7030: ضرورت كے وقت ويزا كارڈ كا استعمال


مجھے علم ہے كہ ( ويزا كارڈ ) اور اس طرح كى دوسرى اشياء جس كا اكاونٹ ہوتا ہے سود شمار ہوتى ہيں، ليكن جس كارڈ كا بيلنس ( مبلغ ) ہر ماہ ادا كر ديا جاتا ہو اور اس كا كوئى فائدہ ( سود ) نہ ہو تو كيا وہ بھى سود شمار ہو گا ؟

Published Date: 2005-03-30

الحمد للہ :

اس سے پہلے بھى يہ سوال نمبر ( 3402 ) ميں ہو چكا ہے جس ميں دريافت كيا گيا تھا كہ:

" ويزا كارڈ سودى شرائط پر مشتمل ہوتا ہے، اگر ادائيگى ميں تاخير ہو جائے تو مجھ پر انہوں نے جرمانہ ركھا ہے، ليكن امريكہ ميں ميں جس جگہ رہائش پذير ہوں وہاں ميرے ليے كارڈ كے بغير گاڑى كرايہ پر حاصل كرنا ممكن ہى نہيں، اور نہ ہى كو جگہ كرايہ پر حاصل كرسكتا ہوں، اور اسى طرح بہت سے عمومى امور بھى ويزا كارڈ كے بغير نہيں كيے جاسكتے، اور اگر ميں اس كے ساتھ لين دين نہيں كرتا تو ميرے ليے بہت زيادہ حرج اور مشكلات پيش آتى ہيں جنہيں برداشت كرنے كى طاقت نہيں ركھتا، تو كيا ميرا وقت محدد ميں ادائيگى پر التزام كرنا تا كہ ميں سود نہ ميں پڑوں ميرے ليے اس كارڈ كے ساتھ لين دين كو مباح كرتا ہے تا كہ اس حرج كو ختم كيا جاسكے جس ميں ميں رہتا ہوں؟

تو شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

اگر تو حرج كا يقين ہو اور وقت مقررہ كے اندر ادائيگى سے تاخير كا احتمال بالكل ضعيف اور كمزور اور نہ ہونے كے برابر ہو تو مجھے اميد ہے كہ اس ميں كوئي حرج نہيں.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كى كلام ختم ہوئى.

لہذا اس جواب ميں دو شرطيں نظر آتى ہيں جو كہ يہ ہيں:

حرج كى موجودگى، يہ كہ اسے استعمال كيے بغير كوئى چارہ اور خلاصى نہيں.

دوسرى: ادائيكى كا التزام كرنا اور اس ميں تاخير نہ كرنا.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments