6974: موت کے بعد اٹھنا


کیا موت کے بعد انسان کسی اور شکل میں قیامت کے لۓ دوبارہ پیدا ہو گا ؟

Published Date: 2004-09-24

الحمد للہ :

جب ابن آدم فوت ہو جاتا ہے تو اس کا جسم تحلیل ہو جاتا ہے سوآئے اس چھوٹی سی ریڑھ کی ہڈی کے جو کہ اس کی پیٹھ کے سب سے نیچے ہوتی ہے ۔

تو جب قیامت قائم ہو گی تو اللہ تعالی زمین پر بارش سے جسموں کو اگائے گا تو جسم اس ہڈی سے اگیں گے اور انسان کی دوبارہ پیدائش ہو گی جس طرح کہ وہ موت سے قبل تھا ۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (دونوں صوروں کی پھونک کے درمیان چالیس کا وقفہ ہے ۔ راوی کہتے ہیں کہ چالیس دن ؟ انہوں نے کہا میں اس کا انکار کرتا ہوں راوی کہتے ہیں کہ چالیس مہینے ؟ انہوں نے کہا میں اس کا انکار کرتا ہوں راوی کہتے ہیں کہ چالیس سال؟ انہوں نے کہا : میں اس کا انکار کرتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اللہ تعالی آسمان سے پانی (بارش ) نازل فرمآئے گا تو وہ اس طرح اگیں گے جس طرح کہ سبزی اگتی ہے سوآئے ایک ہڈی کے انسان کی ہر چیز بوسیدہ ہو جائے گی اور وہ ریڑھ کی ہڈی میں سب سے چھوٹی اور نچلی ہے تو اس سے قیامت کے دن مخلوق کی ترکیب ہو گی )

صحیح بخاری حدیث نمبر (4651) صحیح مسلم حدیث نمبر (2955)

امام نووی اس کی شرح میں فرماتے ہیں :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان :

( دونوں صوروں کی پھونک کے درمیان چالیس کا وقفہ ہے شاگرد کہنے لگے اے ابو ہریرہ چالیس دن ؟ انہوں نے کہا میں اس کا انکار کرتا ہوں حدیث کے آخر تک ) اس کے معنی یہ ہے کہ میں یقینی طور پر کہنے سے انکار کرتا ہوں کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال ہوں گے بلکہ یہ یقینی چیز ہے وہ یہ کہ اس چالیس کو مجمل ہی رہنے دیا جائے اور مسلم کے علاوہ دوسری روایات میں اس کی تفسیر آئی ہے کہ اس سے مراد چالیس سال ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ( عجب الذنب ) یہ عین پر فتحہ (زبر) اور جیم پر سکون (جزم ) کے ساتھ ہے یعنی وہ پتلی اور چھوٹی سی ہڈی جو کہ پیٹھ میں سب سے نیچے ہوتی ہے اور وہ دم کی اصل اور اسے ( عجم ) میم کے ساتھ دم کی جڑ کہا جاتا ہے جو کہ انسان میں سب سے پہلے پیدا ہوتی ہے اور یہی باقی رہے گی تا کہ دوبارہ اس کی پیدائش کی جا ۓ ۔ مسلم کی شرح شرح المسلم (18 /92)

تو جب اپنی قبر سے نکل کر اکٹھا ہونے کے بعد حساب وکتاب ہو جائے گا تو اسی طرح اس کا جسم باقی رہے گا جس طرح کہ موت سے پہلے تھا تو جب جنتی جنت اور جہنمی جہنم میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ تعالی ان کی شکلوں اور صورتوں کو بدل دے گا ۔

جہنمیوں کی صفات :

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( کافر کے دونوں کندھوں کے درمیان تیز چلنے والے سوار کے تین دن کی مسافت کا فاصلہ ہو گا ) صحیح بخاری حدیث نمبر (6186) صحیح مسلم حدیث نمبر (2852)

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( کافر کی داڑھ – یا کچلی والا دانت ) احد پہاڑ کی مانند ہو گا اور اس کے چمڑے کی موٹائی تین کی مسافت ہو گی ) صحیح مسلم حدیث نمبر (2851)

جنتیوں کی صفات :

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( جنت میں سب سے پہلا گروہ اسی شکل میں داخل ہو گا جس طرح کہ چودھویں رات کا چاند ہو پھر ان کے بعد اس ستارے کی مانند جو کہ آسمان میں سب سے زيادہ چمکدار اور روشن زیادہ ہے وہ نہ تو پیشاب کریں گے اور نہ ہی پاخانہ اور نہ ہی تھوکیں اور نہ ہی انہیں ناک آئے گا ان کی کنگھیاں سونے اور پسینے کی خوشبو مسک کستوری کی اور ان کی انگیٹھیوں میں اگر کی لکڑی ایک خوشبو دار لکڑی جلتی ہو گی اور ان کی بیویاں حور العین ہوں گی ان کی پیدائش ایک آدمی کی پیدائش ان کے باپ کی صورت پر آسمان میں ساٹھ ہاتھ ہو گی )

صحیح بخاری حدیث نمبر (3149) صحیح مسلم حدیث نمبر (2834)

رشحہم : ان کا پسینہ ۔

مجامرہم : ان کے خوشبو کے دھونی دھان ۔

الالوۃ الالنجوج : یہ ایسی لکڑی ہے کہ جس سے خوشبو دار دھونی لی جائے ۔

النجوج الالوہ کی تفسیر ہے اور عود الطیب تفسیر کی تفسیر ہے فتح الباری میں اسی طرح ہے ۔ (6 / 367)

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( جنتی جنت میں ننگے اور بغير داڑھی اور آنکھوں میں سرمہ ڈالا ہوا اور تیس اور تینتیس سال کی عمر کی حالت میں داخل ہوں گے ) سنن ترمذی حدیث نمبر (2545)

اسے علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الجامع (8072) میں صحیح کہا ہے ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments