5983: عقدنکاح میں بیوی کی شرط کہ خاوند دوسری شادی نہیں کرے گا


کیا عقد نکاح میں بیوی یہ شرط رکھ سکتی ہے کہ خاوند دوسری شادی نہیں کرے گا ؟

Published Date: 2004-06-06

الحمدللہ

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالی اپنی کتاب المغنی میں کہتے ہیں :

ان کا کہنا ہے : ( جب شادی میں یہ شرط رکھی جائے کہ اسے اس کے گھر یا ملک سے نہیں لےجایا جائیگا تویہ شرط صحیح ہے اوراسے پورا کرنا ہوگا ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا :

( شرائط میں سے وہ شرط سب سے زیادہ پوری کرنے کا حق ہے جس سے تم شرمگاہوں کو حلال کرتے ہو )

اوراگر شادی میں یہ شرط رکھی جائے کہ خاوند دوسری شادی نہیں کرے گا اوراگرخاوند دوسری شادی کرلے تو بیوی کوعلیحدگي کا حق حاصل ہے ) ۔

اس میں اجمالی طورپر یہ ہے کہ نکاح کی شرطیں تین اقسام میں منقسم ہوتی ہيں :

ایک قسم تو وہ ہے جس کا پورا کرنا لازم ہے ، اوروہ شرطیں یہ ہیں جن کا فائدہ اورنفع لڑکی کو پہنچتا ہو مثلا یہ شرط رکھی جائے کہ وہ اسے اس کے گھریا ملک سے نہیں لےجائيگا اورنہ ہی اس کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کرے گا ، اورنہ ہی لونڈی رکھے گا ، تویہ شرط پوری کرنا لازم ہے ، اگر وہ اسے پورا نہیں کرتا توبیوی کو فسخ نکاح کا حق حاصل ہے ۔۔۔ دیکھیں المغنی ابن قدامہ کتاب النکاح ( جلد نمبر 7 ) ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی سے اس مسئلہ کے بارہ میں سوال کیا گيا تو ان کا جواب تھا : جوکہ فتاوی الکبری میں منقول ہے :

مسئلہ : کسی شخص نے ایک عورت سے شادی کی اوربیوی نے یہ شرط رکھی کہ وہ دوسری شادی نہیں کرے گا اورنہ ہی وہ اسے اس کے گھر سے کہیں اورمنتقل کرے گا ، بلکہ وہ اپنی ماں کے پاس ہی رہے گی تواس نے اس شرط پر اس سے دخول کرلیا تو کیا یہ شرائط پوری کرنا ضروری ہیں اوراگر وہ ان کی مخالفت کرتا ہے تو کیا بیوی کو فسخ نکاح کا حق حاصل ہے کہ نہیں ؟

جواب :

جی ہاں یہ اوراس طرح کی دوسری شرائط صحیح ہیں صحابہ کرام میں سے عمربن خطاب ، عمروبن عاص رضي اللہ تعالی عنہم اورتابعین میں سے قاضي شریح ، امام اوزاعی ، اسحاق ، اورامام احمد کا مسلک بھی یہی ہے ، اورامام مالک رحمہ اللہ تعالی کا مسلک ہے کہ جب بیوی نے یہ شرط رکھی اورخاوند نے دوسری شادی کرلی ۔۔۔ تو اس میں معاملہ بیوی کے سپرد ہوگا اوراس کی رائے ہی ہوگی تو یہ شرط بھی صحیح ہے ، اوربیوی کواس شرط کی بنا پر علیحدگي کا حق ہے ۔

یہ بالمعنی امام احمد رحمہ اللہ تعالی کے مسلک کے مطابق ہی ہے اس لیے کہ صحیحین میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا :

( وہ شرطیں سب سے زیادہ وفا کا حق رکھتی ہیں جن سے تم شرمگاہوں کو حلال کرتے ہو ) ۔

اورعمربن خطاب رضي اللہ تعالی عنہ کا کہنا ہے :

شروط کے وقت حقوق ختم ہوجاتے ہیں ۔

تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شرائط میں سے شرمگاہ حلال کرنے والی شرائط پوری کرنے کا زيادہ حق قرار دیا ہے ، تواس طرح کی شرائط میں یہ نص ہے ۔ دیکھیں الفتاوی الکبری کتاب النکاح جلد ( 3 ) ۔

واللہ اعلم .

شیخ محمد صالح المنجد
Create Comments