76418: اولاد پر تركہ تقسيم كرنے كى كيفيت


باپ فوت ہوا اور اس نے اپنے نام ايك گھر تركہ ميں چھوڑا، اور ايك بيٹے نے ايك پلاٹ پر مكمل گھر تعمير كيا اور اس كى تعمير ميں كوئى اور بيٹا شريك نہ ہوا، حالانكہ وہ زندہ ہيں، يہ علم ميں رہے كہ خاوند سے قبل بيوى بھى فوت ہو چكى ہے، اور دادا اور نانا بھى والدين سے بہت عرصہ قبل فوت ہو چكے ہيں، اب ہم درج ذيل ورثاء تركہ كى تقسيم كرنا چاہتے ہيں: تين عدد بيٹے
دو عدد بيٹياں.
ان ميں تركہ كى تقسيم كيسے ہوگى ؟

Published Date: 2007-06-16

الحمد للہ:

والد اور والدہ نے جو ممتلكات ( گھر وغيرہ ) تركہ ميں چھوڑى ہيں وہ آپ ميں شرعى تقسيم كے مطابق تقسيم ہونگے، اور بيٹے كو دو بيٹيوں كے برابر حصہ ملےگا.

تو اس طرح تركہ كو آٹھ برابر حصوں ميں تقسيم كيا جائيگا، اور اس ميں سے ہر بيٹے كو دو حصے، اور ہر بيٹى كو ايك حصہ ديا جائيگا، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

﴿ اللہ تعالى تمہيں تمہارى اولاد كے بارہ ميں حكم كرتا ہے كہ لڑكے كو دو لڑكيوں كے برابر ديا جائے ﴾النساء ( 11 ).

اور رہا وہ گھر جو آپ كے بھائى نے پلاٹ پر تعمير كيا ہے، اگر تو اس نے وہ گھر آپ كے ليے بطور ہديہ تعمير كيا ہے تو وہ تمہارے ليے ہے، اور اگر اس نے اپنا ملكيتى مكان تعمير كيا ہے تو پھر وہ اس كى ملكيت ہے، ليكن پلاٹ اسى طرح رہےگا اور اسے آپ سب ميں تقسيم كيا جائيگا جيسا كہ بيان ہو چكا ہے كہ لڑكے كو دو لڑكيوں كے برابر ديا جائيگا.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments