69811: اگر کفار نئے سال کی مبارکباد دیں تو اس کا جواب دینا چاہیے؟


جس وقت کفار مجھے نئے سال کی مبارکباد دیتے ہوئے کہہ دیں: "نیا سال مبارک ہو" یا یہ کہیں کہ: "نیک تمناؤں کے ساتھ" تو کیا میں کفار کو یہ کہہ سکتا ہوں کہ "آپ کیلیے بھی یہی تمنا"؟

Published Date: 2016-12-30

الحمد للہ:

کفار کو کرسمس  یا نئے سال کے جشن یا کسی بھی ان کے دینی تہوار کی مبارکباد دینا جائز نہیں ہے، اسی طرح اگر وہ ہمیں اپنے تہواروں کی مبارکباد دیں تو ان کا جواب دینا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ یہ تہوار ہماری شریعت میں جائز نہیں ہیں اور ان کی مبارکبادی کا جواب دینے سے ان کے اس غیر شرعی عمل کا اعتراف اور اقرار لازم آتا ہے، اس لیے مسلمان کو اپنے دین پر فخر کرنا چاہیے، شرعی احکامات  پر عمل کو اپنے لیے اعزاز سمجھے، اور دوسروں کو دینِ الہی کی تبلیغ کرے۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے کرسمس پر کفار کو مبارکباد دینے کے متعلق پوچھا گیا کہ اگر وہ ہمیں کرسمس کی مبارکباد دیں تو ہم اس کا جواب کیسے دیں؟ کیا ہم کرسمس کی مناسبت سے منعقد کی جانے والی تقریبات میں شرکت کر سکتے ہیں؟ اور اگر مذکورہ چیزوں میں سے کوئی چیز غیر ارادی طور پر کر لے تو کیا اسے گناہ بھی ہو گا؟ کیونکہ اس نے  یہ کام مجاملت ، شرما شرمی یا مروت یا اسی طرح کے دیگر اسباب کی وجہ سے کیا ہے، تو کیا ایسی صورت میں ان کی مشابہت کرنا جائز ہے؟

تو انہوں نے جواب دیا:

"سب علمائے کرام  کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کرسمس یا کفار کے دیگر مذہبی تہواروں پر مبارکباد دینا حرام ہے، جیسے کہ ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب " أحكام أهل الذمة " میں نقل کیا ہے، آپ کہتے ہیں:

"کفریہ شعائر پر تہنیت دینا حرام ہے، اور اس پر سب کا اتفاق ہے، مثال کے طور پر انکے تہواروں اور روزوں کے بارے میں مبارکباد دیتے ہوئے کہنا: "آپکو عید مبارک ہو" یا  کہنا "اس عید پر آپ خوش رہیں" وغیرہ، اس طرح کی مبارکباد دینے والا اگرچہ کفر سے تو بچ جائے گا لیکن یہ کام حرام ضرور ہے، بالکل اسی طرح حرام ہے جیسے صلیب کو سجدہ کرنے پر اُسے مبارکباد دی جائے، بلکہ یہ اللہ کے ہاں شراب نوشی ، قتل اور زنا وغیرہ سے بھی بڑا گناہ ہے، بہت سے ایسے لوگ جن کے ہاں دین کی کوئی وقعت ہی نہیں ہے ان کے ہاں اس قسم کے واقعات رونما ہوتے ہیں، اور انہیں احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ کتنا برا کام کر رہا ہے، چنانچہ جس شخص نے بھی کسی کو گناہ، بدعت، یا کفریہ کام پر مبارکباد دی وہ یقیناً اللہ کی ناراضگی مول لے رہا ہے" ابن قیم رحمہ اللہ کی گفتگو مکمل ہوئی۔

اس بنا پر کفار کو انکے مذہبی تہواروں میں مبارکباد دینا حرام ہے، اور حرمت  کی شدت ابن قیم رحمہ اللہ نے ذکر کر دی ہے، -حرام اس لئے ہے کہ- اس میں انکے کفریہ اعمال کا اقرار شامل ہے، اور کفار کیلئے اس عمل پر اظہار رضا مندی بھی ، اگرچہ مبارکباد دینے والا اس کفریہ کام کو اپنے لئے جائز نہیں سمجھتا ، لیکن پھر بھی ایک مسلمان کیلئے حرام ہے کہ وہ کفریہ شعائر پر اظہار رضا مندی کرے یا کسی کو ان کاموں پر مبارکباد دے، کیونکہ اللہ تعالی نے اپنے بندوں کیلئے اس عمل کو قطعی طور پر پسند نہیں کیا، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے:

(إِنْ تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ وَلَا يَرْضَى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ وَإِنْ تَشْكُرُوا يَرْضَهُ لَكُمْ)

ترجمہ: اگر تم کفر کرو تو بیشک اللہ تعالی تمہارا محتاج نہیں، اور (حقیقت یہ ہے کہ)وہ اپنے بندوں کیلئے کفر پسند نہیں کرتا، اور اگر تم اسکا شکر ادا کرو تو یہ تمہارے لئے اس کے ہاں پسندیدہ عمل ہے۔ [الزمر:7]

اسی طرح فرمایا:

(اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمْ الْإِسْلَامَ دِينًا)

ترجمہ: آج میں نے تمہارے لئے دین کو مکمل کر دیا ، اور تم پر اپنی نعمتیں مکمل کر دیں، اور تمہارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کر لیا۔ [المائدة:3]

لہذا کفار کو مبارکباد دینا حرام ہے، چاہے کوئی آپ کا ملازمت کا ساتھی ہو یا کوئی اور ۔

اور اگر وہ ہمیں اپنے تہواروں پر مبارکباد دیں تو ہم اسکا جواب نہیں دینگے، کیونکہ یہ ہمارے تہوار نہیں ہیں، اور اس لئے بھی کہ ان تہواروں کو اللہ تعالی پسند نہیں کرتا، کیونکہ یا تو یہ تہوار ان کے مذہب میں خود ساختہ ہیں یا پھر انکے دین میں تو شامل ہیں لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ساری مخلوق کیلئے نازل ہونے والے اسلام نے انکی حیثیت کو منسوخ کردیا ہے، اور اسی بارے میں فرمایا:

(وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنْ الْخَاسِرِينَ)

ترجمہ: اور جو شخص بھی اسلام کے علاوہ کوئی دین تلاش کریگا ؛ اسے کسی صورت میں قبول نہیں کیا جائے گا، اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔[آل عمران:85]

چنانچہ ایک مسلمان کیلئے اس قسم کی تقاریب پر انکی دعوت قبول کرنا حرام ہے، کیونکہ انکی تقریب میں شامل ہونا  اُنہیں مبارکباد دینے سے بھی بڑا گناہ ہے۔

اسی طرح مسلمانوں کیلئے یہ بھی حرام ہے کہ وہ ان تہواروں پر کفار سے مشابہت کرتے ہوئے تقاریب کا اہتمام کریں، یا تحائف کا تبادلہ کریں، یا مٹھائیاں تقسیم کریں، یا کھانے کی ڈشیں بنائیں، یا عام تعطیل کا اہتمام کریں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جو جس قوم کی مشابہت اختیار کریگا وہ اُنہی میں سے ہے)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنی کتاب( اقتضاء الصراط المستقيم، مخالفة أصحاب الجحيم ) میں کہتے ہیں:

"کفار کے چند ایک تہواروں میں ہی مشابہت  سے باطل پر ہون کے باوجود ان کے دلوں میں مسرت پیدا ہوتی ہے، اور بسا اوقات ہو سکتا ہے کہ اسکی وجہ سے ااس فرصت سے فائدہ اٹھانے  اور کمزور ایمان لوگوں کو پھسلانے کا موقع مل جائے" انتہی

مذکورہ بالا کاموں میں سے جس نے بھی کوئی کام کیا وہ گناہ گار ہے، چاہے اس نے مجاملت کرتے ہوئے، یا دلی محبت کی وجہ سے ، یا حیا کرتے ہوئے یا کسی بھی سبب سے کیا ہو، اسکے گناہ گار ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس نے دین الہی کے بارے میں بلا وجہ نرمی سے کام لیا ہے، جو کہ کفار کیلیے نفسیاتی قوت اور دینی فخر کا باعث بنا ہے۔

اور اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مسلمانوں کی اپنے دین کی وجہ سے عزت افزائی فرمائے، اور انہیں اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق دے، اور انہیں اپنے دشمنوں پر غلبہ عطا فرمائے، بیشک وہ طاقتور اور غالب ہے۔

مجموع فتاوى و رسائل شیخ ابن عثیمین(3/369 )

واللہ اعلم.

اسلام سوال و جواب
Create Comments