81977: کفار کو ان کے تہوار کے دنوں میں کسی بھی جملے کے ساتھ مبارکباد دینا جائز نہیں ہے۔


ایسے کھانا (مثلاً: چاول، یا گوشت، یا مرغی یا کیک وغیرہ)کھانے کا کیا حکم ہے جو ہمیں ہمارے کسی عیسائی دوست کی جانب سے دیا گیا ہو اور وہ کھانا اس کی سالگرہ پر بنایا گیا ہو یا کرسمس کے موقع پر، یا نئے سال کے جشن کے موقع پر۔ اور آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے کہ انہیں مبارکباد دیتے ہوئے ہر سال آپ خیریت سے رہیں کہنے کی بجائے یہ کہہ دیا جائے کہ ان شاء اللہ اس سال آپ مسلسل کامیابیاں پائیں ؟

Published Date: 2016-12-28

الحمد للہ:

مسلمان یہودیوں اور عیسائیوں کی جانب سے ان کے تہواروں میں تیار کیا جانے والا کھانا مت کھائیں، یا جو کھانا ان کے تہوار کے دنوں میں تحفہ دیا جائے  اسے بھی مت تناول کریں؛ کیونکہ ایسا کھانا کھانے سے  [اس تہوار کے کامیاب انعقاد پر  ]ان کا تعاون ہو گا،  بلکہ ایک اعتبار سے ان کے اس تہوار میں شرکت بھی تصور ہو گی، جیسے کہ سوال نمبر: (13666) کے جواب میں تفصیلی طور پر گزر چکا ہے۔

اسی طرح ان کے تہوار کے دن انہیں مبارکباد دینا بھی جائز نہیں ہے، چاہے اس کیلیے مبارکبادی کا کوئی بھی جملہ یا لفظ استعمال کریں؛ کیونکہ اس طرح ان کے تہوار کو تسلیم کرنا لازم آتا ہے اور کفار کو ان کے غلط تہوار سے روک نہیں پائے گا، اسی طرح مبارکباد دینے سے کفریہ شعائر کے انعقاد  اور اس کی ترویج میں تعاون بھی ہو گا نیز ان کے خود ساختہ تہوار کے دن ان کے ساتھ شرکت بھی ہوگی؛ نیز ان کے یہ تہوار غلط نظریات پر قائم ہیں جو کہ اسلام میں قطعاً درست نہیں ہیں۔

مزید کیلیے آپ سوال نمبر: (47322) کا مطالعہ کریں۔

واللہ اعلم.

اسلام سوال و جواب
Create Comments