47032: وصيت اور وراثت كا ايك مسئلہ


ميرى ايك بيوى اور دو بيٹے اور والدہ، اور بہن اور نانى ہے، ہمارى پرورش ہمارے دادا جان نے كى جو كہ اب فوت ہو چكے ہيں، جب سے ہم اپنے والد سے عليحدہ ہوئے ہيں تقريبا تئيس برس سے ہمارى پرورش دادا جان ہى كر رہے ہيں، اس عرصہ ميں ہمارے والد نے ہم سے كوئى رابطہ نہيں ركھا، اور نہ ہى عليحدگى سے ليكر اب تك ہمارے والد نے ہمارا خرچ ہى برداشت كيا ہے.
ميں ايك گھر كا مالك ہوں، اس كا كچھ حصہ ميرى والدہ نے مجھے ہديہ ديا تھا، اور گھر كا كچھ حصہ ميں نے اپنى رقم سے بنايا ہے، اب يہ گھر ميرے نام ہے، اور اسى فيصد ( 80 % ) ميرا سرمايہ ہے، اور ميرا باقى سرمايہ بہت ہى كم ہے جو كہ نقدى اور حصص كى صورت ميں ہے، شريعت اسلاميہ كى حدود ميں رہتے ہوئے ميں اپنى آخرى وصيت كس طرح لكھ سكتا ہوں ؟

Published Date: 2007-04-30

الحمد للہ:

اول:

كسى بھى شخص پر اپنى زندگى ميں تركہ تقسيم كرنے كى وصيت لكھنى واجب نہيں؛ كيونكہ وراثت كى شروط ميں جس كا وارث بنا جائے اس كى موت كا ثابت ہونا ہے، اس ليے جب اس كى موت واقع ہو جائے تو پھر اس كا تركہ شرعى تقسيم كے مطابق اس كے زندہ ورثاء كے درميان تقسيم كيا جائيگا.

اس ليے كہ ہر وارث كا حصہ شريعت ميں مقرر اور فرض كيا گيا ہے كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ والدين اور رشتہ داروں نے جو كچھ تركہ چھوڑا ہے اس ميں سے مردوں كا حصہ ہے، اور عورتوں كا بھى حصہ ہے جو والدين اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہے چاہے وہ مال كم ہو يا زيادہ يہ حصے مقرر كردہ ہيں ﴾النساء ( 7 ).

اور افضل يہ ہے كہ تركہ كى جلد تقسيم نہ كى جائے، ليكن اگر وہ شخص جس كا وارث بنا جا رہا ہے اسے خدشہ ہو كہ اس كى موت كے بعد ورثاء ميں جھگڑا و فساد بپا ہو جائيگا، يا پھر تركہ كى تقسيم ميں شرعى اصول و ضوابط كو مد نظر نہيں ركھا جائيگا، بلكہ اپنے ملك كے وضعى قانون كے مطابق تقسيم كرينگے نہ كہ شرعى تقسيم تو پھر اس صورت ميں اس پہلے سے لكھ كر ركھنا ممكن ہے.

دوم:

اگر فرض كر ليا جائے كہ آپ كى ممتلكات كى تقسيم صرف سوال ميں مذكور اشخاص پر منحصر ہو، اور وہ دو بيٹے، ايك بيوى، ماں، اور نانى اور ايك بہن، اور باپ ہيں ( آپ نے بيان كيا ہے كہ آپ كا والد زندہ ہے، چاہے وہ آپ سے عليحدہ ہوچكا ہے، اور اس نے آپ كے واجب كردہ حقوق يعنى خرچ وغيرہ بھى ادا نہيں كيا، ليكن وہ آپ كا وارث ہے، اور آپ اس كى وراثت ك حقدار ہونگے ) تو اس صورت ميں تركہ كى تقسيم كچھ اس طرح ہوگى:

بيوى كو آٹھواں حصہ ملےگا، اور باپ اور ماں ميں سے ہر ايك كو چھٹا حصہ ملےگا، اور باقى مانندہ تركہ دونوں بيٹے برابر برابر لينگے.

اور آپ كے ليے جائز نہيں كہ ان ميں سے كسى ايك كے ليے بھى اس كے فرض كردہ حصہ سے زائد وصيت كريں، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" يقينا اللہ تعالى نے ہر حقدار كو اس كا حق ادا كر ديا ہے، تو وارث كے ليے كوئى وصيت نہيں "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 2046 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور اس مسئلہ ميں بيٹوں اور باپ كى وجہ سے بہن محروم ہو جائيگى لہذا وہ ان كى موجودگى ميں وارث نہيں بن سكتى، اور نانى بھى ماں كى موجودگى ميں وارث نہيں بنےگى.

اور آپ كے ليے جائز ہے كہ بہن اور نانى كے ليے وصيت كرنا جائز ہے ليكن يہ وصيت ايك تہائى حصہ سے زائد نہ ہو.

سوم:

آپ نے سوال ميں بيان كيا ہے كہ آپ كى والدہ نے آپ كو گھر كا ايك حصہ بطور ہديہ ديا ہے، ليكن آپ نے يہ بيان نہيں كيا كہ اس نے آپ كى بہن كو اس ميں سے كچھ ديا ہے يا نہيں ؟

اگر تو آپ كى والدہ نے آپ كى بہن كو كچھ نہيں ديا تو پھر اس نے عطيہ اور ہبہ كرنے ميں اپنى اولاد كے مابين عدل و انصاف سے كام نہيں ليا اور كسى بھى شخص كے ليے جائز نہيں كہ وہ اپنى اولاد ميں كسى كو تو كچھ ہبہ كردے اور كسى كو نہ دے، يا پھر ان ميں سے كسى ايك كو دوسرے پر فضيلت ديتے ہوئے زيادہ چيز ہبہ كرے، بلكہ اس كے ليے عدل و انصاف كرنا واجب ہے.

اس كى دليل نعمان بن بشير رضى اللہ تعالى عنہ كى يہ حديث ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ:

" جب ان كے والد نے انہيں ايك باغ ہديہ ميں ديا تو وہ انہيں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس ليكر آئے تا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اس پر گواہ ہوں تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" كيا تو نے اپنى سارى اولاد كو اسى طرح ہديہ ديا ہے ؟

تو انہوں نے جواب ديا: نہيں، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرو اور اس سے ڈرتے ہوئے اپنى اولاد كے مابين عدل و انصاف كرو "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2398 ).

اور اولاد ميں عدل و انصاف اس طرح ہوگا كہ بيٹے كو دو بيٹيوں جتنا ديا جائے، اس ليے كہ اللہ تعالى نے وراثت ميں اسى طرح تقسيم كى ہے، اور اللہ تعالى كى تقسيم سے زيادہ عدل و انصاف كوئى اور نہيں كر سكتا.

اس بنا پر يا تو آپ اپنى بہن كو والدہ كى جانب سے ديے گئے حصہ كا ايك تہائى ديں، يا پھر اپنى والدہ كا عطيہ واپس كر ديں، ليكن اگر آپ كى بہن ہنسى خوشى اور رضامندى سے اپنا حق معاف كر دے تو پھر كوئى حرج نہيں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments