60046: روافض شيعۃ كے ذبح كردہ جانور كا حكم


ہم شيعہ معاشرہ ميں رہتے ہيں، اور آپ كو شيعہ كے عقائد كا تو بخوبى علم ہے كہ اسلام كا دعوى ہونے كے باوجود ان كا عقيدہ كتاب و سنت كے مخالف ہے، تو كيا ہمارے ليے ان كا ذبح كردہ جانور جس پر وہ بسم اللہ پڑھ كر ـ ماركيٹ ميں فروخت كرنے كے ليے ـ يا پھر فوت شدگان يا درباروں اور نذر و نياز كے ليے ذبح كرتے ہيں ؟

Published Date: 2008-11-13

الحمد للہ:

ذبح كردہ جانور كے حلال ہونےكى شروط ميں يہ شامل ہے كہ ذبح كرنے والا شخص مسلمان ہو يا اہل كتاب سے تعلق ركھتا ہو، اس ليے نہ تو مشرك كا ذبح كردہ حلال ہے اور نہ ہى مجوسى اور مرتد كا ذبح كردہ.

شيعہ كے كئى عقائد اور اعمال ايسے ہيں جو انہيں دائرہ اسلام سے خارج كر ديتے ہيں، مثلا قرآن مجيد كى تحريف كا عقيدہ، اور يہ عقيدہ كہ ان كے آئمہ علم غيب ركھتے ہيں، اور وہ غلطى و خطا سے معصوم ہيں.

اور وہ مردوں سے استغاثہ اور مدد بھى مانگتے ہيں، اور اللہ تعالى كے علاوہ انہيں پكارتے اور قبروں كو سجدہ كرتے ہيں، اور انبياء و رسل كے بعد سب سے افضل ترين افراد نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے صحابہ كرام كو كافر قرار ديتے ہيں، اس كى تفصيل سوال نمبر ( 1148 ) اور ( 10272 ) اور ( 21500 ) كے جوابات ميں بيان ہو چكى ہے.

چنانچہ جس كسى نے بھى ان عقائد كو اپنايا، يا ان كفريات ميں سے كوئى عمل كيا تو وہ اسلام سے خارج ہے اور اس كا ذبح كردہ جانور حلال نہيں.

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام سے درج ذيل سوال دريافت كيا گيا:

جعفرى شيعہ كا ذبح كردہ گوشت كھانے كا حكم كيا ہے، يہ علم ميں رہے وہ على اور حسن اور حسين رضى اللہ تعالى عنہ اور اپنے سب بڑوں كو مصيبت اور تنگى اور آسانى ميں پكارتے ہيں ؟

كميٹى كے علماء كا جواب تھا:

" اگر تو معاملہ ايسا ہى ہے جيسا سائل نے بيان كيا ہے كہ وہ جعفرى لوگ على اور حسن و حسين اور اپنے سب بڑوں اور اماموں كو پكارتے ہيں تو وہ مشرك ہيں اور اسلام سے مرتد ہيں، اللہ اس سے محفوظ ركھے، اور ان كا ذبح كردہ گوشت كھانا جائز نہيں، كيونكہ يہ مردار ہے چاہے وہ اس پر بسم اللہ بھى پڑھ ليں " انتہى

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 2 / 264 ).

اور كميٹى سے يہ سوال بھى كيا گيا:

ميں شمالى حدود ميں رہنے والے قبيلہ سے تعلق ركھتا ہوں ہم اور عراقى قبائل كا آپس ميں اختلاط ہے، اور ان كا مذہب شيعہ بت پرستى ہے اور وہ قبوں كى عبادت كرتے اور اس كا نام حسن و حسين اور على ركھتے ہيں.

اور جب ان ميں سے كوئى اٹھتا ہے تو يا على، يا حسين كا نعرہ لگاتا ہے، ہمارے كچھ قبائل كا ان سے نكاح اور ہر حال ميں اختلاط ہے، ميں نے انہيں نصيحت كى اور سمجھايا ہے ليكن وہ نہيں سنتے، ميں نے سنا ہے كہ ان كا ذبح كردہ نہيں كھانا چاہيے، ليكن يہ لوگ ان كا ذبح كردہ گوشت كھاتے ہيں، ہم آپ سے گزارش كرتے ہيں كہ اس سلسلہ ميں واجب اور ضرورى كى وضاحت كريں ؟

كميٹى كے علماء كرام كا جواب تھا:

" اگر تو واقع بالكل اسى طرح ہے جو آپ بيان كر رہے ہيں كہ وہ على اور حسن و حسين رضى اللہ تعالى عنہم وغيرہ كو پكارتے ہيں: تو وہ مشرك ہيں اور شرك اكبر كا ارتكاب كر رہے ہيں جو انہيں ملت اسلاميہ سے خارج كر ديتا ہے، اس بنا پر ہمارے ليے اپنى عورتوں كو ان كے نكاح ميں دينا جائز نہيں، اور نہ ہى ہمارے ليے ان كى عورتوں سے نكاح كرنا جائز ہے، اور نہ ہى ہمارے ليے ان كا ذبح كردہ گوشت كھانا جائز ہے.

اللہ تعالى كا فرمان ہے:

{ اور تم شرك كرنے والى عورتوں سے اس وقت تك نكاح مت كرو جب تك وہ ايمان نہ لے آئيں، اور مومن لونڈى بھى شرك كرنے والى آزاد عورت سے بہتر ہے، گو تمہيں مشركہ ہى پسند اور اچھى لگتى ہو، اور نہ ہى شرك كرنے والے مردوں كے نكاح ميں اپنى عورتيں دو جب تك وہ ايمان نہ لے آئيں، ايمان والا غلام آزاد مشرك سے بہتر ہے گو مشرك تمہيں اچھا لگے، يہ لوگ جہنم كى طرف بلاتے ہيں، اور اللہ تعالى جنت كى طرف اور اپنى بخشش كى طرف اپنے حكم سے بلاتا ہے، وہ اپنى آيات لوگوں كے ليے بيان فرما رہا ہے تا كہ وہ نصيحت حاصل كريں }البقرۃ ( 221 ). انتہى.

الشيخ عبد العزيز بن عبد اللہ بن باز.

الشيخ عبد الرزاق عفيقى.

الشيخ عبد اللہ بن غديان.

الشيخ عبد اللہ بن قعود.

فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 2 / 264 ).

شيخ عبد اللہ بن جبرين حفظہ اللہ سے رافضہ كا ذبح كردہ گوشت كھانے كے متعلق دريافت كيا گيا تو ان كا جواب تھا:

" رافضى كا ذبح كردہ گوشت حلال نہيں، اور نہ ہى اس كا ذبح كردہ گوشت كھانا حلال ہے، كيونكہ غالب طور پر رافضى مشرك ہيں، اس ليے كہ وہ على بن ابى طالب رضى اللہ تعالى عنہ كو مصيبت و آسانى ميں ہر وقت پكارتے رہتے ہيں، حتى كہ عرفات اور طواف اور سعى كے دوران بھى اور ان كى اولاد اور اپنے اماموں كو بھى پكارتے ہيں جيسا كہ ہم نے كئى بار سنا ہے، اور يہ شرك اكبر اور اسلام سے ارتداد ہے، اس پر وہ قتل كے مستحق ہيں.

اسى طرح وہ على رضى اللہ تعالى عنہ كے اوصاف بيان كرنے ميں بھى غلو كرتے ہيں اور انہيں ايسے اوصاف ديتے ہيں جو صرف اللہ سبحانہ و تعالى كے علاوہ كسى اور كے لائق نہيں، جيسا كہ ہم نے عرفات ميں سنا ہے، تو اس كى بنا پر وہ مرتد ہيں، كيونكہ انہوں نے على رضى اللہ تعالى عنہ كو رب اور خالق اور كون ميں تصرف كرنے والا اور علم غيب كا علم ركھنے اور نفع و نقصان دينے والا قرار دے ركھا ہے.

اسى طرح وہ قرآن مجيد ميں بھى طعن كرتے ہيں اور گمان كرتے ہيں كہ صحابہ كرام نے اس ميں تحريف كرتے ہوئے اہل بيت اور ان كے دشمنوں كے متعلقہ بہت سارى آيات حذف كر دى ہيں، نہ تو وہ صحابہ كرام كى اقتداء كرتے ہيں، اور نہ ہى انہيں دليل سمجھتے ہيں، اسى طرح وہ اكابر صحابہ كرام مثلا خلفاء ثلاثہ اور بقيہ عشرہ مبشرہ صحابہ كرام اور امہات المومنين اور مشہور صحابہ كرام مثلا انس اور جابر اور ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہم وغيرہ ميں طعن كرتے ہيں.

نہ تو وہ ان كى احاديث قبول كرتے ہيں، اور نہ ہى صحيحين كى احاديث پر عمل كرتے ہيں، كيونكہ صحابہ كرام ان كے گمان ميں كفار ہيں، وہ صرف اہل بيت كے متعلقہ احاديث ہى تسليم كرتے ہيں، اور مكذوب اور موضوع احاديث كى طرف رجوع كرتے ہيں، يا پھر اس كى طرف جس ميں ان كے قول كى كوئى دليل نہيں ملتى، ليكن اس كے باوجود وہ نفاق كرتے ہوئے اپنى زبانوں سے وہ كچھ كہتے ہيں جو ان كے دلوں ميں نہيں، اور اپنے اندر وہ كچھ چھپا كر ركھتے ہيں جو ظاہر نہيں كرتے، اور وہ يہ كہتے ہيں:

" جو تقيہ نہيں كرتا اس كا كوئى دين ہى نہيں "

اس ليے اخوت اور شريعت وغيرہ سے محبت كا دعوى قابل قبول نہيں نفاق ان كا عقيدہ ہے، اللہ تعالى ہميں ان كے شر سے محفوظ ركھے " انتہى.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments