، وہ قرض دينے والے كے ساتھ وعدہ كرتى كہ وہ بہت جلد مال واپس كر ديگى، ليكن وہ ايسا كرتى نہ تھى، اس نے كبھى نماز ادا نہيں كى، اور نہ ہى روزہ ركھا، جب وہ فوت ہو جائے تو كيا اس كے قرض كى ادائيگى ميرے ذمہ واجب ہے ؟
ميں نے اسے بہت نصيحت كى اور سمجھايا ہے ليكن كوئى فائدہ نہيں ہوا، ميرے علم كے مطابق وہ بہت زيادہ رقم كى مقروض ہے، جس ميں سودى قرض بھى شامل ہے، وہ چھٹيوں ميں گھومنا پھرنا پسند كرتى تھى كہ وہ قرض ادا كريگى، جو كافر اسے قرض ديتے تھے وہ ميرے علم ميں ہيں، ميرے پاس اس كا قرض ادا كرنے كى استطاعت نہيں، مجھے اللہ تعالى نے ہدايت سے نوازا ہے، اس ليے مجھے اس سلسلہ ميں كيا كرنا ہوگا، ليكن ميرى والدہ بے نماز ہے، اور نہ ہى روزہ ركھتى ہے، اور نہ زكاۃ كى ادائيگى كرتى ہے، اور نہ ہى شرعى پردہ كا اہتمام كرتى ہے ؟

Published Date: 2007-06-03

الحمد للہ:

اول:

آپ كو اللہ تعالى كا شكر ادا كيا كہ اس نے آپ پر انعام كرتے ہوئے آپ كو ہدايت نصيب فرمائى، اور صراط مستقيم پر چلنے كى توفيق دى، يہ ايسى نعمت ہے جس سے بہت سارے لوگ محروم ہيں، اور ديكھ آپ كے قريب ترين لوگوں ميں سے آپ كى والدہ بھى اس نعمت سے محروم ہے، آپ اس نعمت پر جتنا بھى شكر كريں يہ كم ہے، كيونكہ شكر كرنے سے نعمت ميں اضافہ ہوتا ہے.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اگر تم شكر ادا كروگے تو ميں تمہيں اور زيادہ دونگا ﴾ابراہيم ( 7 ).

آپ كو چاہيے كہ آپ اپنى والدہ كو جہنم كى آگ سے بچانے كى پورى كوشش كريں، اور اسے بہتر اور اچھے طريقہ سے دعوت ديں، آپ اس كے سامنے ہر وقت آخرت ياد كرتى رہيں، اور اسے اللہ تعالى سے ملاقات اور روز قيامت كى ہولناكياں ترغيب اور ترہيب كے ساتھ ياد دلائيں، ہو سكتا ہے اللہ تعالى اس كى حالت درست فرما دے.

اس كے ليے آپ كو پورى كوشش اور جدوجھد كرنى چاہيے، اور آپ نااميد نہ ہوں، اور آپ اس كے حقيقى بھائى، يا كسى سہيلى يا پڑوسيوں ميں سے كسى ايسے شخص كو تلاش كريں جو اس كے دل پر اثرانداز ہو، جنہيں اللہ تعالى نے صراط مستقيم كى طرف ہدايت دے ركھى ہے، تا كہ وہ آپ كى والدہ كو صحيح راہ دكھائيں، اور اس كے دين كى اصلاح كريں.

دوم:

آپ كے ذمہ اس كے قرض كى ادائيگى واجب نہيں ـ اگر وہ مسلمان بھى ہوتى ـ نہ تو اس كى زندگى ميں، اور نہ ہى اس كے وفات كے بعد، ليكن اگر وہ مال اپنے تركہ ميں چھوڑے تو پھر آپ پر واجب ہوتا ہے كہ آپ اس كے تركہ سے پہلے اس كا قرض ادا كريں، كيونكہ يہ لوگوں كے حقوق سے تعلق ركھتا ہے، اگر تو اس كا مال پورا ہو تو ٹھيك, وگرنہ اس كا قرض اس كے ساتھ ہى رہےگا، اور كسى كو بھى يہ حق نہيں كہ اس قرض كى ادائيگى كا آپ سے مطالبہ كرے؛ كيونكہ وہ قرض تو آپ كى والدہ كے ذمہ تھا، نہ كہ آپ كے ذمہ، ليكن آپ كے ذمہ تو اس ميں سے كچھ بھى نہيں ہے، ليكن اگر وہ اسلام كى حالت ميں فوت ہو تو پھر اپنى والدہ كے ساتھ حسن سلوك كرتے ہوئے آپ كے ليے اپنى والدہ كا قرض ادا كرنا مندوب اور جائز تو ہے ليكن واجب اور ضرورى نہيں.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" ميت كے ذمہ قرض كى ادائيگى ورثاء پر واجب نہيں ہوتى، ليكن يہ قرضہ اس كے تركہ سے ادا كيا جائيگا "

ديكھيں: منھاج السنۃ ( 5 / 232 ).

اور آپ كو چاہيے كہ آپ لوگوں كو اسے مال دينے سے خبردار كريں كيونكہ ايسا كرنے ميں ان كى خيرخواہى، اور ان كے مال كى حفاظت ہے؛ اور ايسا كرنے ميں آپ كى والدہ پر دنياوى معاملات ميں تخفيف اور آخرت كى سزا ميں بھى تخفيف ہوگى كہ وہ لوگوں سے مال ليكر انہيں واپس نہ كرے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments