84982: محرم عورتوں سے زنا كا جرم اور گناہ زيادہ شديد ہے


محرم عورت سے زنا كى حد كيا ہے، اور كيا اس سے توبہ ممكن ہے ؟

Published Date: 2007-07-21

الحمد للہ:

اول:

محرم عوتوں سے زنا كرنا غير محرم عورتوں كے ساتھ زنا سے زيادہ گناہ ہے، كيونكہ اس ميں قطع رحمى، اور صلہ رحمى پر زيادتى و اذيت ہے كيونكہ صلہ رحمى كرنے كا حكم ديا گيا ہے نہ قطع رحمى.

بعض علماء كرام تو كہتے ہيں كہ محرم عورت كے ساتھ زنا كا ارتكاب كرنے والے كو مطلقا قتل كيا جائيگا، چاہے وہ شادى شدہ ہو يا غير شادى شدہ، يہ امام احمد كى ايك روايت ہے.

اور جمہور علماء كرام كہتے ہيں كہ اسے زنا كى حد لگائى جائيگى، تو اس طرح شادى شدہ كو رجم كيا جائيگا، اور غير شادى شدہ كو ايك سو كوڑے مارے جائينگے، چاہے يہ گناہ كے اعتبار سے زيادہ ہے.

اور مطالب اولى النھى ميں درج ہے:

" زنا كے متعلق احاديث كے عموم كى بنا پر اپنى محرم عورت مثلا بہن كے ساتھ زنا كرنے والا كسى عام عورت كے ساتھ زنا كرنے والے كى طرح ہى ہے، اور اس سے يعنى امام احمد رحمہ اللہ سے روايت ہے كہ: ہر حال ميں محرم عورت كے ساتھ زنا كرنے والے كو قتل كيا جائيگا، يعنى شادى شدہ ہو يا غير شادى شدہ.

امام احمد رحمہ اللہ سے كہا گيا: تو عورت كے متعلق كيا ہے ؟ تو امام احمد رحمہ اللہ نے كہا: دونوں ايك ہى معنى ميں ہيں.

اور مذہب وہى ہے جو اوپر بيان ہو چكا ہے ( يعنى محرم كے ساتھ زنا كرنا دوسرى عورت كى طرح ہى ہے ) . انتہى.

ديكھيں: اولى النھى ( 6 / 181 ).

اور ابن قيم رحمہ اللہ تعالى ماں، بيٹى اور بہن كے ساتھ وطئى كرنے كے متعلق كہتے ہيں:

" بلا شبہ اس سے طبعى طور پر مكمل نفرت ہے، باوجود اس كے كہ ايك قول كے مطابق اس ميں حد زيادہ شديد ہے، كہ اسے ہر حالت ميں قتل ہى كيا جائيگا، چاہے وہ شادى شدہ ہو يا غير شادى شدہ، امام احمد كى دو روايتوں ميں سے ايك روايت يہى ہے، اور اسحاق بن راھويہ اور اہل حديث ميں سے ايك جماعت كا بھى قول يہى ہے.

اور ابو داود رحمہ اللہ نے براء بن عازب رضى اللہ تعالى عنہ سے حديث روايت كى ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ:

" ميں اپنے چچا كو ملا تو انہوں نے جھنڈا اٹھا ركھا تھا، ميں نے انہيں كہا:

كہا كا ارادہ ہے ؟

تو وہ كہنے لگے: مجھے رسو كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايك ايسے شخص كى گردن اڑانے اور اس كا مال لينے كے ليے بھيجا ہے جس نے اپنے والد كى بيوى سے نكاح كر ليا ہے "

علامہ البانى رحمہ اللہ نے ارواء الغليل حديث نمبر ( 2351 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور سنن ابو داود اور ابن ماجہ ميں ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جو شخص اپنى محرم عورت سے زنا كرے اسے قتل كر دو "

علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے ضعيف الجامع حديث نمبر ( 5524 ) ميں اسے ضعيف قرار ديا ہے.

.... مسلمان اس پر متفق ہيں كہ جس نے بھى اپنى محرم عورت كے ساتھ زنا كرے تو اس پر حد جارى ہوگى، صرف حد لگانے كے طريقہ ميں اختلاف ہے كہ آيا ہر حالت ميں قتل كيا جائيگا يا كہ زنا كى حد لگائى جائيگى ؟

اس ميں دو قول ہيں:

امام شافعى امام مالك كا مسلك، اور امام احمد كى ايك روايت يہ ہے كہ اس كى حد زنا كى حد ہے.

اور امام احمد اور اسحاق اور اہل حديث كى ايك جماعت كا قول يہ ہے كہ اس حد ہر حال ميں قتل ہے " انتہى.

ماخوذ از: الجواب الكافى صفحہ نمبر ( 270 )مختصرا.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ محرم عورت كے ساتھ زنا كرنے والے كو ہر حال ميں قتل كرنے والا قول اختيار ہے.

ان كا كہنا ہے:

" مولف كى ظاہر كلام يہ ہے كہ: محرم اور غير محرم عورت كے ساتھ زنا كرنے ميں كوئى فرق نہيں ليكن محرم عورت كے ساتھ زنا كى حد ميں ہر حالت ميں اسے قتل كيا جائيگا، كيونكہ اس ميں صحيح حديث وارد ہے، ابن قيم رحمہ اللہ نے اپنى كتاب " الجواب الكافى " ميں يہ اختيار كيا ہے كہ جو محرم عورت سے زنا كرے اسے ہر حالت ميں قتل كيا جائيگا.

مثلا: اگر اس نے اپنى بہن سے زنا كيا ( اللہ محفوظ ركھے ) يا اپنى پھوپھى، يا خالہ، يا ساس، يا اپنى اس بيوى كى بيٹى سے جس كے ساتھ دخول كيا ہو، يا اس كے مشابہ تو اسے ہر حال ميں قتل كيا جائيگا؛ كيونكہ يہ شرمگاہ كسى بھى حالت ميں حلال نہيں، كيونكہ يہ اس كى محرم ميں سے ہے، اور اس ليے بھى كہ يہ عظيم فحش كام ہے.

محرم عورت كے ساتھ زنا كرنے والے كو قتل كرنے ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ايك صحيح حديث وارد ہے، اور امام احمد سے ايك روايت بھى يہى ہے، اور صحيح يہى ہے كہ جو شخص اپنى محرم عورت كے ساتھ زنا كرے اسے قتل كيا جائيگا، چاہے وہ غير شادى شدہ ہى ہو " انتہى.

ديكھيں: الشرح الممتع ( 6 / 132 ) طبع ھجر.

اور الموسوعۃ الفقھيۃ ميں درج ہے:

" زنا مصدر كى بنا پر زنا كا گناہ مختلف اور اس كا جرم بڑا ہو جاتا ہے چنانچہ محرم يا شادى شدہ عورت سے زنا كرنا ايك اجنبى اور عام عورت يا خاوند كے بغير عورت سے زنا كرنے سے زيادہ بڑا جرم ہے، كيونكہ اس ميں خاوند كى حرمت كو پامال كرنا، اور اس كے بستر كو پراگندہ كرنا، اور اس سے ايسا نسب معلق كرنا ہے جو اس كے ساتھ تعلق نہيں ركھتا، اور اس كے علاوہ بھى كئى ايك اذيتيں ہيں.

تو خاوند كے بغير اور ايك اجنبى عورت كے ساتھ كرنے سے يہ زيادہ بڑا جرم ہے، اور اگر اس كا خاوند پڑوسى ہو تو اس كے ساتھ پڑوس كا گناہ ميں مل جائيگا، اور پڑوسى كو سب سے بڑى اذيت سے دوچار كرنا بھى ہے جو كہ سب سے بڑى اور غلط حركت ہے.

اور اگر وہ پڑوسى بھائى بھى ہو، يا پھر قريبى رشتہ دار تو اس ميں قطع رحمى كے گناہ كا بھى اضافہ ہو جائيگا.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے صحيح حديث ميں ثابت ہے كہ:

" وہ شخص جنت ميں داخل نہيں ہو گا جس كا پڑوسى اس كى شرارتوں سے محفوظ نہ رہتا ہو "

اور پڑوسى كى بيوى كے ساتھ زنا كرنے سے بڑھ كر كوئى بڑى اذيت اور مصيبت نہيں، اور اگر پڑوسى اللہ تعالى كى اطاعت و عبادت يا طلب علم اور جھاد كے سلسلہ ميں گھر سے باہر گيا ہو تو پھر گناہ اور بھى زيادہ ہو جاتا ہے، حتى كہ فى سبيل اللہ جہاد ميں گئے ہوئے شخص كى بيوى سے زنا كرنے والے شخص كو قيامت كے روز كھڑا كيا جائيگا اور مجاہد اس كے عمل ميں سے جو چاہے لے لےگا.

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" مجاہدين كى بيويوں كى حرمت گھر بيٹھے ہوئے اشخاص كے ليے اسى طرح ہے جس طرح ان كى ماؤں كى حرمت ہے، اور جہاد سے پيچھے رہنے والوں ميں جو شخص بھى كسى مجاہد كے گھر والوں كى ديكھ بھال كرتا، اور اس ميں خيانت كا مرتكب ہو تو روز قيامت اسے كھڑا كر كے اس كے اعمال سے جو چاہے لے لے گا، تو تمہارا كيا خيال ہے ؟ "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1897 ).

يعنى آپ كا كيا خيال ہے كہ آيا وہ اس كى كوئى نيكى چھوڑے گا ؟ يہ فيصلہ اس وقت كا ہے جب اسے ايك نيكى كى بھى شديد ضرورت ہو گى تو جو چاہے وہ اس كى اعمال ميں سے لے سكتا ہے.

اور اگر اتفاقا وہ عورت اس كى رشتہ دار بھى ہو تو اس ميں قطع رحمى كا گناہ بھى شامل ہو جائيگا، اور اگر وہ زانى شادى شدہ بھى ہو تو پھر اس كا گناہ اور بھى زيادہ ہے، اور اگر بوڑھا ہو تو پھر اس كى سزا اور گناہ اور بھى زيادہ ہے، اور اگر وہ زنا حرمت والے مہينہ يا حرمت والے شہر ميں كيا گيا ہو تو اس كا گناہ اور بھى بڑھ جائيگا، يا ان اوقات ميں كيا گيا ہو جو اوقات اللہ تعالى كے ہاں بہت زيادہ عظمت والے ہيں، مثلا نمازوں كے اوقات يا قبوليت كے اوقات تو اس كا گناہ اور بھى زيادہ ہو جائيگا " انتہى.

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 24 / 20 ).

دوم:

جو شخص بھى اس بيمارى اور گناہ ميں مبتلا ہو جائے اسى جتنى جلدى ہو سكے اس سے توبہ كرلينى چاہيے، كيونكہ ہر گناہ سے توبہ كرنا صحيح ہے، چاہے وہ گناہ كتنا بھى بڑا اور عظيم ہى كيوں نہ ہو.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ كيا انہيں معلوم نہيں كہ يقينا اللہ تعالى ہى اپنے بندوں كى توبہ قبول كرنے والا ہے، اور صدقات ليتا ہے، اور يقينا اللہ تعالى ہى توبہ قبول كرنے والا اور رحم كرنے والا ہے ﴾التوبۃ ( 104 ).

اور ايك مقام پر اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان اس طرح ہے:

﴿ اور وہ لوگ جو اللہ تعالى كے ساتھ كسى اور كو الہ نہيں بناتے اور نہ ہى وہ اللہ تعالى كے حرام كردہ كسى نفس كو ناحق قتل كرتے ہيں، اور نہ ہى زنا كا ارتكاب كرتے ہيں، اور جو كوئى يہ كام كرے وہ گنہگار ہے، اسے روز قيامت ڈبل عذاب ديا جائيگا، اور وہ ذليل ہو كر اس ميں ہميشہ رہے گا، ليكن جو شخص توبہ كر لے اور ايمان لے آئے اور اعمال صالحہ كرے، تو يہى وہ لوگ ہيں اللہ تعالى جن كى برائيوں كو نيكيوں ميں بدل ديتے ہيں، اور اللہ تعالى بخشنے والا رحم كرنے والا ہے ﴾الفرقان ( 68 - 70 ).

اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:

﴿ اور يقينا بلا شبہ ميں اس شخص كو بخشنے والا ہوں جو توبہ كر كے ايمان لے آتا ہے، اور نيك و صالح اعمال كرتا ہے، اور پھر ہدايت پر آجاتا ہے ﴾طہ ( 82 ).

اس آيت ميں اس بات كى طرف راہنمائى كى گئى ہے كہ توبہ كرنے والے شخص كو اعمال صالحہ كثرت كے ساتھ كرنے چاہيں، اور وہ ہدايت كى راہ پر چلے، اور گمراہى كے اسباب سے دور رہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments