44633: قئ سے وضوء نہيں ٹوٹتا


كيا قئ كرنے سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے ؟

Published Date: 2010-12-06

الحمد للہ:

بعض علماء كرام كہتے ہيں كہ قئ سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے، ان ميں امام ابو حنيفہ، اورامام احمد شامل ہيں، ليكن امام احمد نے شرط لگائى ہے كہ جب قئ بہت زيادہ ہو تو پھر وضوء ٹوٹتا ہے.

اور امام شافعى رحمہ اللہ كہتے ہيں كہ قئ سے وضوء نہيں ٹوٹتا، اور يہى صحيح ہے، كيونكہ قئ سے وضوء ٹوٹنے كى كوئى صحيح دليل نہيں ہے.

ديكھيں: المجموع ( 2 / 63 - 65 ) المغنى ( 1 / 248 - 250 ).

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے دريافت كيا گيا كہ:

كيا سبيلين ( پيشاب اور پاخانہ والى جگہ ) كے علاوہ كسى جگہ سے خارج ہونے والى اشياء سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے ؟

تو شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" سسبلين كے علاوہ كہيں سے خارج ہونے والى چيز سے وضوء نہيں ٹوٹتا چاہے وہ قليل ہو يا كثير، صرف پيشاب اور پاخانہ سے وضوء ٹوٹتا ہے؛ اس ليے كہ اصل ميں وضوء نہيں موجود ہے، اس ليے جو اس كے خلاف دعوى كرتا ہے اسے اس كى دليل دينى چاہيے، اور انسان كى طہارت شرعى دليل كے مقتضى سے ثابت ہوئى ہے، اور جو چيز شرعى دليل كے مقتضى سے ثابت ہو اسے ختم بھى شرعى دليل كے ساتھ ہى كيا جاسكتا ہے.

اور جو كتاب و سنت ميں پايا جاتا ہے ہم اس سے باہر نہيں جاسكتے كيونكہ ہميں اللہ تعالى كى شريعت كو ماننے كے پابند ہيں نہ كہ اپنى خواہشات كے، لہذا ہمارے ليے جائز نہيں كہ ہم اللہ كے بندوں پر وہ طہارت لازم كريں جو ان كے ليے واجب نہ ہو، اور نہ ہى ہم ان سے واجب طہارت كو ختم كر سكتے.

اور اگر كوئى شخص يہ كہے كہ:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے متعلق وارد ہے كہ آپ نے قئ كرنے كے بعد وضوء كيا.

تو ہم كہتے ہيں: اس حديث كو اكثراہل علم نے ضعيف قرار ديا ہے پھر ہم يہ بھى كہتے ہيں كہ: يہ تو صرف فعل ہے اور صرف فعل وجوب پر دلالت نہيں كرتا، كيونكہ يہ حكم سے خالى ہے، اور پھر يہ حديث كے بھى خلاف ہے ـ چاہے حديث ضعيف ہے ـ كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے سنگى لگوائى اور وضوء نہيں كيا، جو كہ اس كى دليل ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا قئ سے وضوء كرنا وجوب كے ليے نہيں.

اور راجح قول يہى ہے كہ بدن كے باقى حصہ سے خارج ہونے والى چيز چاہے قليل ہو يا كثير چاہے وہ قئ ہو يا لعاب يا خون يا زخموں كا پانى يا كوئى اور چيز اس سے وضوء نہيں ٹوٹتا، مگر پيشاب يا پاخانہ كے ليے جسم كے كسى اور حصہ ميں سوراخ كر ديا جائے تو اس كے خارج ہونے سے وضوء ٹوٹ جائيگا " انتہى.

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( 11 / 198 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments