69917: قربانى كا جانور گر گيا اور مرنے سے قبل اسے ذبح كر ليا گيا تو كيا يہ قربانى شمار ہو جائےگى؟


ہمارے گھر كى چھت سے قربانى كا جانور نيچے گر كيا تو گھر والوں نے مرنے سے قبل اسے ذبح كر ليا، كيا يہ جائز ہے ؟

Published Date: 2007-12-23

الحمد للہ :

اول:

آپ كے سوال سےظاہر يہ ہوتا ہے كہ آپ لوگوں نے جانور نماز عيد سے قبل ذبح كيا ہے، اگر تو معاملہ ايسے ہى ہے تو يہ قربانى نہيں ہوگى، كيونكہ قربانى كے ليے شرط يہ ہے كہ وہ قربانى كے ايام اور وقت ميں ذبح كى جائے، اور وہ عيد كا دن اور اس كے بعد تين دن ہيں.

جندب بن سفيان رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ ميں عيد الاضحى كى نماز ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ حاضر ہوا، جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نماز عيد پڑھا لى تو ايك ذبح شدہ بكرى ديكھى تو نبى صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے بھى نماز عيد سے قبل بكرى ذبح كى وہ اس كى جگہ اور بكرى ذبح كرے، اور جس نے ذبح نہيں كى وہ اللہ تعالى كا نام لے كر ذبح كرے"

صحيح بخارى حديث نمبر ( 942 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1960 ).

تو اس بنا پر اگر يہ جانور قربانى كا تھا تو اس كے بدلے اور ذبح كرنا ہو گا.

ليكن اگر آپ نے قربانى كے وقت ميں جانور ذبح كيا اور اسے قربانى كى نيت سے خريدا تھا تو يہ كفائت كر جائےگا، اور قربانى شمار ہوگى، چاہے چھت سے گرنے كے باعث اس كى ہڈى وغيرہ بھى ٹوٹ گئى ہو، مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے سوال نمبر ( 39191 ) كا جواب ضرورى ديكھيں.

دوم:

اور آپ كا اس جانور كو ذبح كرنا صحيح ہے يا نہيں؟ اس كے متعلق گزارش ہے كہ اگر تو آپ نے اسے مرنے سے قبل ذبح كيا ہے تو صحيح ہے.

اللہ سبحانہ وتعالى نے گلا گھٹنے اور كسى ضرب سے ( جو كوئى پتھر يا لوہے وغيرہ كى ضرب سے مرے ) اور اونچى جگہ سے گرنے والے ( جيسا كہ آپ كے ذبح كردہ جانور كے ساتھ ہوا ) اور جسے درندے چيڑ پھاڑ ڈاليں اور وہ مر جائے تو ان سب كو اللہ تعالى حرام قرار ديا ہے.

ليكن اگر ان جانوروں كو مرنے سے قبل ہى شرعى طور پر ذبح كر ليا جائے تو وہ حلال ہونگے.

فرمان بارى تعالى ہے:

﴿ تم پر مردار، اورخون، اور خنزير كا گوشت، اور جس پر اللہ تعالى علاوہ كسى اور كا نام ليا گيا ہو، اور جو گلا گھٹنے سے مرا ہو، اور جو كسى ضرب سے مر گيا ہو، اور جو اونچى جگہ سے گر كر مرا ہو، اور جو كسى سينگ مارنے سے مرا ہو، اور جسے كسى درندے نے پھاڑ كھايا ہو حرام كر ديا گيا ہے، ليكن جسے تم ذبح كر ڈالو تو وہ حرام نہيں ہے﴾ المآئدۃ ( 3 ).

ابن كثير رحمہ اللہ تعالى اس آيت كى تفسير ميں كہتے ہيں:

قولہ تعالى:

﴿ مگر جسے تم ذبح كر ڈالو ﴾. اس ميں ضمير اس طرف لوٹ رہى جس جانور ميں موت كا سبب پايا گيا اور اس كى زندگى ختم ہونے سے قبل اسے ذبح كر ليا گيا تو اس كى طرف لوٹےگى، اور يہ ضمير اس طرف لوٹ رہى ہے:

﴿ اور گلا گھٹنے سے مرنے والا، اور ضرب لگنے سے مرنے والا، اور اونچى جگہ سے گر كر مرنے والا، اور كسى كے سينگ مارنے سے مرنے والا اور جسے درندے چير پھاڑ ديں﴾ .

ديكھيں: تفسير ابن كثير ( 2 / 11 - 12 ).

كعب بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ ان كى ايك لونڈى سلع ( مدينہ ميں ايك پہاڑ ہے ) ميں بكرياں چرا رہى تھى اس نے ايك بكرى كو موت كى كشمش ميں ديكھا تو ايك پتھر توڑ كر بكرى ذبح كردى، تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے كہا اسے نہ كھاؤ حتى كہ ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے اس كے متعلق دريافت نہ كر لوں، انہوں نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے دريافت كيا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں كھانے كا حكم ديا"

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2181 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments