87496: كسى شخص كا اپنى منگيتر سے كہنا كہ اپنى شادى ميرے ساتھ كر دو شادى شمار نہيں ہوگى


ميں نے دو برس قبل ايك لڑكى سے منگنى كى اسع رصہ ميں ہمارے مابين اسى اشياء ہوتى رہيں جو شادى كے مشابہ ہيں، ليكن زنا نہيں ہوا، ميں جانتا ہوں كہ يہ اشياء بھى زنا كے مراتب ميں شمار ہوتى ہيں.
ميں نے اپنى منگيتر سے كہا كيا تم ميرے ساتھ اللہ اور اس كے رسول كے طريقہ پر شادى كرتى ہو ؟ تو اس نے جواب ميں جى ہاں كہا، ميں اور وہ بھى اللہ اور سب مسلمانوں كوگواہ بنا كركہتا ہوں كہ وہ ميرى بيوى ہے، ليكن گواہوں كے بغير ميرا سوال يہ ہے كہ جو كچھ ہمارے مابين ہوا ہے كيا يہ شادى شمار ہو گى يا نہيں تا كہ يہ حرام شمار نہ ہو اور رسمى طور پر شادى ہو جائے ؟

Published Date: 2013-06-27

الحمد للہ:

اول:

لڑكا اپنى منگيتر كے اجنبى ہے، اس ليے منگيتر سے مصافحہ كرنا اور اسے چھونا اور اس سے خلوت كرنا جائز نہيں ان امور كى حرمت كےدلائل بھى كسى مسلمان پر مخفى نہيں ہيں، مزيد تفصيل اور دلائل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 84089 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

آپ دونوں نے ايسے كام سرانجام ديے ہيں جو حرام تھے ان سے توبہ كرتے ہوئے ان امور كو فورى طور پر چھوڑنا اور اپنے كيے پر نادم ہونا اور آئندہ نہ كرنے كا پختہ عزم كرنا ضرورى و واجب ہے.

اس كے ساتھ ساتھ آپ دونوں كو ايسے اسباب اور اس كے پيش خيمہ امور سے بھى دور رہنا ہوگا، مثلا آپس ميں ٹيلى فونك رابطہ يا خط و كتابت وغيرہ جب تك نكاح نہ ہو جائے آپ اس سے اجتناب كريں.

منگنى كے دوران اكثر لوگوں كا ان امور ميں تساہل سے كام لينا بہت برائى ہے جو اس سے بھى آگے قبيح كام تك لے جاتى ہے.

ذر غور كريں كہ شيطان كس طرح آدمى سے كھيلتا اور اس سے اپنى منگيتر كے ساتھ زنا كرواتا ہے، انا للہ و انا اليہ راجعون.

اور پھر ذر سوچيں كہ جو شادى حرام كام سے شروع ہو اور جس كى بنياد ہى حرام پر ركھى جائے اس كى حالت اور نتيجہ كيا ہوگا اور اس سے كيا اميديں وابستہ كى جائيں گى!

دوم:

آپ كا اپنى منگيتر كو يہ كہنا " اللہ اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كے طريقہ پر اپنى شادى ميرے ساتھ كر دو"

اور منگيتر كا جواب: اثبات ميں دينا شادى شمار نہيں ہوگا، اور شريعت اسلاميہ كى نظر ميں اس جملہ كى كوئى قدر و قيمت نہيں، اس ليے جو كچھ ہوا نہ تو وہ مباح ہے، اور نہ ہى جو آئندہ آئيگا وہ مباح ہے.

بلكہ يہ تو شيطان كےمزين كردہ امور ميں شامل ہوتا ہے جو اس نے دينى معاملات كى تعليم سے اعراض كرنے والوں كے ليے مزين كر ركھا ہے، اگر يہى شادى كہلاتى تو پھر كوئى زانى مرد و عورت بھى ايسا كرنے سے عاجز نہ ہوتے بلكہ ايسا كرتے!

اور پھر اس وقت تك عقد نكاح صحيح ہى نہيں ہوتا جب تك كہ عورت كا ولى موجود نہ ہو اور اس كى موافقت حاصل نہ ہو؛ كيونكہ احاديث سے يہى ثابت ہوتا ہے:

ابو موسى اشعرى رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ولى كے بغير نكاح نہيں ہوتا "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 1101 ) سنن ابو داود حديث نمبر ( 2085 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 1881 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ترمذى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور ايك حديث ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان كچھ اس طرح ہے:

" جس عورت نے بھى اپنے ولى كى اجازت كے بغير اپنا نكاح كيا تو اس كا نكاح باطل ہے، اس كا نكاح باطل ہے، اس كا نكاح باطل ہے "

مسند احمد حديث نمبر ( 24417 ) سنن ابو داود حديث نمبر ( 2083 ) سنن ترمذى حديث نمبر ( 1102 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح الجامع حديث نمبر ( 2709 ) ميںاسے صحيح قرار ديا ہے.

اور پھر اللہ سبحانہ و تعالى نے نكاح كو ميثاق غليظ پختہ عہد كا نام ديا ہے، يہ كوئى كھيل نہيں كہ آدمى اپنے دوستوں كےساتھ يہ كھيل كھيلتا پھرے، اور جس عورت نے اپنى عزت بيچى اور اپنى عصمت سے زيادتى كى ہو اس كےساتھ شادى پر جسے چاہے گواہ بنا كر پيش كر دے.

اور پھر جب اس سے اپنى خواہش پورى كر لے تواس عورت كو اپنى حالت پر چھوڑ دے، اور وہ عورت كچھ بھى نہ كر سكے، نہ تو وہ خرچ اور نان و نفقہ كا مطالبہ كر سكتى ہے اور نہ ہى كوئى كچھ اور بلكہ اگر وہ بچہ جنم دے تو وہى شخص سب سے پہلے اس بچے سے برات كا اظہار كرنے والا ہوگا كيونكہ وہ نہيں جانتا كہ اس عورت نے اسى غلط طريقہ سے كسى دوسرے شخص سے بھى نكاح كر ركھا ہو؟

لہذا يہ چيز اس بات كى دليل ہے كہ ارتكاب زنا كے ليے يہ حيلہ سازى ہے كہ شادى كا نام دے كر زنا كا ارتكاب كيا جائے، بہت افسوس ہے كہ اس طرح كى اشياء مسلمانوں ميں منتشر ہو رہى ہيں، اللہ اس سے محفوظ ركھے.

پھر آخر ميں ہم سائل سے يہ چاہيں گے كہ آپ ذرا اپنے آپ سے يہ تو دريافت كريں كہ:

اگر يہى لڑگى آپ كى بہن ہوتى يعنى اگر آپ كى بہن يا بيٹى ايسا كرتى تو كيا آپ راضى تھے كہ اس كا منگيتر بھى اس كے ساتھ ايسا ہى كرتا ؟!

اگر آپ يہ چيز اپنى بہن اور بيٹى كے ليے نہيں چاہتے تو پھر لوگ بھى اپنى بہنوں اور بيٹيوں كے ساتھ ايسا پسند نہيں كرتے.

لہذا آپ اللہ سبحانہ و تعالى كا تقوى اور ڈر اختيار كرتے ہوئے اس گناہ سے فورا رك جائيں،اور مستقبل ميں اپنى بيوى بننے والى عورت كى حفاظت كريں.

اور پھر آپ كو جلد از جلد شادى كرلينے چاہيے تا كہ آپ اس طرح كے حرام كام ميں پڑنے سے محفوظ رہ سكيں.

اللہ سبحانہ و تعالى سے دعا ہے كہ وہ سب كو ايسے اعمال كرنے كى توفيق نصيب فرمائے جنہيں وہ پسند فرماتا اور جن پر راضى ہوتا ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments