6496: ہر شخص کے ساتھ فرشتوں کی تعداد


مسلمان کے ساتھ جو فرشتے ہیں ان کی تعداد کیا اور ان کا کام کیا ہے ؟

Published Date: 2005-02-27

الحمد للہ :

ابن آدم کی ماں کے پیٹ میں تخلیق ہونے سے لے کر ان کی موت کے دن ان کے جسموں روح کے نکلنے تک فرشتے ان کے ساتھ رہتے ہیں اور ان کی قبروں اور آخرت میں بھی ان کے ساتھ ہوں گے ۔

دنیا میں فرشتوں کاانسان کے ساتھ ہونا ذیل میں بیان کیا جاتا ہے ۔

اول : اس خلقت اور پیدائش کے وقت :

انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( اللہ تعالی نے رحم کو ایک فرشتے کے سپرد کیا ہے تو وہ کہتا ہے کہ اے میرے اللہ نطفہ ؟ اے میرے رب گاڑھا خون ؟ اے میرے رب گوشت کا لوتھڑا ؟ اے میرے رب بچہ یا بچی ؟ بد بخت یا نیک بخت ؟ اس کا رزق کتنا ہے ؟ اس کی موت کب ہے ؟ تو سب کچھ اس کی ماں کے پیٹ میں ہی لکھ دیا جاتا ہے )

صحیح بخاری حدیث نمبر ( 6595) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 2646) اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں ۔

دوم – ان کا ابن آدم کی حفاظت کرنا ۔

فرمان باری تعالی ہے :

( تم میں سے کسی کا باپ کو چھپا کر کہنا اور یہ بلند آواز سے کہنا اور جو رات کو ہوا اور جو دن میں چل رہا ہے سب اللہ تعالی پر برابر اور یکساں ہے اور اس کے پہریدار انسان کے آگے پیچھے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کر رہے ہیں ) الرعد / 10- 11

اور ترجمان القرآن ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ بیان کیا ہے کہ معقبات سے مراد فرشتے ہیں جنہیں اللہ تعالی نے انسان کی اس کے آگے اور پیچھے سے حفاظت کے لۓ مقرر کیا ہے تو جب اللہ تعالی کی تقدیر آتی ہے – جو اس پر مقدر کی گئي ہے کہ اسے کوئی مصیبت یا کوئی حادثہ پہنچنا ہو – تو اس سے علیحدہ ہو جاتے ہیں ۔

اور مجاہد کا قول ہے کہ : ہر ایک کی حفاظت کے لۓ فرشتے مقرر ہیں جو کہ اس کی نیند اور بیداری حالت میں جنوں اور انسان اور موذی جانوروں سے حفاظت کرتے ہیں تو جو بھی اس کے نزدیک آتی ہے تو فرشتہ اسے کہتا ہے پیچھے رہو مگر اللہ کے حکم سے جو اسے پہنچنا ہو وہ اسے پہنچ جاتا ہے ۔

ایک شخص نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کہا : مراد کے کچھ لوگ آپ کو قتل کرنا چاہتے ہیں تو علی رضي اللہ عنہ نے اسے کہا کہ ہر شخص کے ساتھ دو فرشتے اس کی اس چیز سے حفاظت کرتے ہیں جو کہ تقدیر میں نہیں تو جب تقدیر آجاتی ہے تو وہ دونوں اس کے اور تقدیر کے درمیان سے ہٹ جاتے ہیں بیشک موت پختہ ڈھال ہے ۔

سورۃ الرعد کی آیت میں مذکور معقبات ہی دوسری آیات سے بھی مراد ہیں ۔

فرمان باری تعالی ہے :

( اور وہ ( اللہ تعالی ) اپنے بندوں پر غالب اور بلند اور تم پر حفاظت کر نے والے بھیجتا ہے حتی کہ جب تم میں سے کسی ایک کی موت آ جاتی ہے تو اسے ہمارے بھیجے ہوئےفوت کرتے ہیں اور وہ کوتاہی نہیں کرتے )

تو حفظہ وہ ہیں جنہیں اللہ تعالی بھیجتا ہے تا کہ وہ بندے کی موت تک حفاظت کریں ۔

سوم :

وہ فرشتے جو کہ نیکیاں اور برائیاں لکھتے ہیں ۔

لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہے جس کے ساتھ اس کے چھوٹے بڑے اور برے اعمال کو لکھنے کے لۓ دو فرشتے نہ ہوں ۔

فرمان باری تعالی ہے :

( یقینا تم پر حفاظت کرنے والے عزت دار لکھنے والے مقرر ہیں جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتے ہیں ) الانفطار / 10- 12

اور ارشاد باری تعالی ہے :

( ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم اس کے دل میں جو خیالات اٹھتے ہیں ان سے واقف ہیں اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں جس وقت دو لینے والے جا لیتے ہیں ایک دائیں اور ایک بائیں طرف بیٹھا ہوا ہے انسان منہ سے کوئی لفظ نہیں پاتا مگر کہ اس کے پاس نگہبان تیار رہتا ہے ) ق / 16- 18

تو دائیں طرف والا نیکیاں ‌اور بائیں طرف والا برائیاں لکھتا ہے ۔

ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( بائیں طرف والا غلطی کرنے والے مسلمان سے چھ گھنٹے تک قلم اٹھآئے رکھتا ہے تو اگر وہ اپنے کۓ پر نادم ہو اور اللہ تعالی سے استغفار کرے اسے ختم کر دیتا ہے اگر نہ کرے تو ایک گناہ لکھتا ہے )

طبرانی الکبیر ( 8 /158) اور اس حدیث کو علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الجامع ( 2/212) میں صحیح کہا ہے ۔

تو جب ہم پر یہ ظاہر ہو گیا تو اس سے یہ پتہ چلا کہ انسان کی ولادت کے بعد اس کے ساتھ چار فرشتے ہوتے ہیں ۔

ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :

اللہ تعالی کا یہ فرمان :

( اور اس کے پہریدار انسان کے آگے پیچھے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کر رہے ہیں ) یعنی بندے پر فرشتے مقرر ہیں جو کہ اس کی حفاظت کے لۓ اپنی باری پہ آتے ہیں دن میں حفاظت کرنے والے اور رات میں بھی اس کی حادثات اور تکلیفوں سےحفاظت کرتے ہیں جیسا کہ دوسرے فرشتے بھی ایک دوسرے کے بعد اپنی باری پر آتے ہیں جو کہ رات اور دن میں اس کے اچھے اور برے اعمال کی حفاظت کرتے ہیں ۔

تو وہ دائیں اور بائیں اعمال کو لکھتے ہیں دائیں طرف والا نیکیاں اور بائیں طرف والا برائیاں لکھتا ہے ۔

اور دوسرے فرشتے اس کی حفاظت اور چوکیداری کرتے ہیں ایک آگے سے اور دوسرا پیچھے سے ۔

تو انسان دن کو چار فرشتوں کے درمیان اور اسی طرح رات کو بھی چار فرشتوں کے درمیان ہوتا ہے ۔

تفسیر ابن کثیر ( 2/ 504) اور مزید تفصیل کے لۓ سوال نمبر 843 کا مراجعہ کریں ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments