en

82183: تعزيت كے آنے والوں كو وعظ و نصيحت كرنا


كيا كسى عالم دين كے ليے جائز ہے كہ وہ ميت كے گھر آكر اس كے اہل و عيال كو صبر كى نصحيت كرے، اور انہيں اس ياد دلائے كہ دنيا فانى ہے اور صبر كے فوائد بيان كرتے ہوئے انہيں تسلى دے تا كہ تعزيت كى مجلس جنت كے باغوں ميں سے ايك باغ بن جائے ؟

Published Date: 2007-03-23

الحمد للہ:

يہ سنت نہيں كہ كوئى واعظ تعزيت كى مجلس ميں آئے تا كہ ميت كے اہل و عيال كو وعظ و نصيحت كرے اور حاضرين سنيں، بلكہ تعزيت كے ليے اجتماع كرنا مكروہ ہے، جيسا كہ بہت سے علماء كرام نے بيان بھى كيا ہے، بلكہ بعض علماء كرام نے تو اسے بدعت قرار ديا ہے، اس ليے ہم اپنے مسلمان بھائيوں سےگزارش كرتے ہيں كہ وہ ايسا مت كريں، يعنى وہ تعزيت كى مجالس قائم كر كے آنے والوں كا استقبال نہ كريں.

اول:

كيونكہ يہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا طريقہ نہيں، اور نہ ہى صحابہ كرام كا طريقہ ہے.

دوم:

يہ مجالس جن كا دروازہ لوگوں نے كھول ركھا ہے گويا كہ زبان حال سے كہہ رہى ہيں: لوگو ميرے پاس آ كر تعزيت كرو مجھے مصيبت آئى ہے اور كسى بھى عقل مند كو يہ معاملہ زيب نہيں ديتا، بلكہ مصيبت زدہ انسان لوگوں كو زبان حال يا زبان مقال سے ميرى تعزيت كرو كہے بغير صبر و تحمل سے كام لينا چاہيے.

سوم:

بعض لوگوں نے تو ان مجالس ميں مبالغہ كرنا شروع كر ديا ہے حتى كہ وہ يہ مجالس اس طرح قائم كرنے لگے ہيں گويا كہ يہ كوئى شادى بياہ كى محفل كا انعقاد كر رہے ہيں، لوگ بعض علاقوں سے گزرتے ہيں تو وہاں برقى قمقوں سے سجے كچھ گھر نظر آتے ہيں، اور ان كے دروازے كھلے ہوئے ہيں، وہاں يا تو ريت بچھى ہوتى ہے يا پھر كرسياں لگى ہوتى ہيں، اور كوئى شخص وہاں داخل ہو رہا ہے اور كوئى باہر نكل رہا ہے، گويا كہ كوئى محفل عروسى قائم ہو.

بلا شك يہ سنت نہيں، بلكہ قطعى طور پر خلاف سنت ہے، بلكہ لوگ ان امور كا احساس ظاہرى اور بدنى طور پر بھى كرنے لگے ہيں، اور وہ صرف ان مظاہر كے ساتھ اپنے آپ كو تسلى و تشفى دينا چاہتے ہيں، نہ كہ اجروثواب چاہتے ہوئے اور صبر و تحمل كر كے، كيونكہ يہ تو صرف جسمانى طور پر ظاہرى خوشى و سرور سے تعبير كيا جاتا ہے.

ليكن اگر گھر اسى طرح رہے جس طرح تھا اور گھر والے ايك دوسرے كو صبر و تحمل كى نصيحت كريں، اور ايك دوسرے كو صبر پر ابھاريں تو يہى سنت ہے، اسى ليے جب جعفر بن ابى طالب رضى اللہ تعالى عنہ كى قتل ہونے كى خبر آئى تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا تھا:

" آل جعفر ( رضى اللہ عنہ ) كے ليے كھانا تيار كرو، كيونكہ انہيں ايسى خبر ملى ہے جس نے انہيں مشغول كر ديا ہے "

يعنى كھانا پكانے سے انہيں مشغول كر ديا ہے اور انہيں كھانا پكانے كا ہوش نہيں، كيونكہ نفس جہاں بھى پہنچ جائيں ايسى خبريں انہيں مكدر كر ديتى ہيں، اور خاص كر جب كوئى عظيم المرتبت كى مصيبت پہنچے، ليكن لوگوں كا جمع ہونا اور كھانے كى ديگيں تيار كرنا اور ان كى طرف بھيجنا، يا پھر گھر والے خود تيار كريں، ايسا كرنا صحيح نہيں، كيونكہ صحابہ كرام رضوان اللہ عليہم اجمعين كھانا تيار كرنے، اور لوگوں كے جمع ہونے كو نوحہ شمار كرتے تھے.

اس ليے ہم اپنے بھائيوں سے گزارش كرتے ہيں كہ: اپنے آپ سے اس بوجھ كو ہلكا كريں، اور اس طرح كے كاموں ميں اتنا تكلف نہ كريں جو آپ كو بدعت كى طرف لے جانے كا باعث بنيں جو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں معروف نہ تھے، اور نہ ہى صحابہ كرام كے دور ميں، ہم يہ بات كہہ رہے اور ہم اسے يہ بات كہتے ہيں اور اسے بھى كہتے ہيں جس نے اسے سنا ہے:

اگر آپ كے پاس اس كى تائيد ميں سنت رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميں سے كوئى دليل ہے تو ہميں بھى بتائيں، ہم اس پر آپ كے شكرگزار ہونگے، اور اللہ كے حكم سے ان شاء اللہ ہم بھى اس كى پيروى كرينگے، ليكن اگر آپ كے پاس كوئى دليل نہ ہو تو پھر آپ ايسا نيا كام كيوں كرتے ہيں جو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نہيں كيا اور نہ ہى صحابہ كرام نے اس پر عمل كيا ؟

كيا آپ نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان نہيں سنا:

" تم ميرى سنت اور طريقہ اور ميرے بعد خلفاء راشدين كے طريقہ پر عمل كرو، اور اسے كو مظبوطى سے تھامے ركھو، اور نئے نئے امور اور كاموں سے اجتناب كرو اور بچو " ؟

پھر ہم كہينگے: تم كسى بھى عالم دين كو دعوت مت دو كہ وہ ميت كے گھر والوں كى مجلس ميں آ كر تقرير كرے، بلكہ جب ہم ديكھيں كہ كسى شخص كو غم اور تكليف اور مصيبت پہنچى ہے تو ہم اس خاندان كے كسى ايك فرد كے پاس جا كر، يا كوئى معروف عالم دين آكر اس سے مجلس ميں عام كلام كرے اور جس طرح تعزيت كى جاتى ہے وہى كلمات كہے: اللہ كا تقوى اختيار كرو، اور صبر و تحمل سے كام لو، " فان للہ ما اخذ، و لہ ما بقى، و كل شيى عندہ باجل مسمى "

جو اللہ نے لے ليا وہ بھى اللہ كا تھا، اور جو باقى ہے وہ بھى اسى كا، اور اس كے پاس ہر چيز كا ايك وقت مقرر ہے، يہ چيز آسمان و زمين پيدا ہونے سے پچاس ہزار برس قبل لكھى جا چكى تھى، اور جو لكھا جا چكا ہے وہ ضرور ہوگا.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" يہ جان لو كہ جو تجھے پہنچنے والى ہے وہ تجھ سے خطاء نہيں كريگى، اور جو تجھ سے خطاء كر گئى وہ تجھے پہنچنے والى نہيں "

غم و حزن اور رونے ميں آپ كا تشدد كرنا اس مصيبت ميں سے كوئى كمى نہيں كريگا، بلكہ اس ميں شدت ہى پيدا ہوگى، كيا آپ كو علم نہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" بلا شبہ ميت كے اہل و عيال كے رونے سے ميت كو عذاب ديا جاتا ہے "

اس ليے انسان كو عام اور عادى حالت ميں آكر مصيبت زدہ شخص سے اس مصيبت كے متعلق بات چيت كرنى اور اسے تسلى دينى اور اس كے ساتھ تعزيت كرنى، اور اس پر اس بوجھ كو ہلكا كرنا چاہيے، ليكن اس كے ليے اجتماع كرنا، اور وہاں واعظ كو تقرير كے ليے بلانا، اور اس طرح كے كام كرنا يہ سب بدعت ميں شمار ہوتے ہيں " انتہى .

فضيلۃ الشيخ محمد صالح العثيمين
ماخوذ از: نور على الدرب
Create Comments