65722: حصص كى زكاۃ


ميں سعودى حصص كى خريدوفروخت كا كاروبار كرتا ہوں، اور ميرے كام كى نوعيت يہ ہے كہ حصص كى قيمت خريد پر اگر كچھ بھى منافع مل رہا ہو تو اسے فروخت كر ديا جاتا ہے، وہ اس طرح كہ ميں كمپنيوں كے منافع كا انتظار نہيں كرتا.
ميرا سوال يہ ہے كہ: ميں نے اليكٹرك كمپنى ميں پانچ ماہ قبل كچھ حصص خريدے جو كہ ( 172ريال ) في حصہ كى قيمت سے ہيں، اور خريدارى كے بعد اس كى قيمت كم ہو كر ( 147ريال ) رہ گئى ہے، اور ابھى تك قيمت خريد تك نہيں پہنچى تو كيا ان حصص ميں زكاۃ ہے؟ اور اس زكاۃ كى ادائيگى كى كيفيت كيا ہو گى ؟
كيا قيمت خريد كے مطابق يا كہ اس وقت كى قيمت يعنى ( 147ريال ) كے مطابق ؟

Published Date: 2007-09-24

الحمد للہ :

اب يہ حصص تجارتى سامان شمار ہونگے، كيونكہ تجارتى سامان ہر وہ چيز ہوتى ہے جو فروخت اور تجارت كے ليے ركھى گئى ہو، لہذا اس ميں زكاۃ ہو گى.

اور تجارتى سامان كى زكاۃ سال كے آخر ميں اس كى قيمت كے حساب سے ہوتى ہے، چاہے وہ قيمت خريد سے زيادہ ہو يا كم.

اس كى تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 65515 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

اور اس بنا پر جب يہ حصص نصاب كو پہنچ جائيں، يا آپ كے پاس جو رقم ہے اسے ملا كر نصاب پورا ہوتا ہو تو سال كے آخر ميں اس كى قيمت كے حساب سے اس كى زكاۃ ادا كى جائيگى.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كا كہنا ہے:

" كمپنيوں ميں حصص اور شراكت كى زكاۃ كى كيفيت ميں ہم كہيں گے كہ:

اگر تو حكومت اسے شمار كرتى اور اس كى زكاۃ ليتى ہو تو اس طرح برى الذمہ ہوا جا سكتا ہے، وگرنہ اس ميں مندرجہ ذيل طريقہ كے مطابق زكاۃ واجب ہوتى ہے:

اگر تو ان حصص سے تجارت مقصود ہو تو ہر سال كے آخر ميں اس كى قيمت لگائى جائے، اور اس سے دس كا چوتھائى حصہ زكاۃ نكالا جائے.

ليكن اگر اس سے سرمايہ كارى مقصود ہو اس ميں زكاۃ نہيں، ليكن اگر اس كا ماحاصل ( يعنى آمدن ) روپے ہوں اور اس پر سال مكمل ہو جائے تو اس ميں زكاۃ ہو گى" انتہى.

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( 18 / 196 ).

مستقل فتوى كميٹى سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:

كيا حصص اور كاغذات ( رقم كى سنديں ) پر زكاۃ ہے، اور اسے كس طرح نكالا جائے؟

تو كميٹى كا جواب تھا:

" حصص اور سندوں ميں زكاۃ ہے، جبكہ يہ نقدى يا تجارتى سامان كى مثل ہوں، ليكن ايك شرط ہے كہ يہ جس كى ذمہ ميں نقدى ہو وہ نہ تو تنگ دست ہو، اور نہ ہى ادائيگى ميں ٹال مٹول كرنے والا ہو" انتھى.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 9 / 354 ).

مستقل فتوى كميٹى سے ان حصص كے متعلق دريافت كيا گيا جس سے اراضى اور پراپرٹى خريدى جاتى ہے.

تو كميٹى كا جواب تھا:

" سوال ميں مذكور حصص تجارتى سامان ميں سے ہيں، لہذا اس ميں زكاۃ واجب ہوتى ہے، ہر برس اس كى قيمت لگائى جائيگى اور قيمت خريد كو مد نظر نہيں ركھا جائيگا، اگر تو اس كے پاس مال ہو تو وہ اس كے ساتھ زكاۃ ادا كرے، وگرنہ وہ ان حصص كو فروخت كرنے اور قيمت وصول كرنے كے بعد ان سب برسوں كى زكاۃ ادا كرے گا" انتہى.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 9 / 353 ).

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى سے دريافت كيا گيا:

كيا حصص كى زكاۃ اس كى رسمى قيمت كے مطابق ہو گى يا كہ اس وقت ماركيٹ كى قيمت كے مطابق يا كس طرح ؟

شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

" حصص اور دوسرے تجارتى سامان كى زكاۃ ماركيٹ قيمت كے مطابق ادا كى جائيگى، لہذا جب قيمت خريد ايك ہزار ہو اور زكاۃ واجب ہونے كى وقت اس كى قيمت دو ہزار ہو جائے تو زكاۃ دو ہزار كے حساب سے ادا كى جائيگى، كيونكہ زكاۃ اس وقت كى قيمت كا اعبتار ہو گا جب زكاۃ واجب ہو رہى ہے، نہ كہ قيمت خريد كا اعتبار ہو گا" انتہى.

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( 18 / 197 ).

اس پر متنبہ رہنا ضرورى ہے كہ: جب تجارتى سامان سونے يا چاندى يا كرنسى ( ريال يا ڈالر يا دوسرى كرنسى ) يا كسى دوسرے سامان سے خريدا جائے؛ تو اس تجارتى سامان كا سال اس مال اور كرنسى كا سال ہى شمار كيا جائے گا جس سے وہ تجارتى سامان خريدا گيا ہے.

اور اس بنا پر سامان ملكيت ميں آنے كے وقت سے اس كا نيا سال شمار نہيں كيا جائے گا، بلكہ اس مال كے سال پر ہى سال مكمل كيا جائے گا جس سے وہ سامان خريدا گيا ہے.

مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 32715 ) كا جواب ديكھيں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments