8231: ميت كے پيٹ پر قرآن مجيد ركھنا، اور كيا تعزيت كے ليے مدت محدود ہے ؟


ميت پر قرآن مجيد كى تلاوت كرنے اور قرآن اس كے پيٹ پر ركھنے كا حكم كيا ہے، اور كيا تعزيت كے ليے كچھ ايام متعين ہيں، كہا جاتا ہے كہ اس كے ليے صرف تين دن ہيں، برائے مہربانى معلومات فراہم كريں، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

Published Date: 2006-08-09

الحمد للہ :

ميت يا قبر قرآن مجيد پڑھنے كى كوئى صحيح دليل نہيں ملتى، اور نہ ہى يہ مشروع ہے بلكہ ايسا كرنا بدعت ہے، اور اسى طرح ميت كے پيٹ پر قرآن مجيد ركھنے كى بھى كوئى دليل نہيں، اور نہ ہى ايسا كرنا مشروع ہے، بلكہ بعض اہل علم نے يہ بيان كيا ہے كہ فوت ہونے كے بعد ميت كے پيٹ پر لوہا يا كوئى اور بھارى چيز ركھى جائے تا كہ اس كا پيٹ نہ پھولے.

اور تعزيت كے ليے دن محدود نہيں بلكہ روح قبض ہوتے ہى تعزيت مشروع ہے، نماز جنازہ سے قبل اور بعد ميں بھى تعزيت كى جا سكتى ہے، اور شريعت مطہرہ ميں اس كى انتہاء ميں كوئى حد مقرر نہيں ہے، چاہے رات ہو يا دن اور چاہے تعزيت گھر ميں كى جائے يا راستے ميں يا پھر مسجد ميں يا قبرستان كے اندر ہى يا كسى اور جگہ.

اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے .

مجموع فتاوى و مقالات متنوعۃ فضيلۃ الشيخ عبد العزيز بن عبد اللہ بن باز رحمہ اللہ تعالى ( 8 / 362 ).
Create Comments